آج اگر ہم اپنے کشمیری معاشرے میں خوشیوں، نعمتوں اور برکتوں کی بات کریں تو وہ آہستہ آہستہ معدوم ہورہی ہیں۔چنانچہ کشمیر روحانیت میں گہرا یقین رکھنے والا ایسا خطہ ہے،جس میںرہنے والے لوگوں کی اکثریت اپنے والدین اور بزرگوں کی خدمت اور رکھوالی کو عبادت کا درجہ دیتے تھےاور رشتوں کی مضبوطی کو قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔لیکن وقت گذرنے کے ساتھ اب جو صورت حال پیدا ہوچکی ہے،اُس سے نہ معاشرے میں خوشیاں رہ گئی ہیںاور نہ ہی نعمتوں و برکتوں کی عطائی ہورہی ہے۔جس کے نتیجے میںزیادہ تر خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں،والدین اور بزرگوں کو بوجھ سمجھا جارہا ہےاور اولڈ ایج ہومز میں بزرگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
تعجب خیز بات یہ بھی ہے کہ اب ہمارے معاشرےمیںایسے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعدا د پیدا ہوئی ہے،جن کاروحانیت کے میدان میں نام لیا جاتا ہےاور عوامی خدمت گار ہونے کا بھی لقب بھی پالیا ہے،پھر بھی بلواسطہ یا بلا واسطہ انہوں نے اپنے خونی اور قریبی رشتوں کو مسترد کرکے رکھ دیا ہے۔جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ آج کا معاشرہ ہر سطح پر تبدیلی سے گزر رہا ہے۔اگرچہ تکنیکی ترقی اور معاشی مسابقت نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے،لیکن خاندانی ڈھانچے اور رشتوں کی نوعیت کو بُری طرح متاثر کرکے رکھ دیا ہے۔ جذباتی تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری جو کبھی ہمارےمشترکہ خاندانوں میں پروان چڑھتی تھی، اب گنے چُنے خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بوڑھے والدین ہیں۔ زندگی کے ایک ایسے مرحلے پر جب اُنہیں سب سے زیادہ مدد، احترام اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اُنہیں اکثر نظر اندازکیا جارہا ہےاور انہیں تنہائی اور مالی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بے شک اگر بوڑھے بزرگوں کی حالت ِزار کو سمجھنا ہو تو بڑھاپا زندگی کی ایک ناگزیر حقیقت ہے۔
یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں، بیماریاں بڑھ جاتی ہیں، آمدنی کے ذرائع ختم ہو جاتے ہیں اور افراد مکمل طور پر دوسروں پر منحصر ہو جاتے ہیں۔معاشرتی تناظر میں یہ انحصار بنیادی طور پر بچوں پرہوتا ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنی پوری زندگی کی کمائی اپنے بچوں کی تعلیم، شادی اور مستقبل پر صرف کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو پنشن کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، لیکن نجی شعبے میں عمر رسیدہ افراد کے لیے صورتحال بہت ہی زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر ان کے بچے بھی انہیں چھوڑ دیں تو یہ صورت حال اُن کے لئے انتہائی تکلیف دہ اور غیر انسانی ہو جاتی ہے۔ستم ظریفی کی بات ہے کہ مغربی تہذیب کے اثرات کی وجہ سے آج کی نوجوان نسل اپنے والدین کی قدر و قیمت بھول چکی ہےاور اُن کی خدمت اور دیکھ بھال کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے۔
حالانکہ خاندان میں بزرگوں کا ہونا بڑی خوش قسمتی سمجھی جاتی تھی اور جو اولاد اپنے والدین اور بزرگوں کی عزت و خدمت کرتےتھے،اُنہیں اولادِ صالح کہا جاتا تھا ،لیکن آج صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب کوئی نوجوان اپنے والدین، دادا دادی،نانا نانی یا دوسرے بزرگوںسے محبت و اُلفت سے پیش آتا ہے، تو اُن کے دلوں میں خوشی کی لہریں اٹھتی ہیںاورایسے نوجوان لمبی عمر، علم، شہرت اور طاقت حاصل کرتے ہیںجو اُنہیں اپنےبزرگوں کے دعائوں سے حاصل ہوتیں۔لہٰذا اگر ہم تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ بزرگ ہمارا انمول اثاثہ ہیں، اُن کے تجربات کا خزانہ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل ہے۔ گھروں میں جب کوئی بوڑھا بزرگ، بے آواز، اپنی لرزتی انگلیاںکسی نوجوان کےسَر پر پھیرتا ہے تو وہ اسے ایک نعمت سمجھنا چاہئےاور اگر ہم اپنے بزرگوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو نہ صرف اپنے ماضی سے آنکھیں چراتے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کو بھی غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ اس اقدام کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اسے ایک معاشرتی تحریک میں تبدیل کیا جائے۔ ہر شہری اور ہر خاندان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بوڑھوں کی دیکھ بھال صرف ایک فرض نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔