سرینگر//کوروناکی وجہ سے تقریباً 11ماہ سے بھی زائد عرصے سے بند پڑی بانہال بارہمولہ ریل سروس 17فروری کودوبارہ بحال کرنے کے بارے میں صوبائی انتظامیہ نے شمالی ریلوے حکام سے رجوع کرلیا ہے لیکن چیف ریلوے منیجر کا کہنا ہے کہ ابھی ٹرین سروس شروع کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے شمالی ریلوے کے چیف ائریا منیجر کے نام 8فروری کو ایک خط روانہ کیا ہے جس میں ان سے استدعا کی گئی ہے کہ کوویڈ کی وجہ سے جو ٹرین سروس بند پڑی ہے اسے دوبارہ شروع کیا جائے اور اسکی شروعات ابتدائی طور پر17فروری سے کی جائے۔ صوبائی کمشنر نے ریلوے حکام کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ابتدائی طور پر 3یا 5بار دن میں بانہال اور بارہمولہ کے درمیان ٹرین چلائی جائے جس کے بعد اگلے مرحلے کے دوران اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، جب معمول کے مطابق ٹرین چلائی جائے گی۔ریل خدمات کی بحالی کے دوران کوویڈ ایس او پیز پر عملدر آمد کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ٹرین سروس کے آغاز کے حوالے سے انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر رینج کی جانب سے بھی 8فروری کو ہی ریلوے حکام کے نام مکتوب روانہ کیا گیا ہے، جس میں شمالی ریلوے حکام کے فیصلے کے بارے میں پولیس کو آگاہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔اس ضمن میںچیف ایریا منیجر کشمیرثاقب یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کورونا کے بعد جب سے ریل خدمات بند ہوئی ہیں، ریلوے کو تقریباً 5کروڑ کے قریب نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرین سروس 20مارچ2020کو اس وقت بند کر دی گئی ہے جب کورونا کیلئے ایس او پیز جاری ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ سروس بحال کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے اور ریلوے حکام اس پر سوچ بچار کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب ریل سروس شروع کی جائے گی اس کیلئے کورونا ایس او پیز کا بھی خیال رکھا جائے گا اور اس کیلئے تیاریاں کی جا رہی ہیں کہ مسافروں کو کس قسم کی سہولیات دی جائے گی ۔17 فروری سے ٹرین سروس کی بحالی کی خبر کو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس بارے میں کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔