یو این آئی
سرینگر//ایران کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم ہندوستانی میڈیکل طلبہ، جن میں جموں و کشمیر کے درجنوں نوجوان بھی شامل ہیں، وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور رہائشی علاقوں کے قریب دھماکوں کے بعد شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ خراب ہوتے جا رہے ہیں اور انہیں اپنی زندگی کے حوالے سے مسلسل خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ طلبہ کے مطابق انہوں نے تہران میں بھارتی سفارت خانے سے رابطے کیے ہیں اور فوری طور پر وطن واپسی کی اپیل کی ہے۔ ایران کی مختلف جامعات—جیسے اْرمیا میڈیکل یونیورسٹی، شاہد بہشتی یونیورسٹی، تہران میڈیکل یونیورسٹی، ایران میڈیکل یونیورسٹی، کرمان یونیورسٹی، شیراز یونیورسٹی اور اصفہان میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ نے بتایا کہ ہر طرف بے یقینی اور بے چینی کی فضا قائم ہے۔
اْرمیا میں موجود طلبہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے کوائف سفارت خانے میں جمع کر دیے ہیں، مگر انہیں بتایا گیا کہ ملک سے نکلنے کا ممکنہ راستہ آرمینیا کے ذریعے ہے، جس کے بعد اپنے خرچے پر وطن واپسی کرنا ہوگی۔ طلبہ کے مطابق وہ متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اتنے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔قم میں حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ وہاں طلبہ کو ایک سرائے میں رکھا گیا ہے۔ایک طالب علم کے مطابق آٹھ مارچ کی رات وقفے وقفے سے زوردار دھماکے ہوئے، جس سے سرائے کے کمروں کے شیشے تک لرز اٹھے۔ طلبہ پوری رات خوف میں جاگتے رہے اور ہر دھماکے کی آواز پر محفوظ گوشوں کی طرف بھاگتے رہے۔کرمان، شیراز اور اصفہان میں بھی طلبہ سخت خوف میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ انہیں کہا گیا ہے کہ یہ علاقے بظاہر محفوظ ہیں، مگر آس پاس ہونے والے حملوں کی اطلاعات نے خوف میں اضافہ کر دیا ہے۔جموں و کشمیر کے والدین بھی شدید پریشان ہیں۔ والدین نے کہا ہے کہ ان کے بچے روتے ہوئے فون کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہیں۔ طلبہ اور والدین دونوں حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ جلد از جلد انہیں اس خطرناک ماحول سے نکال کر وطن واپس لایا جائے۔