بھارت کے رواں سیاسی حالات اور ان سے بری طرح متاثرہ ریاست جموں کشمیرکے حوالے سے بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے لیکن جو لوگ روزمرہ کی زندگی میں سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنے کی قوت سے محروم ہوچکے ہوں، خون آشام حالات اور الیکشن کی گہما گہمی کے دور میں بھی حق کو باطل سے الگ کرنے کی طاقت کہاں سے مجتمع کرسکیں گے۔ووٹ کے طالب جو بھی سیاسی لیڈر ووٹروں کے روبرو حاضر ہوجاتے ہیں، اپنا ماضی بیان کرنے کے بجائے اپنے سیاسی حریف کے لفظی چہرے کوکیچڑ سے ملفوف کر دیتے ہیں۔تاریخ کا اُلٹ پھیر، کذب بیانی،جھوٹے خوابوں کی تشہیراور عوام کو حاصل مجموعی نوعیت کے حقوق پر شب خون مارنے کے ارادے، یہی سارا کھیل کھیلناوقت کا سیاسی رواج بنایا جاتا رہا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ درپردہ سازشوں کے تحت لیڈروں اور سیاسی پارٹیوںکی نت نئی تقسیم کاری کو فروغ دے کرٹیڑھی انگلیوں سے گھی نکالنے کی کوششیں دوبالا کردی گئی ہیں۔ اب تو پرانی وضع کی ہر ترکیب کا ناک نقشہ بھی یہ کہہ کر مٹایا جانے لگا ہے کہ یہ سب دیش دروھی کی حکمت عملی تھی۔ پچھلے کچھ عرصہ سے سرکاری سطح پر ملک کے بقیہ حصوں میں جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے، بکائو میڈیا ایک خاص مصلحت اور متعصب سوچ کے تحت حقیقت ِحال کو شاز ونادر ہی بیان کرتا ہے اور بدلے میں بے سر ودُم فسانہ تراشیوں کا سہارا لے کر جموں کشمیر ریاست کی مخلوط تہذیب و تمدن کے چیتھڑے اُڑائے جاتے ہیں۔ آبادی کے مختلف طبقوں کو ایک دوسرے کے خلاف اُکسانا اور انہیں غلط فہمیوں میں جکڑے رکھنا کوئی اسی بکائو میڈیا سے سیکھے۔ روزمرہ کی قتل و غارت گری، بڑھتے مظالم اور زورزبردستی کے نتیجے میں ابھی صورت یہ بنی ہے کہ ایک طرف جموں کشمیر ریاست مین ا سٹریم سے اور بھی زیادہ دور پڑگئی ہے اور دوسری جانب اندرون ریاست میں بھی لوگوں کو خطّوںاور خیالوں کے خانوں میں بانٹنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہمارے صدیوں پرانے باہمی میل ملاپ اور آپسی اعتباریت کو مجروح کیا جارہا ہے ۔ ۱۴ فروری کے پلوامہ خود کش حملے کو بنیاد بنا کر جہاں ریاست کے پشتینی باشندوں کیلئے جموں شہر کو زندان میں تبدیل کردیا گیا ،وہاں ملک کے باقی حصوں میں بھی محنت مزدوری، بیوپار اور حصول ِتعلیم میں مصروف کشمیری لوگوں کو چن چن کر تعصب اور جسمانی ایذاء رسانی کا نشانہ بنایا گیا ۔ ملک بھر میں بھی اقلیتوں اور اقتصادی و سماجی طور کمزور طبقوں کو الگ تھلگ کرنے اور اُن پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کیلئے نت نئے طور طریقے ایجاد کئے جانے لگے ہیں۔ خالص سیاسی مسئلوں کو دین دھرم کے ساتھ جوڑ کر ملک کی اکثریتی آبادی کو بہکانے کی بھی رسم چلی ہے۔ کہاں گئے وہ دن جب بھارت کے ایک صوبہ کے ایک پروفیشنل کالج میں کشمیری سکالر کوسٹوڈنٹس انجمن کا صدر بنائے بغیر بات نہیں بنی تھی اور کہاں اب کا یہ موسم کہ کشمیریوں کو اپنی ہی ریاست کے دوسرے صوبے میں سرراہ چلنے میں بھی قباحت محسوس ہو رہی ہے۔
اسی نوعیت کی صورت حال میں ہمارے یہاں ایک اور تبدیلی کو پوری رازداری اور پُر پیچ و خم حالات وکوائف میں در آمد کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ خدا جانے سابق بیروکریٹ شاہ فیصل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے یا پھر وہ واقعی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر سیاست کے میدان میں اُترآیا ہے؟ وہ جب سرکاری نوکری سے مستعفی ہوا تھا تو اُس کے ہم وطن بہت سارے لوگ آئی اے ایس ٹاپر فیصل کے مستقبل کے بارے میں بہت دیر تک ذہنی انتشار کا شکار بنے رہے ۔ پھر جب لوگوں کے کان میں فیصل کا سیاست کے میدان میں اُترنے کی بھنک پڑ گئی، تب بھی اُمید بندھی رہی کہ کسی ایک جماعت میں شامل ہوکر فیصل اپنا قومی فریضہ ادا کرنے کی پابندی کرے گا لیکن دن دن گزرجانے کے ساتھ ہی عوام کے ذہنوں میں فیصل کے بارے میں طرح طرح کے اندیشے جگہ لینے لگے۔ پھر یہ اندیشے اُس وقت کچھ ہم وطنوں کیلئے ذاتی شادمانی، کچھ دوسروں کیلئے قومی پریشانی کے فریم ورک میں ڈھل گئے، جب ۱۶ مارچ اتوار کے دن راج باغ سرینگر میں منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شاہ فیصل نے ’’جے اینڈ کے پیپلز مو ؤمنٹ ‘‘نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالنے کا اعلان کیا۔ ہر بندہ اپنی مرضی کے مالک۔ کوئی بھی کشمیری دُعا کرنا چاہتا کہ ہوا بدلنے کیلئے کشمیر کا بچہ بچہ فیصل کا حامی بن جاتا اور میدان میں موجود ہر دوسری سیاسی جماعت کا نام مٹا کر اس قوم کو اتحاد و یکجہتی کی ایک نئی کشتی میں سوار کرتا لیکن دعا مانگتا تو کون ؟ ابھی تو سب کے ذہنوں پر نقش تازہ ہے کہ دہائیاں پہلے کانگریس کو یہاں زبردستی عوام کے سروں پر مسلط کرنے کے کوئی تیس، پنتیس سال بعد جب سے جموں کشمیر کے سیاسی میدان کو ایک اور خانے میں تقسیم کیا گیا تھا، اس قوم کے سر پرمنڈلاتی بربادی کی شدت بھی تین گنا بڑھ گئی۔ اب جو یہی رسم چلی ہے تو لون، انجنئیر، بھاجپا وغیرہ وغیرہ موؤمنٹوں کے سنگ سنگ ایک اور فیصل موؤمنٹ کے آنے کے نتیجے میں اس بربادی کے بادل اور بھی زیادہ گھنیرے ہوتے جارہے ہیں۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ حالات کونسا رُخ اختیار کریں گے اور کب شدت کی بارش برس کر ہمارے پائوں تلے کی زمین سرکنے شروع ہو گی، یعنی ہمارے سیاسی مسائل اور بھی زیادہ پیچیدہ ہوجانا ہی اَغلب ہے۔ تقسیم در تقسیم کے حالات میں ہمارا کچھ بھلا ہوجانا تو در کنار ہمیں اور بھی زیادہ خسارے کا ہی شکار ہونا ہے۔ کوئی بھی ذِی حس شہری اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ جو ہمارے یہاں گھر گھر میں ماتم منانے کی ہوا چلی ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس کی ذمہ داری کن کے کندھوں پر ڈالی جا سکتی ہے۔ تب بھی سبز پوشاک پہنے نئے رہنمائوں نے سیلف رول کا نعرہ لگاکر لوگوں کو بہت بڑے سبز باغ دکھائے تھے، جب کہ سیاسی طور دو پھاڑ ہوئے ہم لوگ اب پھر سے متحد ہوجانے کی کوششوں میں لگ کر آگے کے حالات کو نتیجہ خیز دیکھنے کے متمنی بن گئے ہیں، لیکن سیاست کے میدان میں مانگی گئیںدعائیں اجابت کا مقام کہاں پالیتی ہیں؟ جھوٹ، دھوکہ بازی اور خون خرابہ کی محلول سیاست دعائوں کے سہارے کہاں پروان چڑھ سکتی ہے؟ لوگ شاہ فیصل کے لئے صفر یا سو فی صد کامیابی کی دعا مانگیں، فریبی سیاست کی کامیابی کے لئے مانگی دعا ئوں کا بادلوں کو چیر کر آگے بڑھنا ناممکن ہی لگتا ہے۔ جب ایسا ممکن نہ ہو تو فیصل کی نئی جماعت کا قیام عمل میں آنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ شاید ہمارے سیاسی سماج کا ایک اور سیاسی بٹوارہ ہونا ہے اور اس کا بھی وہی منفی نتیجہ برآمد ہوگا جو پی ڈی پی کے معرض وجود میں لائے جانے کے بعد نکلا تھا، یا پھر اس سے بھی بدتر ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم بحیثیت ایک قوم اور بھی زیادہ کمزور ہو جائیں گے اور حریف کے شکنجے میں پھنس کر اور بھی زیادہ کس کر پسے جائیں گے۔اب کئی لوگ کئی طرح کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ صحیح کیا اور غلط کتنا، اس کا فیصلہ کرنے کیلئے عوام کو یک رائے ہو کر سوچنا ہوگا۔ دودھ کے جلے کو چھاج بھی پھونک پھونک کر پینا پڑتا ہے۔ شاہ فیصل کی لیکچر بازی سے اب تک یہی ایک بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ وہ ریاست کے بعض مخصوص خطوں میںموجود غربت اور پس ماندگی سے کافی متاثر ہے اور کسی علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی اور دوسرے کسی پرگنہ میں ناکافی طبی سہولیات پر برہم ہے اور فوری نوعیت کے اقدام کرکے اس خدو خال کے علاقوں کو بھی تعمیر و ترقی کے نقشہ پر لانے کا خواہش مند ہے۔ وسائل کی نا مساوی تقسیم اور پچھڑے علاقوں کے عوام کی مجبوریوں سے کون منکر ہوسکتا ہے؟ لیکن بقول شاہ فیصل کئی سیاسی جماعتیں پلیٹوں پر منڈیٹ سجاسجا کر ۱۵ ؍مارچ کے دن تک اُس کے تعاقب میں لگی ہوئی تھیں جو اُس نے سب کے سب مسترد کر کے ایک نئی موؤمنٹ کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ شاہ فیصل کی مرضی کے خلاف موؤمنٹ کے پلیٹ فارم سے گاہے گاہے ’’ ہم کیا چاہتے‘‘ کا نعرہ بھی اُبھر تا رہتا ہے۔ تاہم خود فیصل نے ابھی تک نہ آزادی کا اور نہ ہی ملک کے ساتھ جموں کشمیر کے حقیقی رشتے کا کو ذکر ہونے دیا ہے۔کوئی فیصل سے کہتا کہ یہاں کی سیاست کے ساتھ کھیلنے والے ہر کسی لیڈر کو ۳۷۰؍اور ۳۵؍الف اور دیگر ملتے جلتے نعروں کے ساتھ نبھاہ کرنا ہی پڑتا ہے لیکن شاہ تو خود اس طرح کے علم میں بادشاہ سے بھی زیادہ ہونہار ہے۔ وہ خود بھی محرمِ راز ہے کہ اس طرح کے معاملات میں سجاد لون بھی وہی بولی بولتا ہے، جو اس وقت محبوبہ مفتی کا قول ہے اور عمر عبداللہ بھی بہت پہلے سے اسی رسی کو کھینچتا چلاآیا ہے۔ کچھ لیڈر لوگ تو سرکاری خزانے سے باضابطہ طور تنخواہ لیتے رہنے کے باوجود آئینی رشتہ داری سے بڑھ کر اور باہر نکل کر نعرے لگا رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ جو بھی سیاسی جماعت ہو یا کوئی بھی سیاسی لیڈر ہو، ہر کسی کو عوام کے سامنے اپنا سیاسی لائحہ عمل بیان کرنے کی مجبوری ہوتی ہے اور ذمہ داری بھی ۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اس سلسلے میں اب کی بار بیان دیتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ الیکشن کے موقعے پر خالص کشمیر میں نئی نئی سیاسی جماعتوںکا قیام عمل میں لانے کی تگ دو کی جاتی ہے ، جب کہ جموں اور لداخ خطوں میں شازونادر ہی اس نوعیت کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ عمر عبداللہ اس سے قبل اپنے دور اقتدار (۲۰۰۹ء۔ ۲۰۱۴ء) میں کانگریس کے ساتھ کولیشن سرکار کی رہنمائی کرتے ہوئے تھکا تھکا سا نظر آرہا تھا۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم افسپا ہٹانے سے متعلق کچھ حد تک وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ہمرکاب بن گئے تھے لیکن دوسری جانب جسٹس صغیر کی اٹانومی بحالی کی سفارشات پر کانگریس کا معاندانہ رویہ عمر عبداللہ کو ستا رہا تھا۔ اس پر حد یہ کہ وزیر اعلیٰ کی کٹر مخالف پی ڈی پی کیلئے کانگریس صدر سیف الدین سوز کی ہمدرد ی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ عمر عبداللہ کا تلملانہ واجب تھا اور وہ تبھی سے عوام سے ۲۰۱۴ء کے اسمبلی انتخابات میں کسی ایک ہی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے کیلئے تلقین کرتا سنائی دیا تھا۔ اب کی بار عمر عبداللہ کے نشانے پر شاید شاہ فیصل کی نو زائیدہ پیپلز موؤمنٹ بھی ہو اور پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، عوامی اتحاد پارٹی سمیت چھوٹی بڑی دیگر جماعتیں اور گروہ بھی ہوں ۔ ظاہر ہے کہ عمر عبداللہ کے اس فرمان کے پس پردہ اُس کے اپنے جماعتی اغراض بھی پوشیدہ ہیں لیکن ابھی ہمارے سامنے پچھلے پانچ سال سے ریاست جموں کشمیر میں پھیلائے جارہے صوبائی تعصب کے اثرات کو زائل کرنے کی مجبوری ہے۔ ریاست کی خصوصی پوزیشن اور ریاستی عوام کو حاصل سٹیٹ سبجیکٹ حقوق کو ہتھیانے کیلئے بڑھتے طاقت ور ہاتھوں کو بے بس کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ انتہائی اہم اور نازک مسائل ہیں اور یکجہتی کے زیور سے آراستہ منظم، متحرک کشمیری عوام کی توجہ چاہتے ہیں۔ نئی پارٹیاں بنانا اور عوام کو نئے نئے خواب دکھانے کا نتیجہ یہی ہوگا کہ یہ قوم اور بھی کئی خانوں میں تقسیم ہوگی اور حریف قوتوں کے دیرینہ خواب پایہ تکمیل کو پہنچ پائیں گے۔کسی بھی لیڈر کو نئی پارٹی بنانے سے روکا نہیں جاسکتا ہے لیکن نئی جماعتوں کی داغ بیل ڈالنے کیلئے ابھی یہ وقت نا موزوں ہے اور اس بے کس قوم کے مجموعی مفادات کیلئے سم قاتل ہے۔ شاید شاہ فیصل بھی اپنی قوم کے مفادات کے خلاف چھیڑی گئی رواں جنگ کی تباہی اورمضر نتائج سے بے خبر نہیں ہوگا۔ کوئی بھی کشمیری باشندہ سجاد لون سے اس بارے میں نہ کوئی سوال کرسکتا ہے اور نہ لون کے سنبھلنے سدھرنے کی کوئی توقع کرسکتا ہے، لیکن بہت لوگوں کا ماننا ہے کہ شاہ فیصل کے ذہن پر قومی وقار کے جذبات بھی سوار ہیں اور وہ واقعی طور قوم کا بھلا سوچتا ہے۔ اُس کا چنا ہوا راستہ بھی قومی مفاد کی ہی خاطرداری ہو لیکن یہ وقت یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور سب کے سب لوگوں کو ایک جھنڈے کے زیر سایہ جمع کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ شاہ فیصل مقصد حاصل ہوجانے تک کسی بھی ایسی جماعت کے ساتھ اشتراک کرسکتا ہے جو اُس کے اپنے قومی نوعیت کے خیالات کے کچھ زیادہ قریب ہو اور وقتی طور اُسی جماعت میں شامل ہوکرطوفانوں میں گھری قومی نیا کو ساحل کے قریب لانے میںمددگار بن سکتا ہے۔