ہمارے عزم کوتوڑا نہیںجا سکتا:لائیگرو
سرینگر//اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدرمحبوبہ مفتی کو سمن جاری کئے جانے کومرکزی حکومت کی بدلے کی سیاست سے تعبیر کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری غلام نبی لون ہانجورہ اور یوتھ رہنما عارف لائیگرو نے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے جموں کشمیرکے لوگوں کے اُ ن کے آئینی حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد کے عزم کو توڑانہیں جاسکتا۔ایک بیان میں ہانجورہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے طلب کئے جاناجموں کشمیرکی قیادت اور لوگوں کو زیرکرنے کاایک اورمنصوبہ ہے تاکہ خطے میںمختلف رائے رکھنے کو ختم کیاجائے اور لوگوں کی مبنی برحق مانگ یعنی5اگست2019سے پہلے کی آئینی حیثیت کی بحالی کوخاموش کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے ہماری آئینی حیثیت کی بحالی کے عزم کوکمزور نہیں کیا جاسکتاہے اور یہ بھاجپا کی تقسیمی سیاست اورنظریہ کی مخالفت کرنے کی قیمت ہے ۔پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے یوتھ رہنماعارف لائیگرو نے کہا ہے کہ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے پارٹی صدرمحبوبہ مفتی کو طلب کئے جانے سے ہمارے عزم اورحوصلے کوتوڑا نہیں جاسکتا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ان ہتھکنڈوں سے جموں کشمیرکے لوگوں کی نمائندگی کرنے سے ہمیں روکا نہیں جاسکتا۔لائیگرونے کہا کہ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کااستعمال کرکے بدلہ لیناان کی بدحواسی کاثبوت ہے جس سے حکومت ہند کو کچھ حاصل ہونے والانہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو کے خلاف اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کااستعمال بلاشبہ تشددآمیزہے۔انہوںنے کہا کہ اس کیلئے جووقت منتخب کیا گیا ہے وہ بھی عیاں ہے۔وہ انہیں خاموش کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔لائیگرونے کہا کہ حکومت ہند کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی سخت گیر پالیسی جس پروہ عمل پیرا ہیں،کے پس منظر میں قانون اور بدلے میں تفریق ختم ہوگیا ہے ۔پی ڈی پی یوتھ رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت کو انتقام گیری کی پالیسی کے نتائج کاارداک کرنا چاہیے اورانہیں اس سے اجتناب کرناچاہیے ۔اس سے ہمارے جموں کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی کرنے کے عزم کوتوڑانہیں جاسکتا ہے۔
سیاسی انتقام گیری کے سوا کچھ نہیں:تاریگامی
سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو اینفورسمنٹ دائریکٹوریٹ کی طرف سے طلب کئے جانے کو مرکزمیںبھاجپا حکومت کے سیاسی حریفوں کی اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ رہنمایوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ سیاسی انتقام گیر ی کے سواکچھ نہیں ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ 5اگست2019کے غیرآئینی اوریکطرفہ فیصلوں کوواپس لئے جانے کی حقیقی مانگ کوخاموش کرنے اوراختلاف اور یک رائے نہ ہونے کوختم کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے اپنائی جارہی بدلے کی سیاست کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو انتقام گیری اورچن چن کرخوف زدہ کرنے کے خطرات کاادراک ہوناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے اسے متعلقین کے ساتھ مذاکرات کرکے جموں کشمیرکے خصوصی درجے کوبحال کرنا چاہیے جو جموں کشمیراورلداخ میں بے یقینی کوختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔