سرینگر//کھادی اینڈ ولیج انڈسٹرئز بورڈ کی وائس چیئرپرسن ڈاکٹر حنا بٹ نے کہا کہ’’ ایم ایس ایم ای‘‘ ترقی کے انجن کامضبوط ستون ہے جبکہ کمزور طبقوں کی سماجی و معاشی ترقی میںاس کا انوکھا کردار ہے۔کے وی آئی بی کے زیر اہتمام ہفتہ بھرکی نمائش کی اختتامی تقریب کے دوران موجود دیگر شہریوں کے علاوہ افسروں اور اہلکاروں سمیت تاجروں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بڈگام میںڈاکٹر حنا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوستان کی حکومت کی سرپرستی میں ایم ایس ایم ای دیگر اہم شعبوں کے مقابلے میں بے روزگار اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن کر ابھری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 5 کروڑ کاروباری افراد ایم ایس ایم ای کے پرچم بردار پروگراموں میں شامل ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ معاشی منظرنامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ، فی الحال مرکزی حکومت نے متحدہ اقدامات کے لئے کوئی اہداف طے نہیں کئے ہیں جو دلچسپی رکھنے والے تاجروں کو اپنے چھوٹی اکائیوںکے قیام کیلئے وسیع مواقع فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا ’’ کے وی آئی بی ‘‘نے 50 لاکھ روپے فراہم کئے ڈی بی ٹی موڈ میں مستفید افراد کو آر ای جی پی کے تحت 140 کروڑ روپے فراہم کیں۔وی سی نے کہا کہ حکومت کمزورطبقوں کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کر رہی ہے اور این ایس ایس ایچ بھی اسی کوشش کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ این ایس ایس ایچ نے‘‘ ایس سی ، ایس ٹی اور ایم ایس ایم ای یونٹ ہولڈرز کے مابین ایک’’ ونڈو‘‘ مہیا کی ہے تاکہ وہ اپنی مصنوعات کو منافع بخش نرخوں پر نمائش اور فروخت کرسکیں۔اے ڈی سی بڈگام ڈاکٹر ناصر احمد جو بطور مہمان خصوصی تھے ، نے کہا کہ اس طرح کی آگاہی مستحق اورکمزور طبقے میں انتہائی مطلوبہ شعور پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد اور ایس سی اور ایس ٹی کاریگروں کو معاونت فراہم کرنے پر ’’ کے وی آئی بی‘‘کا شکریہ ادا کیا۔اس سے قبل ڈاکٹر حنا کے ساتھ اے ڈی سی بڈگام ، سکریٹری کے وی آئی بی اور دیگر افسران نے اسٹالوں کا دورہ کیا اور اسٹال ہولڈرز سے بات چیت کی جنہوں نے نمائش میں اسٹال لگائے تھے۔اختتام پر ، وی سی نے اے ڈی سی بڈگام اور دیگر کی موجودگی میں بہت سارے اسٹال ہولڈرز میں اعزازی اسناد اور دیگر یادداشتیں تقسیم کیں۔