ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی بُرائیوںمیںایک خرابی، بدگمانی ہے جس سےباہمی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، نفرت و بدظنی تیز ہوجاتی ہے، بغض و حسد بڑھ جاتا ہےاور اخوت و بھائی چارگی کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ بد گمانی سے بڑھ کر انسان کے لئے اور کوئی بیماری نہیں ،کیونکہ بدگمان کبھی خوش نہیں رہتا بلکہ ہمیشہ اضطراب میں مبتلا رہتا ہے۔بدگمانی کا معنیٰ، بغیر کسی دلیل و ثبوت اور سبب کے کسی شخص سے متعلق دل میںبُرا خیال رکھنا یا اُس کے متعلق منفی قیاس آرائی کرنے کے ہیں۔ بدگمانی اخلاق سے گرا ہوا ایسا جھوٹ ہے جو گناہ ہونے کے سبب قابل مواخذہ جرم ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے ہمیشہ عدم اعتمادی کو بڑھاوا ملتا ہے ، مختلف خطرات اور بُرائیاں وجود میں آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کسی معاشرے کی عام طبیعتوں میں بدگمانی کا بیج بویا جاتا ہے تو اُس سے پوری قوم کو اس کا نقصان پہنچتا ہے ۔اسی لیے قرآن مجید نے مسلمانوں کو بدگمانی سے سختی سے منع کیا ہے اور حکم دیا کہ وہ اہل ِ خیر و صلاح کے بارے میں خواہ مخواہ ظنون تراشنے سےہر ممکن طریقے سے بچیں۔ لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے زیادہ تر افراد، لوگوں کے عمل اور نظریہ کے بنیاد پر کوئی رائے قائم کرنے کے بجائے سُنی سُنائی باتوں پر اپنی رائے قائم کررہے ہیں ۔
ذاتی تعلقات، سماجی میل جول، کاروباری معاملات، سوشیل میڈیا بلکہ مذہبی حلقوں میں بھی بدگمانیاں دیکھنے میں آرہی ہیں، جس کے باعث ہماری ذاتی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی تک بگاڑ کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے ۔ سیاسی حلقوں میں بدگمنانی کی شرح دیگر شعبہ ہائے حیات کے مقابل میں زیادہ ہے چونکہ سیاست داں اثر و رسوخ رکھنے والے ہوتے ہیں،اسی لئے اکثر لوگ اپنی خواہشات کے مطابق نتیجہ حاصل کرنے یا اپنا جھوٹا دبدبہ قائم رکھنے کے لیے سیاسی قائدین کو اپنی چاپلوسی کا نشانہ بناکر لوگوں سے بدگمان کردیتے ہیں۔ جبکہ تاریخ میں ایسے لاتعداد واقعات ملتے ہیں ،جن سے ہمیں اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کہ بدگمانی کے باعث ہی کئی عظیم طاقتیں زوال پذیرہوئی ہیں۔چونکہ سماعت اور نظر میں دھوکے کا امکان بہرحال رہتا ہے، اسی لئے قرآن مجید نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ جب ہمیں کوئی خبر پہنچے تو ہم پر لازم ہے کہ ہم صبر و تحمل اور متانت کے ساتھ اس خبر کی خوب تحقیق و تفتیش کریں تاکہ بہت ساری برائیوں کا از خود سد باب ہوجائے اور معاملات و معاشرت میں باہمی اخوت و ہمدردی قائم رہے۔
بغیر تحقیق کے جذبات سے مغلوب ہوکر اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرنا یا غلط قدم اٹھالینا ہماری جہالت و نادانی کی علامت ہے اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ہمیں اپنی حماقت پر ندامت و پشیمانی کے آنسو بہانا پڑتا ہے۔ سیاسی قائدین پر لازم ہے کہ تاریخی حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے کسی شخص سے بدگمان نہ ہوں ورنہ اس بدگمانی کا صدمہ وقتی طور پر طرف ِمقابل کو برداشت کرنا پڑسکتا ہے لیکن بُرا گمان کرنے والے سیاسی قائدین کو بھی اس کا نقصان ہوگا، چونکہ بدگمانی پر مبنی ان کے ایک غلط فیصلہ سے جتنے لوگ متاثر ہوں گے، ان کا سب کا وبال اُن کے نامۂ اعمال میں درج ہوگا۔ یہی حال ہوائے نفس پر سوار بااثر سیاسی قائدین کے حواریوںکا بھی ہے جو ذاتی و حقیر مفادات کے حصول کے لئے لوگوں کے درمیان بدگمانی پیدا کرتے ہیں۔ بدگمانی کے نحوستوں سے بچانے کے لیے دین ِاسلام نے مسلمانوں کو منفی سونچ سے بچنے اور حسن ظن رکھنے کا حکم دیتا ہے چونکہ حسنِ ظن کا شمار اُن اعمال میں ہوتا ہے جن کو عبادت حسنہ کہا جاتا ہے۔ اس لئےلوگوں کے درمیان باہمی تعلقات کو مضبوط و مستحکم بنانے ، آپسی محبت و انسیت کو فروغ دینے اور انسانی معاشرہ کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے ،بدگمانی بُرے لوگوں کی سب سے بُری بات ہے ،جس سے آپسی اُلفت و محبت کی روح مر جاتی ہے اور امن و سکون کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی کہ ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات کی روح کو سمجھنے اور اس پر صدق دل کے ساتھ عمل کرنے کی ت کی کوشش کریں تاکہ ہم اپنے دِلوں کی صفائی کرکے دوسروں کی بُرائیوں کو دور کرسکیں۔