بانہال//بلاک بانہال کے کئی علاقوں میں پھوٹ پڑی دست اور قے کی بیماری سے مزید پچاس سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور اس طرح سے اب تک بانہال کے مختلف گائوں میں اس بیماری سے متاثر ہونے والوں کی تعداد دو سو تک پہنچ گئی ہے جبکہ گزشتہ جمعہ کو ایک خاتون کی موت بھی واقع ہوگئی تھی۔ پچھلے قریب ایک ہفتے سے بانہال کے لامبر ، عشر ، زنہال اور کسکوٹ میں دست اور قے سے متاثرہ ایک سو پچاس سے زائد افراد کو اب تک علاج معالجہ کے بعد ٹھیک کیا گیا ہے جبکہ ابھی بھی ایک درجن سے زائد افراد اس بیماری کی زد میں ہیں۔ منگل کے روز یہ دائرہ شاہراہ پر واقع درشی پورہ کے گائوں تک وسیع ہوگیا اور یہاں سے مزید قریب سات افراد دست اور قے کا شکار ہوئے ہیں۔محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ منگل کے روز کسکوٹ کے ہائی سکول میں بیس افراد کو ضروری طبی امداد بہم پہنچائی گئی جبکہ ایمرجنسی ہسپتال بانہال میں تیس سے زائد افراد کا علاج کیا گیا ہے۔ ہسپتال میں کئی ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ بیماری بظاہر پینے کے پانی اور دیگر کھانے پینے کی وجہ سے ہوسکتی ہے تاہم محکمہ جل شکتی کا کہنا ہے کہ لامبر اور عشر علاقے میں سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور یہاں کے چشموں سے استعمال کیا جانے والا پینے کا پانی پینے کے قابل پایا گیا ہے اور پانی کے نمونوں میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں پینے کے پانی کے ریزورس کو صاف کیا گیا ہے اور پانی میں کلورین کی ادویات ملائی گئی ہیں ۔