سرینگر//جموں وکشمیر میں برفانی تیندئوں کی آبادی کا صحیح پتہ لگانے کیلئے کشمیر میں آزمائشی سروے مکمل کرنے کے بعد محکمہ جنگلی حیات نے جموں میں 48ماہرین پر مشتمل 12رکنی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جنہیں تربیت دے کر کشتواڑ بھیجا گیا ہے ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ کشمیر کیلئے بھی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں اور فنڈس دستیاب ہونے کے بعد جموں کی طرز پر کشمیر میں بھی ان کی تعداد کا پتہ لگانے کیلئے سروے شروع کر دی جائے گی ۔سروے کو مکمل کرنے کا وقت مئی جون 2022مقرر کیا گیا ہے ۔چیف وائلڈ لائف وارڈن جموں وکشمیر سریش کمار گپتا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر کے کرناہ ، گریز ، مژھل اورتھجواس میں برفانی چیتے پائے جاتے ہیں اور ان کی سروے فنڈ دستیاب ہونے کے ساتھ ہی اگلے ہفتے شروع کی جائے گی ۔معلوم رہے کہ جموں میں برفانی تیندوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانے کیلئے ایک مہم منگل کو شروع کی گئی ۔چیف وائلڈ لائف وارڈن نے وزارت ماحولیات کے ’’پروجیکٹ ’سنو لیپرڈ‘ کے تحت جموں کے چڑیا گھر سے کشتواڑ نیشنل پارک کیلئے 48ماہرین پر مشتمل 12ٹیموں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔معلوم رہے کہ کشتواڑ نیشنل پارک 2,195.50 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیمیں پروٹوکول کے مطابق برفانی چیتے کی آبادی کا سروے کریں گی اور ان کی رہائش گاہوں کی نشاندہی کریں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ مشق کیلئے بہترین وقت ہے کیونکہ خانہ بدوش آبادی اونچی جگہوں سے میدانی علاقوں کی طرف آتی ہے اور اسی طرح جنگلی جانور برف میں رہتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے مطابق برفانی چیتے زیادہ تر 3,000 اور 4,500 میٹر کے درمیان اونچائی پر پائے جاتے ہیں اور جموں میں اس کے ملحقہ علاقوں کشتواڑ نیشنل پارک کے برف سے جڑے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں۔گپتا نے بتایا’برفانی چیتے کی آبادی کا اندازہ لگانے کی مشق ملک کے کئی حصوں میں جاری ہے اور جموں و کشمیر میں اب حکومت سے منظوری ملنے کے بعد اس مہم کا باضابطہ آغاز کرکے اس کا حصہ بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اب تک ایسا سروے کبھی نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشتواڑ کے بالائی علاقوں میں برفانی چیتے کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں اس کے علاوہ شمال میں گریز، تھجواس ، کرناہ اور مژھل میں بھی ان کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں ۔گپتا نے کہا کہ گزشتہ ماہ کشمیر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے محکمہ نے آزمائش کیلئے ایک پائلٹ سروے کیا گیا تھا اور اب مکمل سروے کیلئے بھی محکمہ نے ٹیموں کو تیار رکھا ہے لیکن ابھی اس میں فنڈس دستیاب نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میںآزمائشی سروے کے بعد مکمل سروے شروع کی جائیگی ۔سروے مکمل ہونے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ برف باری کا سیزن ہے اور لگتا ہے کہ اس سال آدھی سروے مکمل ہو گی پھر مارچ سے ٹیموں کو پھر سے کام پر لگایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو سروے مئی اور جون میں مکمل ہونے کے امکانات ہیں ۔معلوم رہے کہ محکمہ نے نیچر کنزرویشن فاؤنڈیشن (NCF) کے ماہرین کو شامل کیاہے ، جنہوں نے سروے کیلئے جموں اور کشمیر دونوں ڈویژنوں میں ٹیموں کو تربیت دی ہے ۔