سرینگر//پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت سیاسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کر کے کشمیریوں کو پشت بہ دیوار کر رہی ہے۔بجبہاڑہ میں پیپلزڈیموکریٹک پارٹی یوتھ ونگ کے کارکنوں نے انہیں قصبے میں کنونشن کے انعقاد کی اجازت نہ دینے کے خلاف سرینگر جموں شاہراہ پر پلے کارڈ اُٹھا کراحتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی ۔ پارٹی ترجمان سہیل بخاری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایسے اقدامات پی ڈی پی کو دبانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی لیڈرشپ کو عتاب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے پروگراموں پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی کارکنان ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں، بلکہ پارٹی کی جانب سے پرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔اس حوالے سے پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے بجبہاڑہ میں پارٹی کنونشن پر روک لگانے کی سخت مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند اپنے آہنی اپروچ کو جائز قرار دینے کے لئے تمام کشمیریوں پر تشدد کرنے والوں کا لیبل لگانا چاہتی ہے۔محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو پی ڈی پی کے یوتھ کارکنوں کوبجبہاڑہ میں میٹنگ کا انعقاد کرنے سے روکنے کے رد عمل میں اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا۔’’جنوبی کشمیر میں پی ڈی پی یوتھ کارکنوں کو ایک اجلاس منعقد کرنے سے روکنے سے حکومت ہند کی اس حکمت عملی کو تقویت ملتی ہے کہ وہ کسی بھی معنی خیز سیاسی عمل کی اجازت نہیں دیتی ہے خاص کر جس میں کشمیری نوجوان شامل ہوں۔ حکومت ہند اپنے آہنی ہاتھ اپروچ کو جائز قرار دینے کے لئے تمام کشمیریوں پر تشدد کرنے والوں کا لیبل لگانا چاہتی ہے‘‘۔ایک اور ٹویٹ میں پی ڈی پی صدر نے کہا،’’ روزانہ بنیادوں پر ہونے والی تصادم آرائیاں جن میں جنگجوؤں کو مارا جاتا ہے، حکومت ہند کے لئے جشن منانے کا ذریعہ ہیں لیکن پی ڈی پی تشدد میں یقین نہیں رکھتی ۔ ہم سیاسی و پرامن طریقے سے لڑنا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا،’’ پی ڈی پی یوتھ کارکنوں کو آج بجبہاڑہ میں ایک میٹنگ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مفتی صاحب کی قبر کی طرف جانے والے دروازوں کو بند کر دیا گیا اور خاردار تار بچھا دی گئی۔ کیا جموں و کشمیر پولیس وضاحت کر سکتی ہے کہ نوجوان کارکنوں کو کیوں پیٹا گیا‘‘۔(مشمولات کے این ایس)