بلاشبہ دنیا میںسب سے زیادہ بہتر اورسُکھی معاشرہ وہی ہوتا ہے جس معاشرے کے ہر فرد میں ایک دوسرے کے تئیں دِلی احترام کا جذبہ موجزن ہواور وہی معاشرہ ہمیشہ خوش رہتا ہے جس نے اخلاقی محاسن کو اپنا لیا ہو، ایک اچھا معاشرہ جسم کے مانند ہے،جس کا جو حصہ دُکھی ہے ،اُس کی طرف سب کو دھیان دینا چاہئے۔چنانچہ انسان اپنے معاشرے سے جو اثر لیتا ہے، وہی اثر وہ دوسروں تک پہنچاتا ہے۔گویا جس طرح مقناطیس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اپنی مقناطیسی خاصیت برقرار رکھتا ہے ،اُسی طرح انسانی معاشرے کے افرادبھی اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ بغور جائزہ لیا جائےتوہر فرد کسی نہ کسی حد تک اپنے خاندان، اسکول، برادری، قوم اور ماحول کا ایک چھوٹا عکس ہوتا ہے ،جس نے اُسے تشکیل دیا ہوتا ہے۔
جس سے پتہ چلتا ہے کہ آج کی دنیا صرف تجارت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی نہیں بلکہ عادات، رویوں، خوف اور اقدار کے ذریعے بھی کس قدر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ظاہر ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے خیالات تنہائی میں تشکیل نہیں دیتا ہےبلکہ وہ زبان، تعصب، مہربانی، حوصلہ، بدگمانی، نظم و ضبط اور یہاں تک کہ بے حسی کے ماحول سے بھی بہت کچھ حاصل کرتا ہےاور پھر معاشرتی توانائی کا حامل بن جاتا ہے، جو کچھ معاشرے میں موجود ہوتا ہے، وہی معاشرے کے اکثرا فراد میں دوبارہ ظاہر ہو جاتا ہے،اسی لئے غلط معلومات ، جھوٹے بیانات اور بے جا دعوئوں کا سلسلہ بھی ایک معاشرتی مسئلہ بن جاتاہے۔ جب غلط باتیں عوامی سطح پر معمول بن جائیں تو وہ صرف اسکرینوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ گھروں، کلاس رومز، مجلسوںو محفلوں ، محلوں اور گلی کوچوں میں بھی گفتگو کا زینت بن جاتی ہیں۔ ایک منقسم معاشرہ منقسم افراد کو جنم دیتا ہے اور وہی افراد پھر اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔یہی صورت حال جنگ، تنازع اور جبری نقل مکانی میں بھی نظر آتی ہے۔ جب بچے خوف، غیر یقینی کیفیت اور ٹوٹے ہوئے تعلیمی نظام کے درمیان پرورش پاتے ہیں تو یہ زخم اُن کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ایسے بچے جوان ہو کر بھی اُس ذہنی اور جذباتی بوجھ کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اس طرح معاشرے کی شکستہ حالت فرد میں دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے مقناطیس کی قوت ہر ٹکڑے میں باقی رہتی ہے۔تعلیم کے میدان میں یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ جو معاشرہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہو جائے، وہ صرف ناخواندگی پیدا نہیں کرتا بلکہ اپنے مستقبل کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ جب اسکول تباہ ہوتے ہیں یا تعلیم کا نظام بکھر جاتا ہے تو اعتماد کمزور پڑتا ہے، مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور مایوسی بڑھنے لگتی ہے۔
یوں ایک بچہ ایک نظر انداز کئے گئے نظام کا عکس بن جاتا ہے اور بعد میں پورے معاشرے کو اس کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ یہی اصول امید کی صورت میں بھی کام کر سکتا ہے۔ اچھی اقدار بھی پھیلتی ہیں، اجتماعی ذمہ داری ،ذاتی ذمہ داری میں بدل سکتی ہے۔ جب حکومتیں، منڈیاں، ادارے ، طبقے اوربرادریاں ایک مثبت سمت میں آگے بڑھتی ہیں تو لاکھوں افرادبھی اپنے رویے بدلنے لگتے ہیں۔ مثبت اجتماعی فیصلے مثبت ذاتی عادات کو جنم دیتے ہیں۔ اچھا معاشرتی اثر بھی پورے نظام سے فرد تک منتقل ہو سکتا ہے۔آج کی دنیا میں یہ سبق بے حد اہم ہے، جو قومیں انتہاپسندی، نفرت، بدعنوانی، عدم برداشت یا تشدد سے پریشان ہیں، وہ اکثر نقصان ہو جانے کے بعد صرف افراد کو سزا دینے پر توجہ دیتی ہیں۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم شروع ہی میں کیسا سماجی مقناطیس بنا رہے ہیں؟ اگر بڑے پیمانے پر ثقافت ظلم، خود غرضی اور جھوٹ کو انعام دے گی تو اس کے بہت سے افراد اُنہی صفات کو اپنا لیں گے اور اگر وہ ہمدردی، دیانت، نظم و ضبط اور خدمت کو سراہتی ہے تو یہی خوبیاں بھی معاشرے میں بڑھیں گی۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے اردگرد کی دنیا کی اخلاقی اور سماجی کیفیت کا کچھ نہ کچھ حصہ اپنے اندر لے کر چلتا ہے۔ اسی لئے اصلاح صرف تقریروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اسے گھروں، اسکولوں، میڈیا، اداروں اور عوامی قیادت تک پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہوگا۔ جب بڑے دائرے کی قوت بدلتی ہے، تو چھوٹے حصے بھی بدلنے لگتے ہیںجبکہ انسانی امن کی پرکھ معاشرے میں ہی ہوسکتی ہےاور معاشرے کے مروجہ اصولوں کی خلاف ورزی کا دُکھ صرف کردار کی مضبوطی کے بل پر ہی برداشت کیا جاسکتا ہے۔
����������������