دنیا میں کہیں بھی اگر کسی ملک، کسی حکومت یا کسی گروہ کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہو تو وہ معاملہ صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ بین الاقوامی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کے خلاف پوری دنیا میں آواز اٹھتی ہے اور ایسے واقعات کی مذمت کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کرے اور ان جرائم سے باز آئے۔ چین میں تقریباً ایک کروڑ ایغور مسلمان ہیں جو شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں آباد ہیں۔ ان کے تعلق سے اکثر و بیشتر تشویشناک رپورٹیں میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق کم از کم دس لاکھ ایغور مسلمانوں کو جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں، حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں ان کے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہوتی ہے۔
یوں تو 2016 سے ہی ایغور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں بتدریج اضافہ ہو تا آیا ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے۔ ان کیمپوں کو ’’تعلیم نو‘‘ کے کیمپ کہا جاتا ہے اور چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہاں ایغور کمیونٹی کو چین کی مین اسٹریم میں شامل کرنے کے لیے ان کی تربیت کی جاتی ہے۔ وہ ان کیمپوں کو نظریاتی تعلیمی ادارے کہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں لائے جانے والے افراد کی نظریاتی طور پر تطہیر کی جاتی ہے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ جو مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کو ان کیمپوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان کی ذہنیت بدلی جا سکے۔نیز یہ کہ سنکیانگ میں پیش آنے والے بیشتر تشدد آمیز واقعات کی وجہ مسلمانوں کی آزاد ریاست کے حصول کی جدوجہد ہے۔ لیکن میڈیا اداروں اور بعض ملکوں کی تیار کردہ رپورٹوں کے مطابق ایغور مسلمانوں کو مین اسٹریم میں شامل کرنے کے بہانے ان کو ان کے مذہب سے دور کیا جاتا ہے اور انھیں اپنے اسلامی عقیدے، مذہبی شناخت اور اپنی تہذیب کو خیرباد کہنے اور چینی قیادت سے وفاداری کا دم بھرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ صدر شی جن پنگ کے قصیدوں پر مشتمل کتاب پڑھائی جاتی ہے اور اس کے اسباق یاد کرائے جاتے ہیں۔ جو ان کو یاد نہیں کرتا اسے ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جرمن وزارت خارجہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء، مغربی ممالک کے سفارت خانوں او ربین الاقوامی تنظیموں سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایغور مسلمانوں کو مختلف قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جانا عام بات ہے۔ خواتین کو جسمانی کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ان تشدد آمیز واقعات کی وجہ سے ان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایغور مسلمانوں کی صورت حال پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں جو تفصیلات دی گئی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ یہ رپورٹ ان کیمپوں سے باہر آنے والی متعدد خواتین کے انکشافات پر مبنی ہے۔ ان خواتین کے مطابق چینی مردوں کی جانب سے خواتین کی منظم انداز میں مسلسل اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں ادویات کے سہارے بانجھ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کی نس بندی کی جاتی ہے یا پھر ان کی بچہ دانی نکال دی جاتی ہے تاکہ کوئی اولاد نہ ہو سکے۔ وہاں جو بھی چینی مرد آتے ہیں وہ نقاب پوش ہوتے ہیں۔ وہ اپنی پسند کی خواتین کو لے جاتے ہیں اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں۔ باہر آنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایک ساتھ کئی کئی خواتین لے جائی جاتی ہیں۔ لے جانے سے قبل ان کو بے لباس کر دیا جاتا ہے اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی جاتی ہیں تاکہ وہ اس اذیت کے دوران جنبش بھی نہ کر سکیں۔ انھیں جن کمروں میں لے جایا جاتا ہے ان کے باہر ان کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس فعل میں وہاں کے گارڈ بھی ملوث ہوتے ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ جسمانی اذیت بھی دی جاتی ہے۔ بجلی کے جھٹکے بھی لگائے جاتے ہیں اور ادویات کے سہارے ان کے دل و دماغ اور جسمانی نظام کو اس طرح مفلوج کر دیا جاتا ہے کہ انھیں پیٹ بھر کھانے کے علاوہ اور کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی۔
ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے ذمہ خواتین کو دوسرے کمرے میں پہنچانے کا کام تھا۔ عصمت دری کے بعد جب خواتین وہاں سے نکلتیں تو اس سے اس کمرے کی صفائی کروائی جاتی۔ ان خواتین نے جو واقعات بیان کیے ہیں وہ انتہائی غیر انسانی اور لرزہ خیز ہیں۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ اور آسٹریلیا نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چین نے انسانیت کے خلاف جرم اور ایغور مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے۔ اس نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی مشاہدین کو ان کیمپوں میں جانے دے تاکہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کر سکیں۔ جبکہ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔
بی بی سی کے مطابق ان کیمپوں کے اندر کی کہانیاں مشکل سے ہی ملتی ہیں۔ تاہم متعدد ایسے افراد جنھیں وہاں بند رکھا گیا اور ایک گارڈ نے بی بی سی سے بات کی اور بتایا کہ انھوں نے وہاں پر منظم انداز میں ہونے والی اجتماعی عصمت دری اور تشدد کے واقعات دیکھے ہیں۔ بی بی سی نے سنکیانگ سے ایک قازق خاتون کا انٹرویو کیا جنھیں 18 ماہ تک اس کیمپ میں رکھا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں اس پر مجبور کیا گیا کہ وہ ایغور خواتین کو برہنہ کریں اور انھیں ہتھ کڑیاں لگائیں اور پھر انھیں چینی مردوں کے سامنے اکیلا چھوڑ دیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بعد میں وہ کمرے کو صاف کیا کرتی تھیں۔ گلزیرہ ایولخان بتاتی ہیں کہ میرا کام تھا کہ خواتین کی قمیضیں اتاروں اور پھر انھیں ہتھ کڑیاں لگاؤں تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔ پھر میں کمرے سے باہر آ جاتی تھی اور کوئی چینی مرد یا پھر کوئی پولیس والا کمرے میں داخل ہوتا تھا۔ میں کمرے کے باہر خاموشی سے بیٹھی ہوتی تھی اور جب وہ مرد کمرے سے نکلتا تھا تو میں اس خاتون کو نہانے کے لیے لے کر جاتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ چینی مرد نوجوان قیدیوں اور خوبصورت قیدیوں کو حاصل کرنے کے لیے رقم بھی ادا کرتے تھے۔
ان کیمپوں کے کچھ اور سابق قیدیوں نے بتایا کہ انھیں گارڈز کی مدد کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا یا پھر انھیں سزا دی جاتی تھی۔ گلزیرہ ایولخان کہتی ہیں کہ مداخلت کرنے یا مزاحمت کرنے کی ان میں طاقت نہیں تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہاں پر عصمت دری کا ایک منظم نظام تھا تو انھوں نے کہا ہاں بالکل تھا۔ ایک قازق خاتون تورسنے زیائدین کا کہنا ہے کہ کچھ خواتین کو جب لے کر جایا جاتا تھا تو وہ لوٹتی ہی نہیں تھیں۔ کچھ خواتین جو لوتٹی تھیں انھیں کہا جاتا تھا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ کسی کو نہیں بتائیں۔9 مارچ 2018 کو تورسنے سے کہا گیا کہ وہ ایک مقامی پولیس اسٹیشن جائیں کیونکہ انھیں مزیدتعلیم کی ضرورت تھی۔ انھیں پھر اسی حراستی مرکز میں لے جایا گیا جہاں انھیں پہلے لے جایا گیا تھا۔ مگر اس مرتبہ وہ جگہ کافی بدل چکی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس مرتبہ حراستی مرکز کے باہر بسیں کھڑی تھیں اور ان بسوں سے نئے قیدی اتا رے جا رہے تھے۔ خواتین سے ان کے زیور چھینے جا رہے تھے۔ ان کے کانوں سے بالیاں ایسے کھینچی گئیں کہ ان کے کانوں سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔ انھیں ایک کمرے میں دیگر خواتین کے ساتھ دھکیلا گیا جن میں ایک معمر خاتون بھی تھیں۔ بعد میں تورسنے اور اس خاتون کی دوستی ہو گئی۔ تورسنے کہتی ہیں کہ گارڈز نے اس معمر خاتون کا اسکارف سر سے کھینچ کر اتار دیا اور وہ ان پر لمبا ڈریس (مکمل جسم ڈھانپنے والا لباس) پہننے پر چیخنے لگے۔ لمبا ڈریس پہننا اب ایغور کے لیے ایک ایسا جرم بن گیا ہے جس پر انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اس معمر خاتون کے سارے پکڑے اتار دیے یہاں تک کہ وہ انڈرویئر میں رہ گئیں۔ وہ اس قدر شرمندہ تھیں کہ ہاتھوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس خاتون کے ساتھ ان کا رویہ دیکھ کر میں بہت روئی۔ان کے مطابق ہر کمرے میں 14 خواتین ہوتی تھیں۔ کھڑکیوں پر سلاخیں تھیں۔ ایک بیسن تھا اور زمین میں ایک سوراخ بیت الخلا کا کام دیتا تھا۔ جب انھوں نے پہلی مرتبہ خواتین کو رات کے وقت کمروں سے لے جانے کا عمل دیکھا تو انھیں سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں سمجھی انھیں کہیں اور لے جایا جا رہا ہے۔
یغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ سے بات کرتے ہوئے کلبنیر صادق نے بتایا کہ انھوں نے خواتین کے اندر بجلی کے ڈنڈے ڈال کر انھیں جھٹکے دینے کی کہانیاں سنی ہیں۔ یہ تورسنے کے دعوؤں کی تائید کرتا ہے۔ کلبنیر کہتی ہیں کہ چار قسم کے برقی جھٹکے دیے جاتے تھے۔ دستانہ، ہیلمٹ، کرسی اور کسی ڈنڈے سے ریپ۔ عمارت میں چیخوں کی آوازیں گونجتی تھیں۔مجھے کبھی دوپہر کے کھانے کے دوران آوازیں آتی تھیں، کبھی کلاس کے دوران۔ ایک اور استاد جنھیں اس کیمپس میں پڑھانے پر مجبور کیا گیا، سیراگل سوئتبے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’’اجتماعی عصمت دری عام بات تھی‘‘ اور گارڈ اپنی مرضی کی نوجوان لڑکیاں اور خواتین کو اٹھاتے تھے اور لے جاتے تھے۔ انھوں نے ایک 20 یا 21 سالہ لڑکی کی خوفناک کہانی سنائی جس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور تقریباً 100 قیدیوں کے سامنے لا کر کھڑا کیا گیا اور اس سے زبردستی اقرارِ جرم کروایا گیا۔ پھر سب کے سامنے پولیس والوں نے باری باری اس کی عزت لوٹی۔ اس دوران حکام نے قیدیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی کہ کون مزاحمت کر رہا ہے، کون اپنی آنکھیں بند کر رہا ہے، کون دوسری جانب دیکھ رہا ہے، کون مٹھیاں بند کر رہا ہے۔ پھر ان لوگوں کو سزا کے لیے لے جایا گیا۔ سیراگل کہتی ہیں کہ اس دوران وہ بچی مدد کے لیے پکارتی رہی۔ وہ منظر بہت خوفناک تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ میں مر گئی ہوں۔ میں مردہ تھی۔
اس رپورٹ میں ایسے بہت سے واقعات بیان کیے گئے ہیں جن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ لیکن وہ ان واقعات کی آزادانہ جانچ کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ کئی ملکوں نے آزاد بین الاقوامی مشاہدین کے دورے کی ضرورت پر زور دیا ہے او رکہا ہے کہ جو انکشافات ہوئے ہیں ان کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔
موبائل نمبر۔ 9818195929
ای میل۔[email protected]