جنیوا/ نئی دہلی// عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ چھاتی سے دودھ پلانے سے کورونا انفیکشن کا خطرہ نہیں ہے ۔ اس لئے کووڈ۔ 19 متاثرہ خواتین بھی بچوں کو اپنا دودھ پلا سکتی ہیں۔ڈبلیو ایچ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر تیردوس گیبریئس نے کووڈ۔ 19 پر معمول کی پریس بریفنگ کے دوران جمعہ کے روز کہا کہ کووڈ۔ 19 سے متاثر یا ماثر ہونے کے شبے پر بھی بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے لئے ماؤں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔ جب تک ماں بہت زیادہ بیمار نہ ہو بچے کو اس سے الگ نہیں کیا جانا چاہئے ۔تنظیم میں زچہ، بچہ اور بچوں کی صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انشو بنرجی نے کہا کہ دودھ پلانے سے کورونا کے انفیکشن کے ابھی تک کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘‘ماں کے دودھ میں ہمیں اب تک زندہ وائرس نہیں ملے ۔ ماں کے دودھ میں کووڈ۔ 19 وائرس کے آر این اے کے حصے ملے ہیں لیکن زندہ وائرس نہیں ملے ۔ اس لئے ماں سے بچے کو کورونا انفیکشن ہونے کا اب تک کوئی ثبوچ نہیں ملا ہے ’’۔ڈاکٹر تیردوس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے دودھ پلانے کے دوران ماں سے بچوں کو کووڈ۔ 19 ہونے کے خطرے کا احتیاط سے تجزیہ کیا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ بچوں میں کووڈ۔ 19 کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ کچھ ایسی دیگر بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جنہیں دودھ پلانے سے روکا جاسکتا ہے ۔ موجودہ شواہد کی بنیاد پر ڈبلیو ایچ او کی صلاح ہے کہ دودھ پلانے سے کووڈ۔ 19 ہونے کے خطرے کے مقابلے میں اس کے فوائد کہیں زیادہ ہیں۔