جموں// ایک ایسے وقت میں جبکہ جموں کے لوگ سر کے بال کاٹنے کے روز بروز بڑھ رہے واقعات کی وجہ سے خوف زدہ ہیںتو دوسری طرف سرمائی دارالخلافہ میںقائم فورنسک سائنس لیبارٹری سر کی چوٹیاں کاٹنے کی وجوہات کا پتہ چلانے میںناکام ہوچکی ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس نے ایف ایس ایل جموں کو کاٹے گئے بالوں کے نمونے پیش کئے تاکہ ان واقعات کے درپردہ وجوہات کاپتہ چل سکے لیکن زائید از دس دِن ہوگئے ہیںایف ایس ایل جموں کے سائنس دانوں نے اچانک بال کاٹے جانے کی وجوہات کا پتہ چلانے میںاپنی معذوری ظاہر کی حالانکہ ایف ایس ایل جموں میںجدید ترین تجرباتی ساز و سامان دستیاب ہے لیکن زبردست کوششوں اور متعدد تھیورسز کو بروئے کار لانے کے باوجود سر کی چوٹیاںکاٹنے کی وجوہات کا پتہ نہ چل سکا۔ یہ بات ایک سنیئر پولیس آفیسرنے کشمیر عظمیٰ کو بتانی۔ جن خواتین کے سرکے بال کاٹے گئے تھے ۔جموں کے بعد ان کاٹے گئے بالوں کے نمونے ایف ایس ایل سرینگر تجزیہ کے لئے بھیجے گئے ۔ پولیس کو توقع ہے اگلے دس دِن میںبال کاٹنے کی وجوہات کانتیجہ آئے گا۔ یاد رہے کہ ضلع جموں میں اب تک کم از کم سانبہ ، کٹھوعہ، راجوری ، ریاسی اور اُودہم پور اضلاع سے بھی خواتین کے سرکے بال کاٹنے کے واقعات رونما ہوئے ہیںاس سلسلے میں کشمیر عظمیٰ کے نمائندے نے متعدد دیہاتوں خاص طور سے آر ایس پورہ اور سانبہ کادورہ کیا تاکہ ان واقعات کے درپردہ وجوہات کاپتہ چلایا جاسکے اور ان واقعات کے بارے میں لوگوں کی رائے اور اُن کے خیالات جان سکے لیکن اچانک بالوں کے کاٹے جانے سے لوگوں کو سخت خوف زدہ پایا گیا اور وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ کئی لوگوں کاکہنا تھا کہ شائد ان واقعات کے پس پردہ کوئی شیطان طاقت کار فرما ہے۔ دریں اثنا تانترکوں نے لوگوں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اپنے گھروں کے دروازوں پر نمبو اور کالی مچر اور کالا دھاگا باندھ کر رکھ دیں اور اپنی کلائیوں پر پانچ دھاتا کڑا پہن کررکھیں ۔ ان باتو ں کا اظہار ہرجندر سنگھ ساکنہ موضع پھنڈر آرایس پورہ نے کیا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست کے نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے بھی ان واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ۔ انسپکٹر جنرل پولیس جموں کو ان واقعات کی تحقیق کرنے اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔