اسد مرزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’گزشتہ چار ماہ میں برطانوی عوام نے تین وزرائے اعظم ، چار وزیر خزانہ اور بادشاہت میں تبدیلی دیکھی ہے، جو کہ یقینی طور پر ملک کے سیاسی منظر نامے پر اپنا اثر رقم کررہی ہے۔‘‘
…………………………………………….
برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس نے برطانیہ کی وزیر اعظم اور کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کے عہدے سے 20؍اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا۔ نمبر10 ، ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کرنے کے لیے اس لیے مجبور ہوئیں، کیونکہ وہ، وہ کام نہیں کرپارہی تھیں، جس کے لیے انھیںوزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا گیا۔اس استعفیٰ کے بعد اب کنزرویٹیو پارٹی میں نئے پارٹی قائد اور وزیراعظم کی تلاش شروع ہوگئی ہے۔
دراصل اپنے 45 دن کے مختصر عہد کے بعد لز ٹرس برطانوی تاریخ میں سب سے کم مدت تک رہنے والی وزیر اعظم بن گئی ہیں۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ گزشتہ ماہ کے منی بجٹ کے بعد سے ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگئی تھی، بجٹ نے معاشی مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور بعد میں اسے چانسلر Kwasi Kwarpengنے اس کی بہت ساری شقوں کو ختم کر دیا تھا۔تاہم بدھ یعنی 19؍اکتوبر کے روز برطانیہ کی ہوم سیکرٹری کے استعفیٰ اور پارلیمان میں انتشار انگیز بحث نے ان کی قسمت پر مہر ثبت کر د ی اور آخر کار انھیں اپنے عہدے مستعفی ہونا پڑا۔لیکن اس کی اصل وجہ مالیاتی منڈیوں میں حکومت کی ناکام پالیسیاں رہیں۔ جب ستمبر میں یہ پیش کیا گیا تھا ، اسی وقت سرمایہ کاروں نے فوری طور پر اس کے ترقی منصوبوں کے خلاف احتجاج درج کرایاتھا۔ اس کے بعد برطانیہ کے سرکاری بانڈ کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر تیز ترین شرح سے بڑھیں، قرض لینے کے اخراجات میں اضافہ ہوا اور آخر میں بینک آف انگلینڈ کو پنشن فنڈز کو بچانے کے لیے لگاتار تین بار مداخلت کرنے پر مجبورہونا پڑا۔
ایک موقع پر پاؤنڈ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اب تک کی کم ترین سطح پر آگیا، تقریباً $1.03 تک گر کر۔ ایک ایسے وقت میں جب تاجر پہلے ہی عالمی کساد بازاری کے امکانات کے بارے میں بے چینی محسوس کر رہے تھے، برطانیہ کے مالیات کی پائیداری کے بارے میں قرضے لینے کے فیڈ انہی خدشات کو بڑھانے میں ڈرامائی کردار ادا کررہے تھے۔ ایک موقع پر، برطانیہ کے درمیانی مدت کے قرضے لینے کی لاگت یونان اور اٹلی سے بھی زیادہ ہو گئی تھی، جنہیں ان کے قرض کی بلند سطح کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لیے خطرناک سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
لزٹرس چھ ہفتے قبل ہی کنزرویٹیو پارٹی کی قائد منتخب ہوئی تھیں اور ان کے ارکان پارلیمنٹ نے ان کا حقیقی لیکن اعصاب شکن استقبال کیا تھا۔ پھر ان کا منی بجٹ آیا، جس نے سابق وزیر اعظم جانسن کے مینڈیٹ کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا ۔ یہ ایک نظریاتی اختلاف تھا، لیکن ووٹرز کو اسے مسترد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دراصل اسے مسترد کرنے والی سفاک سرمایہ داری کی بازاری قوتیں تھیں جنہوں نے ٹوری حکومت کو ہوش میں لایا اور اس کے گھٹنے ٹیک دیے۔ ٹرس نے اپنے خلاف بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی چیلنجز کو ٹالنے کے لیے اپنے وزیر خزانہ Kwasi Kwarpeng کو بلی کا بکرا بناتے ہوئے انہیں ان کے عہدے سے برطرف کردیا۔
اس کے بعد محترمہ ٹرس نے Jeremy Hunt کو وزیر خزانہ کے طور پر مامور کردیا، انھوںنے فوراً ہی Kwarpeng کے بجٹ پر نظر ثانی کرنے کے بعد اسی مکمل طور پر مسترد کردیااور وعدہ کیا کہ آنے والی 31 اکتوبر کو وہ ایک نیا معاشی پیکج ہاؤس آف کامنس میں پیش کریں گے، جس سے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر معاشی بازار کی قوتوں کا اعتماد دوبارہ قائم ہوسکے اور ساتھ ہی عوام پر بھی کوئی منفی اثر نہ پڑے۔دراصل اس بجٹ میں جو سب سے متنازعہ شق تھی، وہ یہ تھی کہ حکومت نے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ سالانہ کمانے والوں کے اوپر سے 45% ٹیکس ہٹا دیا تھا، اور ساتھ ہی وہ حکومت کے اخراجات کے لیے معاشی مارکیٹ سے پیسے ادھار لینے کی بات کررہی تھیں۔
اب کیا ہوگا؟
لز ٹرس نے بمشکل ہی ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر ہونے والی پریس کانفرنس سے باہر ہی آئی تھیں کہ فوراً ہی یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ اب اگلا برطانوی وزیر اعظم کون بنے گا؟
موجودہ صورتِ حال میں کنزرویٹو پارٹی کی 1922 کمیٹی کے چیئرمین سرگراہم بریڈی ایک کلیدی کردار ادا کریں گے، ان کا کہنا ہے کہ ایک مختصر مقابلے کے بعد ہم اگلے امید وار کا نام فائنل کرسکتے ہیں۔ ان امیدواروں میں جو نام سرِ فہرست ہیں وہ ہیں ہندوستانی نژاد رشی سنک، سابق وزیر اعظم بورس جانسن اور پینی مورڈانٹ۔
بتایا جا رہا ہے کہ بورس جانسن کے کھڑے ہونے کی توقع ہے لیکن ہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کر سکے۔ لیکن موجودہ چانسلر جیریمی ہنٹ نے خود کو اس مقابلے سے باہر کرنے کی اطلاع دی ہے۔
جو دیگر نام سامنے آرہے ہیںان میں وزیر دفاع بین والیس، بین الاقوامی تجارت کے سیکرٹری کیمی بیڈینوک، سیکرٹری خارجہ جیمز کلیورلی اور حال ہی میں مستعفی ہونے والی ہوم سیکرٹری سویلا بریورمین شامل ہیں۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے صدر Keir Sekrmerنے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جو کچھ ملک میں رونما ہورہا ہے، برطانوی عوام اس سے بہت زیادہ اچھے کے مستحق ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے کنزرویٹو پارٹی نے گزشتہ تین سالوں میں حکومت کی ہے، اور بغیر عوام کی منظوری کے دو وزرائے اعظم تبدیل کیے ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں عوام کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ وہ صرف اقتدار میں بنے رہنا چاہتے ہیں۔ان کی پالیسیوں نے برطانیہ کو کمزور کرنے کے علاوہ عالمی برادری میں اسے شرمندہ بھی کیا ہے اور اس کو ختم
کرنے کے لیے ملک میں فوری طور پر عوام انتخابات ہونے چاہئیں۔
مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو کچھ حد تک اسٹریمر کا بیان بہت حد تک صحیح ہے۔ لیکن اگر ہم تاریخ میں تھوڑا سا ہی واپس جائیں تو پائیں گے کہ 2016کے بعد سے جب سے برطانیہ میں Brexit کے نام پر برطانیہ کو یوروپین یونین سے الگ کرنے کی مہم شروع ہوئی تھی، تبھی سے برطانوی سیاست میں ایک ناقابلِ فہم زوال آنا شروع ہوگیا تھا۔ کیونکہ Brexitکے حامی اور مخالفین دونوں ہی عوام کو ایک جھوٹا منظر نامہ پیش کررہے تھے، جس کی وجہ سے عوام کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سچ بول رہا اور کون جھوٹ؟ اس کے بعد Brexitکے نام پر ہونے والے ریفرنڈم میں Brexitحامیوں کی جیت صرف 4% سے ہوئی تھی۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ عوام بہت زیادہ تذبذب کا شکار تھے۔ اس کے بعد سے جہاں ملک میں سیاسی خلفشار بڑھتا چلا جارہا تھا، وہیں اس کا غیر فطری اثر برطانیہ کی معیشت پر بھی رونما ہورہا تھا ۔مہنگائی اور کساد بازاری بڑھتی چلی جارہی تھیں، عوام کی کمائی کم اور اخراجات بڑھتے چلے جارہے تھے، اور حکومت کی طرف سے کوئی پائیدار حل سامنے نہیں آرہا تھا۔ برطانیہ کی موجودہ صورت حال پر امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ عموماً امریکہ سیاست داں برطانیہ کے سیاسی لیڈروں یا وہاں کی سیاسی صورتحال پر کھلے عام تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کنزرویٹو پارٹی کسی ایسے پُرعزم سیاسی رہنما کو چن پاتی ہے جو کہ ملک کو موجودہ صورتحال سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوسکے یا پھر اگر یہی صورتحال بنی رہی تو ممکن ہے کہ جیسا کہ Keir Sekrmer نے کہا ہے ملک میں عام انتخابات کروانے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ لیکن کل ملا کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان سب سیاسی واقعات نے عالمی سطح پر برطانیہ کی شبیہ کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asadmirza.in