عظمیٰ نیوز رسروس
سرینگر//ہندوستانی حکومت نے بدھ کے روز نوٹ کیا کہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی صورتحال ’اب بھی تشویشناک‘ ہے اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تجارتی ایل پی جی کے اضافی 10فیصد مختص کرنے کی پیش کش کی ہے۔ جوائنٹ سکریٹری (مارکیٹنگ اور آئل ریفائنری)، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت سوجاتا شرما نے کہا ’’ایل پی جی کا مسئلہ اب بھی تشویشناک ہے۔ آن لائن بکنگ میں بہتری آئی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تقسیم کاروں پر لمبی لائنیں ہیں‘‘۔شرما نے کہا کہ حکومت ہند نے ایک خط کے ذریعے تمام ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کمرشل ایل پی جی کے اضافی 10 فیصد مختص کرنے کی پیشکش کی ہے بشرطیکہ وہ ایل پی جی سے پی این جی میں طویل مدتی منتقلی میں مدد کرسکیں۔
امدادی فریم ورک کے تحت، حکومت ریاستوں کو اضافی تجارتی ایل پی جی سپلائی فراہم کرے گی۔سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کی درخواستوں کی منظوری اور شکایات کے حل کیلئے ریاستی اور ضلعی سطح کی کمیٹیوں کی تشکیل کیلئے 1فیصد اضافی مختص،ڈیمڈ سی جی ڈی اجازت نامے دینے کیلئے آرڈر جاری کرنے کیلئے 2فیصد اضافی مختص،سی جی ڈی اداروں کیلئے ڈگ اینڈ ریسٹور اسکیم متعارف کرانے کے لیے 3فیصد اضافی مختص اورسالانہ رینٹل/لیز چارجز کو کم کرنے کیلئے 4فیصد اضافی مختص رکھا گیا ہے ۔شرما نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’’اب، ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان اصلاحات کو آگے لے جائیں، منظوریوں کو تیز کریں اور گھریلو اور تجارتی اور صنعتی دونوں پی این جی صارفین کے لیے اپنے اپنے علاقوں میں کنکشن کو یقینی بنائیں‘‘ ۔عہدیدار نے نوٹ کیا کہ ملک میں گیس کی قلت کی اطلاعات کے درمیان گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر کے پٹرول پمپس میں پٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔