عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل کہا کہ این سی خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے آئینی، جمہوری اور سیاسی حقوق کے تحفظ اور بحالی کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ضمانتوں اور ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو لے کر پارٹی نئی دہلی میں احتجاج کرے گی اوراس احتجاج میں شرکت کے لئے کسی کے دروازے پر دستک نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی کے سامنے کشکول لے کر جائیں گے۔ چھتہ بل میں پارٹی کے سینئر رہنما مرحوم خواجہ غلام محی الدین شاہ کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب کے حاشئے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ انڈیا بلاک جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے معاملے پر پہلے ہی متحد ہے اور اس مطالبے کی حمایت کر رہا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے درمیان جن شرائط اور وعدوں کی بنیاد پر رشتہ قائم ہوا تھا، اُن کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہاں کے حالات ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے ہیں اور اختیارات کی تقسیم بھی غیر متوازن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ضرورت سے زیادہ اختیارات ہیں، جبکہ ایک منتخب عوامی حکومت کو اپنے فرائض انجام دینے کے لئے درکار اختیارات حاصل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا، ’’لیفٹیننٹ گورنر نئی دہلی کی جانب سے نامزد کردہ نمائندہ ہیں، جبکہ جموں و کشمیر کے عوام نے اپنی جمہوری حکومت منتخب کی ہے۔ اس سے قبل غلام محی الدین شاہ کی22ویں برسی پر اُن کے مقبرہ واقع زیارت حضرت سید محمد منطقیؒ صاحب چھتہ بل پر ایک پُر وقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں سب سے پہلے قرآن کی تلاوت اور کلمات وتحلیلات کی مجلس آراستہ ہوئی۔ بعد میں مرحوم کے مرقد پر گلباری، فاتحہ خوانی ادا کی گئی، جس میں پارٹی لیڈران ،عہدیداروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔