لندن // جی-7 تنظیم میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لئے معاہدے کا وقت ختم ہو رہا ہے۔جی- 7 کے وزرائے خارجہ اجلاس کے میزبان ملک برطانیہ کی وزیرخارجہ لز ٹروس نے اس موقع پر کہا ہے کہ ویانا میں دوبارہ شروع ہونے والی بات چیت ایران کے لیے ایک سنجیدہ قرارداد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کا آخری موقع ہے۔برطانوی وزیر خارجہ لزٹروس نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ باز آئے اور اس معاہدے پر اتفاق کرے۔اجلاس کے حتمی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اب بھی ممکن ہے کہ ایران کو اپنی جوہری کشیدگی کو روکنا چاہیے اور معاہدے پر پہنچنے کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ واضح رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015کے معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں جس سے 2018میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
جدید ہتھیاروں کی تیاری میں روس سب سے آگے :پیوتن
ماسکو //روسی صدر ولادمیرپیوتن نے دعویٰ کیا ہے کہ جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری میں ہم یقیناً سب سے آگے ہیں۔جنگی وار ہیڈرز اور ان کے کیریئر کی تعداد کی بات کی جائے تو روس اور امریکا برابری پر ہیں ‘مستقبل میں دیگر عالمی طاقتوں کے پاس بھی ہائپر سونک ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی ہوگی لیکن جب تک اس کا بہت امکان ہے کہ ہمارے پاس اس کا بھی مقابلہ کرنے کے وسائل ہوں گے۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ اگر جنگی وار ہیڈرز اور ان کے کیریئر کی تعداد کی بات کی جائے تو روس اور امریکا برابری پر ہیں لیکن جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری میں یقیناً ہم سب سے آگے ہیں۔روسی صدر کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دیگر عالمی طاقتوں کے پاس بھی ہائپر سونک ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی ہوگی لیکن جب تک اس کا بہت امکان ہے کہ ہمارے پاس اس کا بھی مقابلہ کرنے کے وسائل ہوں گے۔ واضح رہے کہ روس نے جدید ہائہر سونک کروز میزائل کے کامیاب تجربے کا دعوی کیا ہے جس کا نام سرکون رکھا گیا ہے جبکہ روسی وزیر دفاع کے مطابق اس میزائل نے کامیابی کے ساتھ 400 کلو میٹر کی دوری پر اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔روسی وزارت دفاع کے مطابق سرکون نامی ہائپر سونک کروز میزائل کو جنگی جہازوں اور آبدوزوں میں نصب کیا جائے گا جس سے بحری حدود کی حفاظت مزید مضبوط اور مستحکم ہوجائے گی۔خیال رہے کہ ہائپر سونک کروز میزائل فضا میں آواز کی رفتار سے 5 گنا زائد اور 62 سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ یہ ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سے سست ہیں۔