سرینگر // رواں برس کے دوران اکتوبر کے مہینے میں تین بار برفباری اور بارشیں ہونے کے بعد وادی بھر میں ریکارڈ توڑ شبانہ سردی کی لہر ہے۔گذشتہ شب وادی میں پہلگام سب سے سرد ترین علاقہ رہا جہاں درجہ حرارت منفی 3.2ریکارڈ کیا گیا جبکہ دراس کرگل میں منفی 13.4درج ہوا۔ امسال اکتوبر کے مہینے میں قریب 13سال بعد سب سے زیادہ سردی ریکارڈ کی جارہی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق سرینگر میں عمومی طور پر اکتوبر میں شبانہ درجہ حرارت تقریباً 7ڈگری رہتا ہے۔ پچھلے سال 27اکتوبر کو 0.1درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا جو 11 برسوں کے دوران اکتوبر کے مہینے میں سب سے کم تھا۔2009میں اکتوبر مہینے میں سرینگر میں منفی 0.1 درجہ حرارت رہاتھا۔سرینگر میں سب سے کم درجہ حرارت منفی 1.7درجہ حرارت 29اکتوبر 1934 ریکارڈ کیا گیا تھا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق 2007 میں پہلگام میں منفی 1.4 درجہ حرارت ریکارڈ کیا تھا جو اب ٹوٹ چکا ہے۔محکمہ کا کہنا ہے کہ یکم نومبر کی شام سے دوئم نومبر کی دوپہر تک بالائی علاقوں میں بارشیں اور برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں دور دور تک بارشیں ہونگی۔محکمہ کا کہنا ہے کہ 5اور 6نومبر کو بھی موسم کی اسی طرح کی صورتحال ہوگی۔اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر مختار احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دراس علاقہ سب سے سرد رہا جہاں گذشتہ شب منفی 13.4درجہ حرارت درج ہوا ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ شب ہی پہلگام میںمنفی 3.2، اننت ناگ میں منفی 0.2، شوپیان میں منفی1.7،لیہہ میں منفی 6.6 کرگل میں منفی 4.4 اور نوبرا میں منفی5.8 درجہ حرارت درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت 2.6ڈگری ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات 2.9 ڈگری تھا۔انہوں نے بتایا کہ قاضی گنڈ میں2.8، کوکرناگ میں2.3، کپوارہ میں 1.1 ،گلمرگ میں 0.0، بارہمولہ میں1.0،کولگام میں 2.0، پلوامہ میں 1.0 اور بانڈی پورہ میں 1.2 درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں برفباری سے سردی کی شدت مزید بڑھے گی تاہم اسکے بعدجموں و کشمیر میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔