اولاد اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ہر شادی شدہ جوڑے کی خواہش رہتی ہے کہ اللہ ان کا دامن خوشیوں سے بھر دے اور یہ اس عظیم دولت سے مالا مال ہوجائے ۔اولاد کی خوشی نصیب ہونے کے بعد ہر والدین کی چاہت رہتی ہے کہ ان کا بچہ اچھی اور اعلی تربیت حاصل کرکے زندگی میں بہترین کامیابیاں حاصل کرکے ان کا نام روشن کردے جوکہ واقعی ایک محنت طلب مسئلہ ہے اور حقایق کی روشنی میں اگر دیکھا جاے تو زندگی کی سب سے بہترین انویسٹمنٹ بھی یہی ہے، جس کا اجر وفیض والدین کو بعد از مرگ بھی ملتا رہتا ہے۔ اس تعلق سے کہنا مناسب رہے گا کہ بچوں کی تربیت کرنا ہر دور میں اپنے اپنے تقاضوں کے مطابق دلچسپ عمل رہنے کے ساتھ ساتھ مشکل کام بھی گردانا گیا ہے۔ ہر دور کے اپنے اصول وضوابط طے پائےگئے ہیں۔ اپنی عملی زندگی کے مطابق،پیشہ وارانہ ضرورت نیز سماجی اقدار یا قایم شدہ ویلیوز کی بنیاد پر جہاں زندگی کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے اپنی مکمل زندگی کا خاکہ ترتیب دیکر ہر نفس اپنی ذات کے لیے اپنے عزیزوں خاص کر اپنے نونہال شاہینوں کی ترتیب کے روا اصول قایم کر جاتے ہیں اور ان تمام بنیادی پرنسپلز کو اپنا کر بچوں کی ذہنی،جسمانی ،روحانی یا یوں کہیں کہ انسان کی ہمہ جہت تربیت کو فروغ بخشا جاتا ہے ۔اس تعلق سے ماہرین نفسیات نے تجربات کی بنیادوں پر بہت سارے نظریات یاتھیوریاں رقم کی ہیں، جن میں رہنما خطوط مقرر کیے گیے ہیں۔ انھیں اصولوں کی بنیاد پر بچوں کے سکولی نصاب کاتعین عمل میں لایا جاتا ہے ۔ہمارے معاشرے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ گھر میں موجود عورتیں خاص کر ہماری مائیں گھروں میں رہ کر کیا کرتیں ہیں، صرف بچوں کو ہی تو پالتی ہے ،اس پالنے کے لفظ کو محدود لبادوں میں بند کرکے ہم نہ خود سے انصاف روا رکھتے ہیں ،نہ اپنی بیویوں اور ماؤوں کی محنت کو اکنالج کرتے ہیں اور نہ ہی بچوں کی سوچ نیز تربیت میں یہ بات بٹھاتے ہیں کہ اصلی تربیت کی آماجگاہ تمہاری ماں ہے۔ دوستو یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ واقعی بچوں کی تربیت مشکل کام ہے ،وہ کام جس میں اگر معمولی لیت و لعل سے کام لیا گیا تو نسلوں کی نسلیں برباد ہوجائیں گی اور ہمارے ہاتھ میں سب کچھ ہونے کے باجود بھی کچھ نہیں رہے گا۔ گھر میں موجود خواتین کی اس محنت شاقہ اور ان جذبوں کو سلام پیش کرنا بے حد ضروری ہے، جس سے وہ بچوں کو سنبھالتے ہیں نیز انکی تربیت کرتی رہتی ہیں۔ یقین مانئے، اگر انکی اس محنت کا اعتراف بصد خلوص کیا جائے تو اس عمل میں زیادہ لچک پیدا ہوسکتی ہے۔ حقیقت میں بچوں کی تربیت یا ان کو پالنے کا عمل نہایت دل گردے کا کام ہے۔ حق تو یہ ہے کہ مائیں یہ کام خوشی خوشی کرتی ہیں اور زبان پر اُف تک نہیں لاتی ۔
عہد جدید میں روایتی دور کے مقابلے میں نونہالوں کی تربیت کرنا ایک چلینجنگ کام مانا جاتا ہے کیونکہ ہر شے پر صارفیت کی مہر ثبت ہے اور انسانی میموری یا یاداشت نیز روز مرہ معمولات پر اب ڈیجیٹل میڑیا کا کنٹرول بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ اب کے دور میں ایک انسان اپنی میموری استعمال نہیں کرپاتاہے ،اپنے دماغ سے سوچنا اور اسی بنیاد پر فیصلے لینا انسانی تہذیب کے لیے لازمی مانا جاتا تھا لیکن اب ہم اس طرح سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں کہ ہمیں اب آگے کیا کرنا ہے یہ ہمیں سوشل میڈیا کی مختلف رابطہ گاہیں سمجھاتی ہے اور عین مطابق اسی کی ایما پر ہمیں چلنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ یہ ضرورت سے زیادہ سوشل میڈیا کا استعمال اب ہماری خاطر نیز ہمارے بچوں کے لیے وبال جان ثابت ہوچکا ہے ۔دن رات بچے ویڈیوگیمز ،پپ جی اور اسی طرح کی مختف ڈیجیٹل گیمز کے ساتھ بری طرح سے جڑ چکے بلکہ پھنس چکے ہیں۔ بات یہی پر ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ چھوٹے بچوں نے اپنا کھانا پینا اب ویڈیو گیمز کے ساتھ مشروط بنایا ہے جو کہ کسی بھی صورت میں خوش آیند قدم نہیں ۔اس اعتبار سے کہنا مناسب رہے گا کہ یہ تباہی و بربادی کی پہلی منزل ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ان حالات میں فوری طور بچوں پر رعب جمانا بھی عقلمندی نہیں ہے گویا مشکل گھڑی ضرور ہے مگر ناممکنات میں بھی شامل نہیں ہے۔ مسایل کو اُلجھانے کے بجاے سلجھانے کی ضرورت ہے، جس کو صلاح مشورے اور پیار و محبت سے سلجھایا جا سکتا ہے ۔
جس مسابقتی دور سے ہم گزر رہے ہیں اس اعتبار سے دورِ حاضر کے والدین کے لیے یہ ایک اہم خوشی تصور کی جانی چاہئے کہ آجکل کے بچے سوالات زیادہ استفسار کرتے رہتے ہیں۔ بات بات پر سوال پوچھنا ، سوال میں سے سوال نکالنا ،جواب کے اندر سے نیا سوال پیدا کرنا نیز اسی نوعیت کے دیگر استفسارات کرنا دراصل بچوں کے ذہین ہونے کی علامت ہے۔ ماہرین نفسیات اور علما کا ماننا ہے کہ اگر بچہ سوال پوچھتا ہے تو اس کا سالم اور درست جواب دیکر اس کو سمجھانے کی کوشش کرو ،یا مزید وضاحت دیکر اس کا سوال حل کرو نہ کہ ٹال دینا چاہئے یاپیٹنا چاہئے۔ چھوٹی عمر میں اگر بچہ سوال کرتا ہے تو جان لینا چاہے کہ اس میں وجہ تلاشنے کی صلاحیت موجود ہے جو اس کی قابلیت کا بھر پور ثبوت۔ یہ بھی مان کے چلنا چاہئے کہ آپ کا بچہ ساینٹفک مزاج کا مالک ہے ، جو ہر شئے کو حقیقی صورتحال کی بنیاد پر پرکھنے کی اہلیت رکھتا ہے بقول شاعر ؎
جگنوئوں کو دن میں پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگے ہیں
جس دور میں ہم اور اپ بچے ہوا کرتے تھے یا اس سے قبل جب بھی بچہ سوال کرتا تھا تو اس سے معیوب مانا جاتا تھا بعضے پٹائی بھی کی جاتی تھی جو صحیح تربیت کے لیے سم قاتل والا معاملہ ہوتا تھا، اسی وجہ سے بچوں میں خود اعتمادی ،فیصلہ سازی کی کمی پائی جاتی نیز قوت ممیز میں بھی کافی فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ واضع رہے اب کے ٹیکنالوجی گجیٹس کے استعمال سے بچوں میں زبان سیکھنے کا عمل بھی قدرے بہتر ہوچکا ہے اگر اپ اپنے ننے منھے کی زبان صحیح کرنا چاہتے ہیں، اس کی بہتر ذہنی افزایش کے خواہش مند ہے ،اس میں کمپیوٹر سیکھنے کا ہنر پیدا کرنا چاہتے ہیں ،اس میں ساینٹفک ٹیمپر ڈیولپ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ ایسے ان لاین اور سماجی رابطہ گاہیں نیز یوٹیوب چینلز بھی دستیاب ہیں، جن میں کھیل کھیل میں علوم ،زبان سکھائی جا سکتی ہے ۔
یہ امر قابل غور ہے کہ ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ جسمانی فٹنس کا خیال رکھنا بھی ملزوم ہے تاکہ بچوں کی اوور ال ڈیولپمنٹ یا سالم بالیدگی عمل میں لائی جاسکے ۔ آج کے دور میں جہاں انسانی آبادی گھروں کی چار دیواری میں مقیدہوچکی ہے خاص طور سے کرونا کی وبائی صورت حال کی وجہ سے تو ان حالات میں بچوں کی جسمانی صحت اور انکی سماجی رابطہ کاری پر بھی برے اثرات مرتب ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے جہاں گھر کے بڑے بزرگ خواتین و حضرات نفسیاتی سطح پر ڈپریشن نیز ذہنی امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں وہی چھوٹے بچے بھی ان جیسے مسایل سے دوچار ہیں ان حالات سے نمٹنے کے لیے جسمانی ورزش کی بے حد ضرورت ہے ،جنھیں گھر کے اندر ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے اپنے اپنے حدود کے مطابق اہتمامات کیے جاسکتے ہیں ۔