اشرف چراغ
کپوارہ//ضلع صدر مقام کپوارہ سے 48کلومیٹر کے فاصلے پر بڈنمبل حد متارکہ کے نزدیک ایک دلکش اور پر فضا سرحدی گائوں ہے جہاں راجماش اور آلو کی بہترین اقسام پیداہوتی ہیں۔ گھنے جنگلات اور بلند و بالا پہاڑوں میں گھرے اس دور افتادہ گائوں نے ان دو فصلوں سے اپنی شناخت بنائی ہے جو اس کی ثقافت اور معیشت دونوں کی وضاحت کرتی ہیں۔لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے قریب واقع گائوں 5,000سے زیادہ رہائشیوں کا مسکن ہے ۔بڈنمل کی منفرد شناخت ، زرخیز مٹی اور روایتی کیمیکل سے پاک کاشتکاری کے طریقے اسے ضلع کے دیگر علاقوں سے مختلف بناتے ہیں۔ گائوں کا سرخ راجماش بھرپور خوشبو اور نرم ساخت کی وجہ سے ممتاز ہے، پورے ضلع میں اور یہاں تک کہ وادی کشمیر کے دیگر حصوں میں خاص طور پر سردیوں کے دوران بہت زیادہ مانگ میں رہتا ہے۔ بڈنمل کے آلو قدرتی طور پر پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور ان کے غیر معمولی ذائقے اور متاثر کن شیلف لائف کی وجہ سے اسے پسند کیا جاتا ہے، جو اکثر سردیوں کے سخت ترین مہینوں میں بغیر کسی خرابی کے گزرتے ہیں ،اس آلو کو بہترین بیج کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راجماش اور آلو دیگر زرعی پیداوار سے زیادہ ہیں اور بڈنمل کی مٹی روح کی نمائندگی کرتی ہے۔ مقامی کسان محمد مقبول نے کہا’’یہاں اگائی جانے والی سرخ پھلیاں (راجماش)معیار کے لحاظ سے بے مثال ہیں جو انہیں خاص اور مہنگی بناتی ہیں۔ یہاں کے آلو کبھی خراب نہیں ہوتے، یہاں تک کہ سخت ترین سردیوں کے مہینوں میں بھی’محفوظ‘ رہتے ہیں ۔ بڈنمل میں آلو کی کاشت جون میں بیج بونے کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور مہینوں کی محنت کے بعد ستمبر ،اکتوبر میں فصل تیار ہوتی ہے۔ بڈنمل کی انوکھی بات یہ ہے کہ یہاں کے کسان کیمیکل وغیرہ کا سہارا نہیں لیتے۔ علاقے کے ایک اور کسان فیاض احمد نے کہا’’کشمیر کے دوسرے حصوں کے لوگ بڈنمل کے راجماش اور آلو کو ان کی پاکیزگی اور ذائقے کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ ہم جو کچھ بھی اگاتے ہیں وہ قدرتی ہے‘‘۔بڈنمل میں 400 کنال سے زیادہ اراضی آلو اور راجما ش کی کاشت کیلئے وقف کر دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا’’پہاڑی علاقوں اور موسمی حالات کی وجہ سے ہمارے علاقے میں چاول نہیں اگائے جاتے، راجماش اور آلو ہمارے لیے ذریعہ معاش کا واحد ذریعہ ہے‘‘۔آلو اور راجماش کی کٹائی کے دوران، کپوارہ، بارہمولہ، سوپور اور دیگر قصبوں سے لوگ اور تاجر براہ راست کسانوں سے پیداوار خریدنے کیلئے یہاں پہنچتے ہیں۔ آلو کا 50 کلو کا تھیلا 1,200 اور 1,500کے درمیان فروخت ہوتا ہے جبکہ ایک کلو گرام راجماش سال بھر میں تقریباً 300میں ملتا ہے۔ مانگ مسلسل زیادہ رہتی ہے، خاص طور پر سردیوں میں جب پورے کشمیرمیں غذائیت سے بھرپور غذائوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جو ٹھنڈے حالات میں اچھی طرح سے ذخیرہ کرتے ہیں۔ گزشتہ چھ دہائیوں سے آلو کی کاشت کرنے والے ایک بزرگ کسان محمد مقبول نے کہا کہ بڈنمل کے قدرتی حالات اور کاشتکاری کی روایات دونوں فصلوں کو منفرد بناتی ہے۔ انہوں نے کہا’’ہمیں آلو اور راجماش کی کاشت کا عمل اپنے آبا واجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں کی مٹی میں برکت ہے۔ یہاں جو کچھ بھی اگتا ہے وہ خاص ہے‘‘۔ان کی لگن کے باوجود، بڈنمل کے کسان خود کو نظر انداز کر رہے ہیں کیونکہ محکمہ زراعت کی طرف سے کوئی مدد فراہم نہیں کی جا تی ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ محکمہ زراعت کے اعلیٰ حکام نے انہیںیقین دلایا تھا کہ یہاں کے آلو اور رجماش کو منڈیوںتک لے جانے میں ان کی مددکی جائے گی لیکن دو سال گزر گئے ان کی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا گیااور یہاں کے کسان بہترین مارکیٹینگ کی تلاش میں ہیں ۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ حکام کو بڈنمل کی زرعی صلاحیت کو پہچاننا چاہئے اور یہاں کے کسانوں کو ضروری مدد فراہم کرنی چاہئے۔