یو این آئی
جوہانسبرگ//عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور دنیا کی دولت کا تقریباً ایک چوتھائی حصے کا مالک سمجھے جانے والے عالمی بلاک ’برکس‘ کے رہنما رواں ہفتے جنوبی افریقہ میں ہونے والے اجلاس میں پانچ ملکی بلاک میں توسیع کرنے پر غور کریں گے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برازیل، روس، ہندوستان ، چین اور جنوبی افریقہ کے درمیان ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کے کلب میں نئے اراکین کو شامل کرنے پر اختلاف ہے، جو مغربی قیادت والے بین الاقوامی نظام کے متبادل کی تلاش میں ہیں۔
جنوبی افریقی حکام نے بتایا کہ برکس میں شمولیت کے لیے ’عالمی جنوب‘ سے 40 سے زائد ممالک نے دلچسپی ظاہر کی ہے، یہ ایک وسیع اصطلاح ہے جو مغرب سے باہر کے ممالک کے حوالے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔برکس کے اراکین کی طرح یہ ممالک مختلف سیاسی نظام، غیر مساوی اقتصادی طاقت، اور متضاد سفارتی پوزیشنوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اس کے علاوہ ثقافتی اور جغرافیائی طور پر اتنے ہی مختلف ہیں، جتنے ارجنٹائن، سعودی عرب، قزاقستان اور ویتنام وغیرہ، یہ چند نام ہیں۔حکام نے بتایا کہ زیادہ تر روایتی طور پر ایک جیسے نہیں ہیں، جیسا کہ انڈونیشیا اور ایتھوپیا، جبکہ کچھ کھل کر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مخالف ہیں، جیسا کہ ایران اور وینزویلا، تقریباً 50ریاستوں کے سربراہ اس سمٹ میں شرکت کریں گے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برکس کا اقتصادی طور پر سب سے طاقتور ملک چین بے چین ہے کہ یہ کلب تیزی سے دولت مند جمہوریتوں کے جی-7 گروپ کا مقابلہ کرے۔جولائی میں چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے برکس کو ترقی پذیر اور تیزی سے ابھرتی معیشتوں کے درمیان تعاون کے لیے اسے اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین دیگر اراین کے ساتھ مل کر بلاک کو وسیع اور مضبوط بنانے پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔سینٹر فار اسٹریٹجک اور انٹرنیشنل اسٹڈیز کے برائن ہارٹ نے بتایا کہ برکس بیجنگ کو ایسا فورم فراہم کرتا ہے جہاں وہ خود کو ترقی پذیر دنیا اور عالمی جنوب کے چیمپیئن یا ہراول دستے کے طور پر پیش کرسکے۔برائن ہارٹ نے بتایا کہ بیجنگ عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے برکس کو نہایت اہم سمجھتا ہے۔روس اور جنوبی افریقہ بھی نئے اراکین کو شامل کرنے کی حمایت کرتے ہیں لیکن برکس میں شامل ایک اور طاقت ور ملک ہندوستان اس کی حمایت نہیں کر رہا، جو معاشی اور جیوپالیٹکس میں چین کا مخالف ہے۔انہی دہلی ممکنہ طور پر برکس کو بیجنگ کا عضو بننے اور اس کے ایجنڈے کے طور پر کام کرنے کے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ اس حوالے سے متضاد دلچسپی سے یہ تعین ہو سکے گا کہ کس کو شامل کیا جا سکتا ہے۔