سرینگر //رواں سال صارفین کو 17فیصد اضافی بجلی فراہم کرنے کے دعوئوں کے بیچ وادی میں بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے کیونکہ محکمہ کو سردیوں کے مہینوں میں بجلی کی طلب اور کھپت میں 600میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے ۔ وادی میں بجلی کے فرسودہ نظام کو بہتر بنانے کیلئے کروڑوں روپے کی دین دیال اپادھیہ، آر اے پی ڈی آر پی ، سوبھاگیہ ،آر جی جی وائی ،پی ایم ڈی پی کے علاوہ دیگر کئی سکیمیں چل رہی ہیں۔ اگرچہ ان سکیموں کے تحت پیسہ خرچ کرنے کے بھی دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر بجلی کا وہی ناکس نظام ہے جو کئی برسوں سے قائم ہے۔اس غیر سنجیدگی کی وجہ سے وادی بھر کے زیادہ تر علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر محکمہ بجلی یہ حیلے بہانے کرتا ہے کہ جب تک اورلوڈنگ پر قابو نہیں پایا جاتا، حالات نہیں بدلیں گے۔وادی کے طول عرض میں بجلی بریک ڈاون چل رہا ہے اور محکمہ بجلی نے ماضی کی طرح یہ بہانے شروع کر دیئے ہیں کہ وادی کے ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہوئی ہے اور ساتھ میں سردی بڑھنے کے ساتھ اورلوڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے انہیں مجبوراً بجلی کٹوتی کرنی پڑتی ہے ۔ کپواڑہ ، اوڑی ، کولگام ،شوپیان ، چرارشریف ، بیروہ، چاڈورہ ،قاضی گنڈ ، باہمولہ ، بانڈی پورہ ، کنگن، پلوامہ،بڈ گام ،اننت ناگ اور با نڈ ی پورہ سے کے دہی علاقوں سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ ان علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی اورکٹوتی سے لوگوں کو کئی کئی گھنٹوں گھپ اندھیرے میں رہنا پڑرہا ہے۔ان علاقہ جات کے لوگوں نے محکمہ بجلی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہر مہینے پوری بجلی فیس عوام سے وصول کر لیتا ہے مگر لوگوں کو ضروریات کے مطابق بجلی میسر نہیں رکھی جاتی۔ یاد رہے کہ شہر کیلئے محکمہ بجلی نے گذشتہ دنوں کٹوتی شیڈول کا اعلان کیا جس کے مطابق نان میٹر والے علاقوں کو 3 گھنٹے اور میٹر والے علاقوں کو ڈیڑھ گھنٹے بجلی کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گالیکن اس کے باوجود شہر اور دیہات میں غیر اعلانیہ شیڈول الگ سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ابھی تک دہی علاقوں یا دیگر اضلاع کے لئے کوئی کٹوتی شیڈول مرتب نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ فی الحال وہاں غیر اعلانیہ ہی بجلی کٹوتی کا عمل جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہیگا۔یوں بھی وادی میں سرکاری و غیر سرکاری دو طرح کی بجلی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔محکمہ بجلی ہر سال نومبر کے مہینے میں بجلی کٹوتی شیڈول مرتب کرتا ہے اور اسی حساب سے صارفین کو مارچ اپریل تک بجلی فراہم کی جاتی ہے۔میٹر یا نان میٹر علاقوں میں کم سے کم دن میں 6 گھنٹے کی کٹوتی کی جاتی ہے۔یہ وہ شیڈول ہوتا ہے جس کے مطابق بہر حال بجلی بند کی جاتی ہے اور برقی رو بحال کی جاتی ہے۔ لیکن دوسرا کٹوتی شیڈول غیر اعلانیہ ہوتا ہے، جو شہر، قصبوں اور دیہات میں ایک ہی طرح عملایا جاتا ہے۔غیر اعلانیہ شیڈول کا کوئی وقت متعین نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر عمل نہ کرنے کی کوئی کوشش کی جاتی ہے بلکہ غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی ہر دن ، ہر رات، ہر صبح اور ہر شام کی جاتی ہے۔اس کا دورانیہ 30منٹ سے کم کبھی نہیں ہوتا اور زیادہ سے زیادہ کا وقت مقرر نہیں ہے۔محکمہ چاہیے تو گھنٹوں بجلی بند رکھے گا، کبھی چاہیے گا کہ دو تین دن کے بعد برقی رو بحال کرنی ہے اور جب برباری ہورہی ہو یا برفباری سے راستے بند ہاجائیں تو پوری وادی کیلئے کٹوتی شیڈول پر سب سے پہلے عمل کیا جاتا ہے۔برفباری کے بعد جب پانی جم جائے تو بجلی کی حالت انتہائی ضعیف ہوجاتا ہے۔ کم وولٹیج کا مرحلہ اسکے بعد شروع ہوجاتا ہے جو انتہائی درد سر بن جاتا ہے۔کبھی کبھار اگر بجلی بحال بھی ہوجاتا ہے لیکن کم وولٹیج سے یہ صارفین کے ناک میں دم کرتی ہے۔ محکمہ بجلی کے حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال بجلی کی سپلائی میں 17.5فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نومبر 2020میں کشمیر پاورڈیولپمنٹ کارپوریشن نے صارفین کو 304.60 لاکھ یونٹ بجلی فراہم کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اس سال صارفین کو 1694 میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ سال 2020میں 1450فیصد بجلی فراہم کی جاتی تھی ۔انہوں نے مزید کہا کہ سرما میں ان کے پاس بجلی کٹوتی کرنے کے علاوہ دوسرا اور کوئی بھی چارہ نہیں ہے کیونکہ ہماری سپلائی میں 17 فیصد کا اضافہ ہونے کے باوجود بھی بجلی کی طلب زیادہ ہے۔
چیف سیکریٹری کا بجلی منظر نامے کا جائزہ
غیر شیڈول بجلی کٹوتی میں کمی کیلئے ہدایات
جموں//چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے موسم سرما کے دوران وادی کشمیر میں بجلی کی صورتحال کا جائیزہ لینے کیلئے منعقدہ میٹنگ کی صدارت کی ۔ چیف سیکریٹری کو وادی کشمیر میں بجلی کی موجودہ صورتحال ، توانائی کی کھپت کو موجودہ انداز اور موسم سرما کے دوران مستقبل میں بجلی کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ چیف سیکریٹری نے افسران کو سردیوں کے دوران ہموار بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مزید کوششیں کرنے کی بھی ہدایت دی ۔ انہوں نے 30 نومبر 2021 تک تمام ٹرانسفارمرز کے معائینے کی ہدایت دی تا کہ ٹرانسفارمرز کی اچھی صحت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ اس کے علاوہ 15 دنوں کے اندر تمام ایچ ٹی /ایل ٹی فیوز کا بیک وقت معائینہ کیا جائے ۔ ڈاکٹر مہتا نے مزید ہدایات دیں کہ اوور لوڈنگ کی وجہ سے غیر شیڈول بجلی کی کٹوتی کو روکا جائے اور بجلی کی کٹوتی کو منظم کرنے کیلئے مناسب پروٹوکول تشکیل دیا جائے ۔ محکمہ کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ مستقبل میں ٹیکسٹ میسنجر کے ذریعے بجلی کی بندش کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کے امکانات تلاش کرے ۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت کشمیر میں ایک متحرک موسم سرما کے سیاحتی موسم کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے اور اس مقصد کیلئے قابل اعتماد بجلی کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔