جموں // جے اینڈ کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز یہاں پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرین سرکاری دفاتر کے دفتری اوقات میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین کی قیادت جے اینڈ کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی ((R کے ریاستی صدر بابو حسین ملک کر رہے تھے۔ مظاہرین میں کلونت سنگھ سمبیال ،امر ناتھ ٹھاکور، ستیش دتہ، یشپال شرما ، سیوا رام راٹھور، انیل سنگھ سلاتھیہ،نریش کمار، وکاس چندر، وجے شرما ، منیش شرما ،آشیش شرما ،اشوک سنگھ ، انو سویا گپتا، اودھے سنگھ پٹھانیہ، انیل گپتا، ارون شرما ، فریدہ بانو ،رنکو گل، بشیر ملک، پرم جیت سنگھ ، محمد صادق، اوتم چند، پون کمار، روہت جارج ،سوشیل شرما ، راکیش دتہ، و دیگران بھی شامل تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں مظاہریں پریس کلب کے باہر اکٹھا ہوئے ،وہ جموں خطہ میں موسم گرما کے دوران دفاتر میں موجودہ اوقات کار صبح 10:00 بجے سے بعد دوپہر 04:30 بجے تک کو بدل کر اسے صُبح 08:00 بجے سے 02:00بجے تک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے ریاستی صدر بابو حسین ملک نے سرکار سے جموں خطہ میں موسم گرما کے دوران دفاتر ی اوقات صُبح 08:00 بجے سے 02:00بجے تک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یا تو 5روزہ ہفتہ کا اعلان کرکے تمام دفاتر میں سنیچر وار کو چھٹی کا اعلان کیا جائے۔انہوں نے کلرکل کیڈر کے تنخواہ تفاوت کے لئے جاری ایس آر او نمبر333- میں ترمیم کرکے اسکا اطلاق مورخہ جنوری 1996 سے جبکہ مالی فوائد مورخہ 02/2003 سے ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت جاری کرنے ، سیکرٹریٹ اسسٹنٹ تربیتی کورس پاس کرنے کے بعد دو اضافی انکریمنٹ بحال کرنے ،جسے ایس آر او۔333 میں غلطی سے بند کیا گیا ہے،کا مطالبہ کیا ہے۔ملک نے میڈیکل الائونس میں اضافہ کرکے اسے مجودہ تین سو روپے سے بڑھا کر پانچ ہزار روپے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوںنے ایس آر او 30-GAD of 2019 بتاریخ 24-05-2019 کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا اور اسے ڈیلی وئیجروں /کنسالڈیٹد /کنٹریکچول اور آنگن واڑی ورکروں نئیڈ بیسڈ ورکروں کے مفاد کے برعکس قرار دیا ۔انہوںنے ڈیلی وئیجروں /کنسالڈیٹد /کنٹریکچول اور آنگن واڑی ورکروں نئیڈ بیسڈ ورکروں کو باقاعدہ بنانے کا بھی مطالبہ کیا ۔ بابو حسین نے محکمہ تعلیم کے تمام گزیٹڈ و نان گزیٹڈ ملازموں کو بھی باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک سے ملازموںکے جائز مطالبات حل کرنے کی اپیل کی گئی بصورت دیگر وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کو مجبور ہو جائیںگے۔بعد ازاں ،فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ لائحہ عمل پر عید کے بعد غور کیا جائے گا۔