محتشم احتشام
پونچھ//شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما کی جانب سے معروف مصنف اور سینئر کالم نگار ایم ایس نازکی کو ’آپریشن سندھور میڈل‘ سے نوازا جانا دفاعی صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔ایم ایس نازکی نے بطور خصوصی دفاعی نمائندہ فوج کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتے ہوئے نہ صرف سرحدی علاقوں کی صورتحال کو اجاگر کیا بلکہ فوجیوں کی بہادری، قربانی اور عزم کو بھی مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا۔ ان کی تحریروں میں زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات کی عکاسی بھی نمایاں رہی، جس نے قارئین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔
تقریب کے دوران جب لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما نے انہیں یہ اعزاز پیش کیا تو ایک جذباتی منظر دیکھنے میں آیا۔ نازکی کی آنکھوں میں آنسو اس لمحے کی اہمیت کو بیان کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، ’یہ اعزاز صرف میرا نہیں بلکہ ہر اس فوجی کا ہے جو ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دیتا ہے‘۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے اعزازات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فوج ان افراد کی خدمات کو بھی تسلیم کرتی ہے جو براہ راست میدان جنگ میں نہ ہونے کے باوجود اپنی تحریروں کے ذریعے قومی جذبے کو مضبوط بناتے ہیں۔ ایم ایس نازکی کی کاوشیں صحافت کے اس مثبت کردار کی ایک روشن مثال ہیں۔یہ اعزاز نوجوان صحافیوں کے لیے بھی ایک تحریک ہے کہ وہ ذمہ داری، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کو اپنا شعار بنائیں۔ ایم ایس نازکی کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ دفاعی صحافت کے مستقبل کے لیے ایک امید افزا پیغام بھی ہے۔