ٹی ای این
سرینگر//بھارت میں مالیاتی فراڈ کی ایک خطرناک شکل تیزی سے سامنے آ رہی ہے جس میں شہریوں کے پی اے این نمبر کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کے نام پر جعلی قرضے حاصل کیے جا رہے ہیں، اور متاثرہ افراد کو اس وقت معلوم ہوتا ہے جب ان کا کریڈٹ اسکور اچانک گر جاتا ہے یا بینکوں کی جانب سے ریکوری کالز موصول ہونے لگتی ہیں، ماہرین کے مطابق فراڈ عناصر ڈیٹا لیک، فشنگ یا جعلی لون ایپس کے ذریعے لوگوں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے بینکوں اور فِن ٹیک کمپنیوں سے قرض لیتے ہیں اور رقم حاصل کرنے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں جس کا سارا بوجھ اصل PAN ہولڈر پر آ جاتا ہے، اس طرح کے واقعات میں متاثرین کا کریڈٹ اسکور شدید متاثر ہوتا ہے جس کے باعث مستقبل میں قرض یا کریڈٹ کارڈ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ PAN اب صرف ٹیکس شناخت نہیں بلکہ مکمل مالی شناخت بن چکا ہے اس لیے اس کا غلط استعمال انتہائی سنگین نتائج کا سبب بن رہا ہے، شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی کریڈٹ رپورٹ چیک کریں اور اگر کسی نامعلوم قرض یا مشکوک انٹری کا پتہ چلے تو فوری طور پر متعلقہ بینک، کریڈٹ بیورو اور سائبر کرائم پورٹل سے رابطہ کریں اور ضرورت پڑنے پر پولیس میں شکایت درج کروائیں، ماہرین نے عوام کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ اپنا PAN نمبر، OTP یا دیگر حساس معلومات کسی غیر معتبر شخص یا پلیٹ فارم کے ساتھ شیئر نہ کریں اور صرف مستند ایپس اور ویب سائٹس کا استعمال کریں کیونکہ معمولی سی لاپرواہی بھی بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔