عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //قومی دارالحکومت دہلی میں ہوا کا معیار ایک بار پھر انتہائی خراب سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق، دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس اے کیو آئی پھر سے 500 کو پار کر گیا ہے۔سی پی سی بی کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی کے 19 مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر ہوا کا معیارشدید زمرے میں درج کیا گیا تھا۔ آنند وہار نے سب سے زیادہ اے کیو آئی ریکارڈ کیا۔ تاہم، باقی مانیٹر اسٹیشنوں پر ہوا کا معیا رانتہائی خراب زمرے میں رہا۔دریں اثنا، ہندوستان کے محکمہ موسمیات نے انتہائی گھنی دھند کے لیے “اورنج ایلرٹ” جاری کیا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 6.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو کہ موسم کی اوسط سے 0.5 ڈگری کم ہے۔قومی دارالحکومت میں پیر کے روز حدِ نگاہ میں زبردست کمی دیکھی گئی، کیونکہ فضائی آلودگی اور گہرے کہرے کی موٹی تہہ نے پورے این سی آر کو اپنی زد میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ۔
گہرے کہرے کی وجہ سے حدِ نگاہ تقریباً صفر تک کم ہو گئی جس کے نتیجے میں آئی جی آئی ہوائی اڈے پر پروازوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ شدید سردی اور اسموگ کے سبب نوئیڈا میں اسکول بند کر دیے گئے۔دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گھنے کہرے کی وجہ سے پیر کی صبح 125 سے زیادہ پروازیں منسوخ اور آٹھ کو دوسرے شہروں کی طرف موڑ دیا گیا دہلی ایئرپورٹ کے حکام نے بتایا کہ صبح 9 بجے تک مختلف ایئر لائنز کی 64 پروازیں منسوخ کر دی گئیںاس کے علاوہ دیگر شہروں سے آنے والی اتنی ہی تعداد میں پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ دہلی پہنچنے والی آٹھ پروازوں کو دوسرے شہروں کی طرف موڑ دیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایئرپورٹ پر حد نگاہ ایک میٹر رہ گئی۔دہلی ہوائی اڈے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا کہ رات 1 بجے سے ہی کیٹ-3 طریقہ کار کے تحت چل رہی ہیں۔ یہ سلسلہ صبح 10 بجے تک جاری رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ جو طیارے اور عملے کے ارکان کیٹ-3 کے لیے اہل ہیں وہیں لینڈنگ اور ٹیک آف کرسکتے ہیں۔ کیٹ-3 انتہائی جدید آلات کی مدد سے لینڈنگ اور ٹیک آف کی سہولت ہے، جو انتہائی گھنے کہرے کے حالات میں استعمال ہوتی ہے۔ایئر لائنز نے مسافروں کو ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔