واشنگٹن //وفاقی حکومت کو درکار فنڈز کی منظوری کی ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود نیا بجٹ منظور نہ ہونے کے باعث امریکی حکومت کو ایک بار پھر جزوی 'شٹ ڈائون' کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی حکومت 'شٹ ڈائون' ہوئی ہے۔امریکی حکومت کو درکار فنڈز کی منظوری کی ڈیڈلائن جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ختم ہورہی تھی لیکن سینیٹ میں مجوزہ بجٹ پر ہونے والی بحث کے دوران ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال کے اعتراض کے باعث بجٹ 12 بجے شب کی ڈیڈ لائن سے قبل منظور نہ ہوسکا۔تاہم امریکی سینیٹ نے رات گئے سرکاری اخراجات کو عبوری بِل کرلیا جس کے بعد اب اسے ایوانِ نمائندگان بھیجا جائے گا۔ لیکن ڈیڈلائن گزرنے کے باعث حکومت کا 'شٹ ڈائون' شب 12 بجے کے بعد شروع ہوچکا ہے جو اب بِل کی ایوانِ نمائندگان سے منظور اور اس پر صدر کے دستخط کے بعد ہی ختم ہوگا۔امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن رہنمائوں کے درمیان بدھ کو مجوزہ بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے ہوگیا تھا جس کے تحت امریکی حکومت کو آئندہ دو سال کے لیے دفاعی اور دیگر مدات میں اخراجات کے لیے درکار فنڈز فراہم کیے جانے تھے۔اتفاقِ رائے کی روشنی میں تیار کی جانے والی بجٹ تجاویز جمعرات کو سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کی گئیں لیکن سینیٹر رینڈ پال کے اعتراض کے باعث بجٹ تجاویز منظور نہ کی جاسکیں۔شب 12 بجے تک بجٹ نہ منظور ہونے کی وجہ سے امریکی حکومت کو ایک بار پھر شٹ ڈائون کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث جمعے کو امریکہ کی وفاقی حکومت کے بیشتر اداروں میں معمول کی سرگرمیاں انجام نہیں دی جاسکیں گی اور مستقل ملازمین کو بغیر تنخواہ جبری چھٹی پر بھیج دیا جائے گا۔امریکی حکومت کو گزشتہ ماہ بھی تین دن کے 'شٹ ڈاو ن' کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد کانگریس نے آئندہ چند روز کے لیے عبوری فنڈز منظور کرتے ہوئے نئے بجٹ کی منظوری کے لیے 9 فروری کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی۔امریکی سینیٹ کے قوانین کے مطابق ایوان کا کوئی بھی رکن جتنی دیر چاہے تقریر کرسکتا ہے اور اسے تقریر سے روکنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ایوان کے 60 فی صد ارکان اس کی تقریر ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیں۔کسی بھی امریکی سینیٹر کو کسی بھی معاملے یا مجوزہ قانون پر ہونے والی ووٹنگ پر اعتراض اٹھانے کا بھی حق ہے جس کے بعد وہ معاملہ طویل اور پیچیدہ تاخیری حربوں کا شکار ہوجاتا ہے۔جمعرات کو ایوان میں بحث کے دوران ریاست کینٹکی سے منتخب سینیٹر رینڈ پال نے بجٹ پر ووٹنگ روکنے کے لیے یہی دونوں حربے استعمال کیے جس پر خود ری پبلکن رہنماو?ں نے بھی انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔بجٹ کے خلاف طویل تقریر کرتے ہوئے سینیٹر رینڈ پال نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ بجٹ میں آئندہ دو سال کے لیے جن دفاعی اور داخلی اخراجات میں اربوں ڈالر اضافے کی تجویز دی گئی ہے اس سے امریکہ کے مالی خسارے میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن ارکان کے درمیان ایک روز قبل ہونے والے معاہدے کی روشنی میں ایوان کے سامنے 700 صفحات پر مشتمل بجٹ رکھ دیا گیا ہے جسے ایک رات میں پرنٹ کیا گیا اور ان کے بقول ایوان میں سے کسی نے اسے پڑھنے کی زحمت تک نہیں کی ہے۔