کچھ اس قسم کے میسیج اور وائیرل ویڈیوز سوشل میڈیا پر گاہے بگاہے ہنگامہ کھڑا کرتے رہتے ہیں کہ جہاں بہت سارے سوال پیدا ہوتے ہیں، وہیں ایک سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ خواتین، جن کی پردگی کا یہ عالم تھا کہ ہوائیں ان کے جسم کو چھونے سے عاجز تھیں ،انہیں باپردہ ،با حیا اور پاکدامنی کی دیویوں کا آج یہ عالم کیسے ہوگیا کہ عفت و عصمت حیا اور پاکدامنی کی چادر پھاڑ کر سرعام گھوم رہی ہیں ،اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہی ہیں، اپنے جسم سے لطف اندوز کرنے کے لئے خود کو سب کے سامنے پیش کر رہی ہیں، گویا ان کی حیثیت ایک شاہ راہ عام جیسی ہوگئی ہے ،جس پر جو چاہے چلے خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان۔
ان پاکیزہ اور عفت مآب بناتِ اسلام پر شہوانیت کا ایسا بھوت کیسے سوار ہو گیا کہ انہوں نے اپنی چند لمحوں کی شیطانی شہوت پوری کرنے کے لئے اپنے ماں باپ، اپنے خاندان، اپنے سماج کی عزت کو اپنے پاؤں تلے روندنے کے ساتھ ساتھ اپنے ایمان اور اپنے عقیدے کو بھی تیاگ کر جہنم کے دائمی عذاب کو بھی قبول کرنے پر تیار ہو گئیں۔
آخر ایسا انقلاب کیوں کر ہوا ،اس کی وجوہات کیا ہیں، اس کے اسباب وعوامل کیا ہیں؟جب اس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے تو اس بحث و مباحثہ کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ عورتیں اب بازار میں آنے لگی ہیں، گھر کی زینت اب بازاروں کی رونق بننے لگی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں موبائل آچکا ہے۔ یہی دونوں چیزیں اس فساد کی جڑ ہیں۔ موجودہ فساد کی وجوہات بس انہی دو چیزوں تک محدود ہے،مجھے اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مگر میرے نزدیک وجوہات کا دائرہ انہیں دو تک محدود نہیں ہے بلکہ ان وجوہات میں ایک تیسری وجہ بھی شامل ہے، جس کی طرف سے نظریں پھیر لی جارہی ہیں اور وہ وجہ ہم خود ہیں یعنی گھر کے اصل ذمہ دار مرد حضرات خود بگڑ چکے ہیں۔
کیا اجنبی عورتوں پر نگاہ ڈالنے سے ہم پرہیز کرتے ہیں،اگر اتفاقاً غلطی سے نگاہ پڑ گئی تو فوراً ہم نظریں پھیر لیتے ہیں اور اس نگاہ بد کے انداز پر دل ملامت کرتا ہے،
کیا اجنبی عورتوں یا لڑکیوں سے موبائل فون پر چوری چھپے گفتگو کرنے کو ہم برا سمجھتے ہیں،کیا کبھی کسی لڑکی یا عورت کے فون سے اتفاقی طور پر رابطہ ہوگیا تو فوراً ہم رابطہ منقطع کردیتے ہیں،کیا کسی اجنبیہ کا دل میں تصور آنے کو ہم دل کا زنا سمجھتے ہیں، کیا ہمارے نوجوانوں کے ذہن و دماغ پر شہوت کا بھوت سوار نہیں ہے،کیا یہ رات رات بھر چوری چھپے دوسروں کی بہن بیٹیوں سے فون کے ذریعے زبان اور کان کی زنا کاری میں مشغول نہیں رہتے ہیں؟ یہ سب ایسے سوال ہیں کہ جن کا جواب ملنا مشکل ہے۔
ہاں! یہ تمام برائیاں مسلمان مردوں میں ہیں۔ آج کا ہمارا معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ دینی محفلوں میں بھی نگاہیں بے قابو رہتی ہیں ۔
جس سماج کے مردوں کی ذہنی عیاشی و آوارگی کا یہ عالم ہوگا کیا اس سماج کی بیٹیاں اور عورتیں حیا دار پاکدامن اور اپنی عزت و عصمت کی محافظ ہوں گی؟ جب کسی سماج کے مرد جانور بن جائیں تو اس سماج کی عورتیں بھی تو جانور ہی بنیں گی۔ یاد رکھیں کہ خواتین کا بگاڑ اور فساد مردوں کے فساد اور بگاڑ پر موقوف ہے ۔اگر ہم پاکدامن ہو جائیں تو کیا مجال کہ ہمارے گھر کی عورتیں بےحیائی کے قریب بھی جائیں ۔ اس حقیقت کو ہمارے اور آپ کے اور ساری کائنات کے آخری معلم اور ہادی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے: ’’عفوا تعف نساوٴکم‘‘ ترجمہ: پاک دامن رہو تمھاری عورتیں پاک دامن رہیں گی ۔اسی حدیث کے مضمون کو حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے دیوان میں کچھ اس طرح قلم بند کیا ہے:ترجمہ۔ ’’تم پاکدامنی اختیار کرو ،تمہاری عورتیں حرام کاری سے بچی رہیں گی اور ایسے کاموں سے بچو جو کسی مسلمان کی شان کے لائق نہ ہو۔‘‘
بے شک زنا ایک قرض ہے، اگر تم نے وہ قرض لے لیا تو جان لو کہ اس کو تمہاری اولاد سے وصولا جائیگا ۔آج خود مسلمان مرد کے قدم بہکے ہوئے ہیں ،چوراہوں پر کھڑے ہو کر یہ احساس بھی نہیں رہتا ہے کہ اس راہ سے گزرنے والی خواتین کے ساتھ کہیں خود اپنے گھر کی بھی خاتون نہ ہو، کہیں خود اپنی ہی بہن بیٹی نہ ہو،انہیں احساس کے مرنے کی وجہ سے ملت کی بیٹیوں کے قدم ایسے بہکے کہ ارتداد کا ایندھن تک بن گئے، ایک خدا کو ماننے والی بیٹیاں منکر خدا کے چنگلوں میں پھنس گئیں۔
اس لیے اگر قوم کی بیٹیوں کی ان ناقابل برداشت حرکتوں پر ہمارا دل دکھتا ہے، تو اس کے علاج کی آسان صورت یہی ہے کہ قوم کا ہر مرد، قوم کا ہر فرد پہلے خود اپنے خیالات و تصورات کو پاکیزہ بنائے ،اپنی نگاہ کو پاکیزہ بنائے ،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے، اس کے بعد بقیہ سماجی اصلاح کا پروگرام بنائے۔ کیونکہ مہنگے مہنگے جلسے بہت ہو چکے اور ہوتے بھی رہیں گے،خطابات و بیانات بہت ہوچکے اور ہوتے بھی رہیں گے، مگر ضرورت عمل کرنے کی ہے، اس لئےعملی میدان میں آگے بڑھیں۔
موبائل۔8299579972