پرویز احمد
سرینگر // کمپٹرولر جنر ل آف انڈیا (سی اے جی) کی جانب سے جاری رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ صحت و طبی تعلیم نے سال 2024-25کے دوران سرکار کی جانب سے ہسپتالوں میں طبی آلات کی خریداری اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کیلئے منظور کئے گئے 2094.77کروڑ روپے صرف نہیں کئے گئے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 8333.45کروڑ روپے واگذار کئے گئے جن میں صرف 6238.68 کروڑ خرچ ہوئے۔ CAGنے دوسری رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں مختلف طبی اداروں کیلئے مختلف سکیموں کے تحت بنیادی ڈھانچی اور طبی آلات کیلئے منظور کئے گئے 818.32کروڑ روپے میں کچھ بھی صرف نہیں کیا گیاہے۔ رپورٹ کے مطابق ان 818.32 کروڑ روپے میں نیشنل رورل ہیلتھ میشن کے تحت منظور کئے گئے 501کروڑ، گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں پوسٹ یجویٹ سیٹوں کی تعداد 400تک پہنچانے کیلئے منظور کئے گئے 70 کروڑ، گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور دیگر کورسزمیں سیٹوں کے اضافہ کیلئے 60کروڑ روپے، نئے میڈیکل کالجوں میں بنیادی ڈھانچہ کیلئے منظور کئے گئے 8.76کروڑ روپے، آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹریکچرمشن کے تحت منظور کئے گئے 67.66 کروڑ روپے، نیشنل میٹنل ہیلتھ پروگرام کے تحت بنیادی ڈھانچے کئے گئے 1کروڑ 16لاکھ، ڈرگ اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنازیشن میں بنیادی ڈھانچہ اور آلات کیلئے 10کروڑ روپے، آیوشمان بھارت کے تحت طبی آلات کیلئے 63.44کروڑ روپے، انڈین سسٹم آف میڈیسن کیلئے 6کروڑ رپے، نیشنل ہیلتھ مشن میں طبی آلات کیلئے 16.66لاکھ روپے، مختلف نرسنگ سکولوں میں اے این ایم،ایل ایچ ویز اور اے ایم ٹی طلبہ و طالبات کی تربیت کیلئے منظورشدہ 3کروڑ 60لاکھ اور سٹیٹ ڈرگ کنٹرولنگ اتھارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے1کروڑ 10لاکھ، نشہ مکت بھارت کے تحت جانکاری کیمپوں کے انعقاد کیلئے 1کروڑ10لاکھ اور ایڈز کنٹرول سوسائٹی کو منظور کرنے کیلئے 7کروڑ روپے کی رقم شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ہسپتالوں میں طبی آلات غیر استعمال شدہ ہیں۔ کچھ مراکز میں مناسب عملہ اور ضروری خدمات کی کمی ہے، جس سے ان کی آپریشنل کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ کئی جگہوں پر طبی آلات غیر استعمال شدہ یا کم استعمال ہوئے ہیں۔