گول//کئی روز سے لگا تار بارشوں کی وجہ سے پورے سب ڈویژن گول میں جہاں لوگوں کے رہائشی مکانات ، پلوں اور سڑکوں کو کافی نقصان ہوا ہے وہیں محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے نئی تعمیر بھی ہفتوں میں ڈھیر ہوئی اور سڑکوں کی نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر لوگوں کے رہائشی مکانات اور زرعی اراضی میں پانی نے کافی نقصان کیا ہے ۔ گول سلبلہ روڈ پر بس اسٹینڈ سے صرف پچاس میٹر دورایک ڈنگا جو کئی مرتبہ دیا گیا پھر سے ڈھیر ہو گیا جہاں پر آج ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا جبکہ اس سے قبل بھی یہاں پر ایک گاڑی سو میٹر دور نیچے گئی تا ہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ یہاں پر ڈرائیوروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ پر محکمہ تعمیرات عامہ نے اس ڈنگے میں لاکھوں روپے نکالے اور اسے تین بار تعمیر کیا لیکن ہر بار ڈھیر ہوتا ہے جس میں ناقص میٹریل کا استعمال ہوتا ہے جس وجہ سے یہ ڈنگا گرتا جا رہا ہے ۔ یہاں پر چار کلو میٹر اس سڑک پر محکمہ تعمیرات عامہ نے پانی کی نکاس کے لئے نالی تو نکالی لیکن وہ بھی مہینوں میں ڈھیر ہو گیا اور پوری نالی مٹی اور ملبے سے بھری ہوئی ہے ۔ اگر چہ کئی مرتبہ اے ای ای اور متعلقہ محکمہ کے دوسرے لوگوں سے بھی استدعا کی تھی اور تحصیلدار سے بھی استدعا کی تھی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور بارش کا سارا پانی سڑک کے بیچوں بیچ آتا ہے جس وجہ سے پوری سڑک میں نالی جیسی بنی ہوئی ہے ۔ وہیں حضرت شیخ العالم ؒ کی زیارت کی جانب جا رہی سڑک پر لاکھوں کا ڈنگا ہفتوں میں ہی ڈھیر ہو گیا جس پر تحصیلدار گول نے ایکسن پی ڈبلیو ڈی کو مطلع کیا ۔ وہیں پرتمولہ گول سڑک پر بھی محکمہ نے لاکھوں روپے نکالے لیکن تعمیری کام صرف ذاتی مفاد کے لئے کیا گیا اور جامع مسجد پرتمولہ سے مین روڈ گول رام بن کے ساتھ ملانے والے لنک روڈ پر بھی محکمہ نے لاکھوں روپے نکالے لیکن یہ نا قابل استعمال ہے ۔یہاں پر محکمہ کے ایکسن نے ایم ایل اے اعجاز احمد خان کے ایک دربار میں اس بائی پاس پرتمولہ روڈ پر شنگل کی مکمل رپورٹ پیش کی تھی لیکن زمینی سطح پر شنگل ہوئی ہی نہیں ہے جو قابل افسوس کی بات ہے ۔ بارشوں نے جہاں محکمہ تعمیرات عامہ کی پول کھولی وہیں جامع مسجد گاگرہ کے پیچھے بھی ایک بہت بڑی پسی گر آئی جس وجہ سے مسجد کو کافی خطرہ لا حق ہے ،اس سے قبل چنا علاقہ میں کئی علاقوں کو ملانے والا اہم پل زمین بوس ہو گیا ۔ ادھرداڑم میں بھی شدید بارشوں کی وجہ سے زمین کھسکی جس وجہ سے وہاں پر گیمون ریلوے تعمیری کمپنی کی جانب سے تعمیر ہو رہے کوارٹروں کو نقصان پہنچا اور یہاں پر لوگوں نے جہاں ایک طرف سے اس کے ذمہ وار ٹھیکیداروں کو ٹھہرایا وہیں کئی لوگوں نے کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا کیونکہ کمپنی نے پہلے سے کھسکی ہوئی اراضی پر یہاں پر کوارٹر تعمیر کئے جس وجہ سے یہاں پر پھر سے اس اراضی پر دبائو پڑا ۔ یاد رہے کئی سال قبل یہاں پر پورا علاقہ کھسکا جس وجہ سے ایک مسجد ،سکول اور چالیس رہائش گھر زمین بوس ہوئی اور یہاں پر بٹ پورہ علاقہ میں لوگوں نے ہجرت کی اور وہ دوسری جگہ رہائش پذیر ہیں ۔ اس طرح سے گول کینٹھہ سڑک بھی زیر آب ہے اور گول بازار میں آبِ نکاس نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار کافی پریشان ہیں اور گریف کی زیر تعمیر سڑک کی وجہ سے ہسپتال کے ملحقہ میں سڑک ڈیم کی شکل اختیار کرتی ہے جہاں لوگوں کو ہسپتال کے اندر جانے اور باہر نکلنے میں کافی دقتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ وہیں سنگلدان و دوسرے علاقوں میں بھی لوگوں نے بارشوں کی وجہ سے سڑکوں کوہوئے نقصانات کی شکایت کی ۔