پی ڈی پی لیڈر اور پلوامہ سے رکنِ اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’مایوس کن‘‘ اور ’’مبہم دستاویز‘‘ قرار دیا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وحید پرّہ نے کہا کہ اس بجٹ میں جموں و کشمیر کے عوام کیلئے نہ کوئی ’’شفا‘‘ ہے اور نہ ہی مستقبل کیلئے کوئی ’’امید‘‘۔انہوں نے کہا، ’’یہ ایک مایوس کن بجٹ ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کیلئے اس میں کچھ بھی نہیں، جبکہ ہماری آبادی کا 60 سے 65 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔‘‘پی ڈی پی رہنما نے کہا کہ نوجوانوں، کسانوں، روزانہ اجرتی ملازمین اور بے روزگار طبقے کو اس بجٹ سے بڑی امیدیں تھیں کہ ان کے دیرینہ مسائل کا حل پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’لوگوں نے بڑی امید کے ساتھ ووٹ دیا تھا کہ بے روزگاری، ڈیلی ویجرز کے مسائل، کسانوں اور باغبانی شعبے کے چیلنجز پر توجہ دی جائے گی، لیکن 15 ماہ بعد پیش کیا گیا یہ دوسرا بجٹ بھی کسی واضح نیت کی عکاسی نہیں کرتا۔ بجٹ دراصل حکومت کی نیت کا آئینہ ہوتا ہے، اور یہاں وہ نیت ہی نظر نہیں آتی۔‘‘وحید پرّہ نے الزام لگایا کہ گزشتہ بجٹ میں کیے گئے کئی اعلانات تاحال پورے نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا، ’’پچھلے سال مفت ایل پی جی سلنڈروں کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن آج تک کسی کو کچھ نہیں ملا۔ حکومت صرف اعداد و شمار کا کھیل کھیل رہی ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف نئے وعدے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف انتودیہ انا یوجنا کے تحت راشن کارڈوں میں کمی کی گئی ہے۔