اشتیاق ملک
ڈوڈہ //محکمہ صحت میں این ایچ ایم کے تحت کام کر رہے ملازمین نے باقاعدہ طور پر جاب پالیسی بنانے، ماہانہ تنخواہوں میں اضافہ کرنے و مساوی کام برابر تنخواہ’ کو سرکار سے لاگو کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ این ایچ ایم یونین لیڈر و سابق ضلع صدر فیضان ترمبو نے ڈوڈہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ ایم، آر این ٹی سی پی، جے کے ایس اے سی ایس کے تحت کام کر رہے ملازمین پچھلے پندرہ برسوں سے جموں و کشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ سب سینٹرز میں این سی ڈی، آر بی ایس کے و آئی ڈی ایس پی اسکیم کے تحت سینکڑوں ملازمین کام کررہے ہیں لیکن ان کے ساتھ ہمیشہ کی طرح آج بھی سوتیلے پن کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا ان اسکیموں میں کام کر رہے ڈاکٹروں و دیگر نیم طبی عملہ نے اپنے جائز مطالبات کو کئی بار متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا لیکن آج تک یقین دہانی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ 2017 و 2018 میں اسوقت کی سرکار نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس نے محکمہ فائنانس کے ذریعے حکومت کو منظوری دینے کے لئے مکمل رپورٹ پیش کی تھی لیکن پانچ سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی سرکار نے ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیا۔ترمبو نے کہا کہ این ایچ ایم ملازمین نے اس کے باوجود کووڈ 19 کے بحران کے دوران ڈھائی سال کے عرصہ میں مثالی کام کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ مستقل ملازمین کے ساتھ برابر کام کررہے ہیں لیکن این ایچ ایم ملازمین کے مقابلے میں ان کی تنخواہیں چار گناہ زیادہ ہیں جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے ہریانہ، اڑیسہ، اروناچل پردیش سرکاروں کی ترز پر جموں و کشمیر میں کام کر رہے این ایچ ایم ملازمین کے لئے مستقل پالیسی بنانے و دیگر تمام مراعات فراہم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار نے ان کی مانگوں کو پورا نہیں کیا تو وہ مجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔