یواین آئی
تہران/حالیہ امریکی فضائی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے کھیلوں کی دنیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ ایرانی حکام نے باضابطہ طور پر اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول فیفا ورلڈ کپ 2026 سے دستبردار ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے حالیہ عسکری کارروائیوں کے بعد موجودہ سیکورٹی حالات میں کھلاڑیوں کو امریکی سرزمین پر بھیجنا اور ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔ ایران نے ایشیائی کوالیفائنگ راؤنڈ میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے اپنے گروپ میں ٹاپ کیا تھا، جس کے باعث وہ مسلسل چوتھی بار عالمی کپ کے لئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہا۔ قرعہ اندازی کے مطابق ایران کو اپنے گروپ کے تمام میچز امریکہ میں کھیلنے ہیں۔
15جون:لاس اینجلس
نیوزی لینڈ کے خلاف
21جون:لاس اینجلس
بیلجیم کے خلاف
26جون: سیئٹل
مصر کے خلاف
صدر، ایرانی فٹ بال فیڈریشن کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ ہم ورلڈ کپ میں شرکت کر پائیں، تاہم حتمی فیصلہ کھیلوں کی وزارت اور اعلیٰ حکام مشاورت کے بعد کریں گے ۔اگر ایران دستبردار ہوتا ہے تو فیفا کو گروپ ری-شیڈولنگ یا کسی متبادل ٹیم کی شمولیت کے حوالے سے ہنگامی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب، میکسیکو میں خانہ جنگی اور اب ایران کی دستبرداری کے خطرے نے 2026 کے ورلڈ کپ کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔