بلال فرقانی
سرینگر // جموں و کشمیر سرکار نے سلامتی سے متعلق اخراجات کے تحت مختلف زمروں کیلئے ایکس گریشیا معاوضے کا نیا اور جامع فریم ورک جاری کیا ہے، جس کے تحت متعدد شعبوں،جن میں مجسٹریٹ، پولیس و نیم فوجی اہلکار، سرکاری ملازمین، شہری، سرحدی فائرنگ کے متاثرین اور املاک کو ہونے والے نقصان کیلئے معاوضے کی شرحیں از سر نو مقرر کی گئی ہیں۔نئے حکم نامے کے مطابق مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی کے دوران اموات کی صورت میں معاوضہ2لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پولیس اہلکاروں اور ایس پی اوز کیلئے معاوضہ 5 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ سابقہ فوجی اہلکاروں کو 2لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ مستقل معذوری کی صورت میں75 ہزار روپے اور جزوی معذوری کی صورت میں10ہزار روپے مقرر کئے گئے ہیں۔نیم فوجی دستوں کیلئے بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اگر کوئی غیر مقامی نیم فوجی اہلکار جموں و کشمیر میں جان گنوا بیٹھتا ہے تو اس کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ وہ نیم فوجی اہلکار جو جموں و کشمیر کے باشندے ہیں اور ڈیوٹی کے دوران یو ٹی کے اندر یا باہر فوت ہوتے ہیں، ان کیلئے معاوضہ25 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مستقل معذوری کی صورت میں75ہزار اور جزوی معذوری کی صورت میں10 ہزار روپے دیے جائیں گے۔پولیس کے علاوہ دیگر سرکاری ملازمین کیلئے موت کا معاوضہ ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مستقل معذوری کی صورت میں75 ہزار روپے جبکہ چوبیس گھنٹے سے زائد ہسپتال میں داخل رہنے والی سنگین چوٹ کیلئے 5 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ چوبیس گھنٹے سے کم داخلے کی صورت میں ایک ہزار روپے اور ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ ہونے والی معمولی چوٹ کیلئے 500وپے مقرر کیے گئے ہیں۔شہریوں اور دیگر افرادجن میں ایل او سی/آئی بی کے متاثرین، سرینڈر کئے گئے افراد، مخبر بننے والے سابق ملی ٹینٹ شامل ہیںکیلئے موت کا معاوضہ یکساں طور پر ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مستقل معذوری کی صورت میں 75 ہزار روپے، 24 گھنٹے سے زیادہ اسپتال داخلے پر 5 ہزار روپے، کم داخلے پر ایک ہزار روپے اور معمولی چوٹ کیلئے500 روپے فراہم کیے جائیں گے۔جموں و کشمیر کے رہائشی دفاعی اہلکاروں کیلئے موت کا معاوضہ 5 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر کوئی دفاعی اہلکار ڈیوٹی کے دوران یو ٹی کے اندر فوت ہو جائے تو اس کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے ملیں گے، جبکہ یو ٹی سے باہر موت کی صورت میں 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔املاک کو ہونے والے نقصان کا بھی واضح فریم ورک جاری کیا گیا ہے۔ کسی بم دھماکے یا تخریب کاری کے نتیجے میں متاثر ہونے والی املاک کیلئے نقصان کا 50 فیصد یا ایک لاکھ روپے (جو کم ہو) ادا کیے جائیں گے۔ اگر نقصان بڑا ہو تو زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے تک معاوضہ، جس میں7 لاکھ روپے غیر منقولہ اور 3 لاکھ روپے منقولہ املاک کیلئے ہے،فراہم کیا جا سکتا ہے۔ سرحد پار گولہ باری سے املاک کو ہونے والے نقصان کیلئے 50 فیصد یا ایک لاکھ روپے (جو بھی کم ہو) اد کیے جائیں گے۔یہ حکم عمومی انتظامی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری ایم راجو کے دستخط کے ساتھ جاری کیا گیا ہے اور تمام فائنانشل کمشنرز اور پولیس سربراہ کو اس پر فوری عملدرآمد کیلئے بھیجا گیا ہے۔ نئی پالیسی کا مقصد معاوضے کے عمل کو شفاف، واضح اور متاثرین کیلئے آسان بنانا ہے تاکہ حقیقی ضرورت مندوں کو بروقت مدد پہنچ سکے۔