سرینگر//اقوام متحدہ کی بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی نے جو رپورٹ جاری کی ہے وہ نہ صرف ہولناک ہے بلکہ اس سے انسانی وجود ملیا میٹ ہونے کے شدید خطرے کو اجاگر کیا گیا ہے۔یہ رپورٹ دنیا بھر سے چنے جانے والے14000سائنسدانوں نے 8سال تک کام کرنے کے بعد تیار کی ہے اور دنیا بھر سے 40سائنسدانوں کے جائزے کے بعد شائع کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’گلوبل وارمنگ قابو سے باہر ہونے والی ہے‘‘۔اقوام متحدہ نے پوری دنیا کو موسمیاتی ہولناکیوں سے خبردار کرتے ہوئے اسے انسانیت کیلئے ’ ریڈ وارننگ‘ قرار دیا ہے۔دو روز قبل جاری رپورٹ میں ’’اقوام متحدہ کے سائنسدانوں کے مطابق اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انسان دنیا کے ماحول پر بری طرح اثر انداز ہورہے ہیں،جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت میں اضافے کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں‘‘۔آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات میں کہا گیا ہے کہ 2040تک عالمی درجہ حرارت میں 1.5ڈگری تک اضافہ ہوجائے گا اوراگر اگلے چند سالوں میں گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں کی گئی تو درجہ حرارت میں اضافہ 2040سے پہلے بھی ہوسکتا ہے‘‘۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زمین کی سطح کا درجہ حرارت1850سے 1900تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا 2011سے 2020کے درمیان رہا ، اوردونوں ادوار کے درمیان1.09سیٹی گریڈ کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق’’گذشتہ 5برس، سال 1850کے بعد سے تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے‘‘۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق’’حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901سے1971میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے‘‘۔مزید کہا گیا ہے کہ سمندر کی سطح میں اضافے کی بات کی جائے تو اس صدی کے اختتام تک تقریباً 2میٹر اضافے اور سنہ2150 تک 5میٹر اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے’’اس طرح کے نتائج 2100تک سیلاب کے باعث ساحلی علاقوں میں مزید لاکھوں لوگوں کیلئے خطرہ بن جائیں گے‘‘۔IPCCرپورٹ مزید یہ بھی کہتی ہے کہ یہ بات طے ہے ’’ گرمی پڑنا اب عام ہوتا جائیگا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی،سمندر گرم ہوتے رہیں گے‘‘۔رپورٹ میں کہا گیا ہے دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی 90فیصد وجہ انسانی عوامل ہیں، لیکن گرین ہاوس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ رپورٹ کے مطابق جنگلات،مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی،دنیا کو گرمی کی لہر، بارشوںاور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑیگا۔رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے’’اثرات رکنے والے نہیں ہیں، پچھلے 40سال کی غفلت سے اس طرح کی صورتحال پیدا ہونے جارہی ہے،پوری دینا اس سے بچ نہیں سکتی‘‘۔رپورٹ میں یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ حالیہ دس برسوں میںعالمی سطح پر موسمی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔گرمی زیادہ پڑنے لگی ہے، دیہات اور جنگلاتی علاقوں میں بادل پھٹنے لگے ہیں، جنگلات میں اچانک آگ نمودار ہورہی ہے،سردی کبھی زیادہ تو کبھی کم پڑرہی ہے،بارشوں کے موسم بھی تبدیل ہورہے ہیں۔رپورٹ میں بھارت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں 21ویں صدی میں شدید موسمی واقعات رونما ہونگے،شدید گرمی کی لہر میںشدت آئے گی، موسم گرما اورمون سون کے اوقات میں اضافہ ہوگا اور ایسامتواتر طور پر ہوگا۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بحر ہند میں بارش پڑنے کے دورانیہ میں 20فیصد اضافہ ہوگا۔اندازے لگائے گئے ہیں کہ بارشیں متواتر طور پر ہونگی جس سے سیلاب آئیں گے اور مشرقی و مغربی ساحلی پٹی میںسمندری طوفانوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔مزید کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء اور بھارت میں شدید گرمی کی وجہ سے خشک سالی پیدا ہوگی اور قحط بھی پڑنے کا امکان ہے۔موسمیاتی تبدیلوں کے بارے میں کوئی اندازے نہیں لائے جائیں گے اور ترقی پذیر یا ترقی یافتہ ممالک ایک ہی طرح اقتصادی بدحالی کے شکار ہوسکتے ہیں۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ سمندر کی سطح بلند ہونے سے بھارت کے ساحلی شہر چینئی،کوچی،کولکتہ،ممبئی،صورت اور وشاکھا پٹنم میں رہائش پذیر28.6ملین لوگ ساحلی سیلابی خطرات کی زد میں آسکتے ہیں جس سے 4کھرب ڈالر کا نقصان ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی پی سی سی رپورٹ عالمی اقتصادیات اور انسانی وجود کیلئے سخت وارننگ ہے، جن چیزوں کے بارے میں مستقبل میں رونما ہونے کی پیشگوئیاں کی گئی تھیں، وہ بہت جلد ہونے والی ہیں،شدید گرمی کی لہر، مون سون کی بارشوں میں
خلل،بادل پھٹنے اور موسلا دھار بارشیں ہونے اسکی علامتیں ہیں، اور صورتحال اس وقت تباہ کن ہوجائیگی اگر جنوب ایشیائی ممالک فوری طور پر اسکے لئے تیاری نہ کریں۔