غلام نبی رینہ
کنگن/ رکنِ پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے کل ضلع گاندربل کے سر فراو گنڈ کنگن میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت چار اہم سڑک پروجیکٹوں کا افتتاح کیا ۔اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ سڑک رابطے کے یہ کام مرکزی فنڈنگ کے تحت منظور ہوئے ہیں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادی کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔معاشی طور پر کمزور گھرانوں پر بڑھتے بجلی فیس کے بوجھ پر گہری تشویش ظاہرکرتے ہوئے انہوں نے کہا، “یہاں کے زیادہ تر لوگ بی پی ایل زمرے میں آتے ہیں اور غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
پھر بھی ان پر عام زمرے کی طرح ہی بجلی کے فیس لاگو کیے جا رہے ہیںاور فیس میں بار بار اضافہ کیا جارہا ہے جس میں 1800 سے 2200، پھر 2700 روپے تک کردے گئے ۔روح اللہ نے کہا کہ حکومت کو بی پی ایل خاندانوں کے بجلی فیس میں کمی کرکے منشور میں کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔شری ماتا ویشنوی دیوی شرائن بورڈ کے تحت چلنے والے ایک میڈیکل کالج کی بندش پر حالیہ تنازع سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے روح اللہ نے الزام لگایا کہ ایک شور مچانے والا گروہ جموں میں پولرائزیشن پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ گروہ میرٹ کی بنیاد پر ہونے والی داخلوں کی اس لیے مخالفت کر رہا ہے کیونکہ غیر ہندو یا مسلمان بھی سیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، وہ نفرت میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ محض مسلمانوں کو میرٹ پر داخلہ ملنے سے روکنے کے لیے ایک تعلیمی ادارہ بند کر دیا گیا۔ریزرویشن فائل کے تاخیر پرروح اللہ نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریزرویشن پالیسی پر فیصلے میں تاخیر کر رہی ہے، باوجود اس کے کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ فائل ایل جی آفس کو بھیج دی گئی ہے۔انہوں نے کہا، “اگر فائل بھیجی گئی ہے تو حکومت کب تک انتظار کرے گی دو ماہ، ایک سال، دس سال ان کی حد کیا ہے لوگوں کے مستقبل سے کھیل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا “اگر مقررہ وقت میں فائل واپس نہیں آتی تو میں طلبہ کے ساتھ ایل جی آفس کے باہر کھڑا ہوں گا۔