عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// ملک کے دیگر حصوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی پیر کی شام سے اسلامی روایت اعتکاف کا آغاز ہوگیا، جو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عقیدت مند مسلمانوں کے لیے ایک نہایت روحانی اور بابرکت مرحلے کی شروعات کی علامت ہے۔رمضان کے آخری دس دنوں میں ادا کی جانے والی اس عبادت کے دوران عبادت گزار مساجد میں گوشہ نشینی اختیار کرتے ہیں اور اپنا وقت مکمل طور پر عبادت، غور و فکر اور روحانی عقیدت کے لیے وقف کرتے ہیں۔اعتکاف کو اسلام میں سب سے زیادہ روحانی اجر و ثواب والے اعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس دوران معتکفین دنیاوی معاملات سے خود کو الگ کر لیتے ہیں اور مسجد کے احاطے میں قیام کرتے ہوئے دن اور رات عبادت میں گزارتے ہیں، جن میں قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکرِ الٰہی اور نوافل کی ادائیگی شامل ہے۔
اس عبادت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کے قریب ہونا، اس کی رحمت اور برکتیں حاصل کرنا اورلیلۃ القدر جیسی مقدس رات کی سعادت حاصل کرنا ہے، جسے اسلام میں سب سے بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔لفظ اعتکاف عربی کے لفظ ’عکف‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز سے وابستہ رہنا یا اس کے لیے وقف ہو جانا۔ اعتکاف روحانی نظم و ضبط اور عبادت کے ساتھ گہری وابستگی کی علامت ہے۔ اسلامی روایت میں اس عمل کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ حضرت محمد ؐ رمضان کے آخری دس دنوں میں باقاعدگی سے اعتکاف فرمایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم سنت ہے۔وادی کشمیر کی مختلف مساجد میں بڑی تعداد میں لوگ اعتکاف کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ مساجد کی انتظامیہ اور مقامی کمیٹیوں نے معتکفین کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ عبادت میں مصروف رہ سکیں۔کئی مساجد کو روشنیوں سے سجایا گیا ہے اور قرآنِ کریم کی آیات پر مشتمل بینرز آویزاں کیے گئے ہیں، جس سے عبادت گزاروں کے لیے ایک پر سکون اور روحانی ماحول پیدا ہو رہا ہے۔سرینگر سمیت مرکز کے زیر انتظام علاقے کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں افراد نے نمایاں مساجد اور دینی اداروں میں اعتکاف اختیار کر لیا ہے۔ ان میں ضلع بانڈی پورہ کا دارالعلوم رحیمیہ اور ضلع کپواڑہ کی مسجد مرشدین بھی شامل ہیں، جہاں معتکفین کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ان اداروں میں معتکفین کے لیے سونے کی جگہ، روزہ داروں کے لیے کھانے کا انتظام اور نماز و قرآن کی تعلیم کے لیے مخصوص مقامات فراہم کیے گئے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے عبادت کر سکیں۔علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اعتکاف محض ایک رسمی عبادت نہیں بلکہ روحانی تزکیہ اور خود احتسابی کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ وہ معتکفین کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس مقدس وقت کو اللہ سے مغفرت طلب کرنے، اپنے اعمال پر غور کرنے اور دنیا میں امن، خوشحالی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے دعا کرنے میں گزاریں۔اعتکاف ایک رضاکارانہ مگر انتہائی بابرکت عبادت ہے جو انسان کو دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ روایت کے مطابق یہ رمضان کے بیسویں دن کے غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے تک جاری رہتا ہے۔اسلامی علماء کے مطابق اعتکاف کی مختلف اقسام ہیں۔ سب سے عام سنت اعتکاف ہے جو رمضان کے آخری دس دنوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک قسم واجب اعتکاف ہے جو اس وقت لازم ہو جاتا ہے جب کوئی شخص اس کی نذر مان لے، جبکہ نفل اعتکاف سال کے کسی بھی وقت رضاکارانہ طور پر کیا جا سکتا ہے۔اعتکاف کرنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجد کے اندر ہی قیام کریں اور صرف انتہائی ضروری حاجات کے لیے باہر نکلیں۔ اس دوران کاروباری معاملات، غیر ضروری میل جول اور دیگر دنیاوی سرگرمیوں سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے عبادت گزار نماز، تلاوتِ قرآن اور دعا میں مصروف رہتے ہیں تاکہ روحانی تازگی اور اللہ کی برکتیں حاصل کر سکیں۔رمضان المبارک کے آخری ایام کے ساتھ جموں و کشمیر میں اعتکاف کا یہ سلسلہ خطے کی گہری روحانی روایتوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اہل ایمان اس مقدس وقت میں اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کے مزید قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔