سرینگر// اپنی پارٹی نے وادی میں حالیہ ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرار داد پاس کرکے انہیں وحشیانہ قرار دیااور اتحاد اور بھائی چارے کو ہرقیمت پر برقراررکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ایک بیان کے مطابق الطاف احمد بخاری کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں مارے گئے افراد کے ارواح کے ابدی سکون کیلئے دومنٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ قرارداد میں کہاگیاکہ جموں وکشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں نے سماجی تانے بانے کی بنیاد کو ہلا دیاجس کا بظاہر مقصد مختلف طبقوں کے درمیان خوف وڈر اور بد اعتمادی پیدا کرنا ہے جوکہ صدیوں سے بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ قرار داد میں مزید کہاگیا کہ کشمیر کے ہرشہری کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بلالحاظ مذہب ونسل متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے اور ہمارے سماج کے ذمہ دار طبقوں کوتنوع میں اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی پارٹی نے سنیئرلیڈر ان کی کمیٹیاں بھی تشکیل دیں جو متاثرہ کنبوں کے گھر جاکر تعزیت پرسی کے علاوہ اُن کی حفاظت وسلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں کریں گے۔
دلی کے وکیل کی عدالت عظمیٰ سے اپیل
حالیہ ہلاکتوں کا نوٹس لیا جائے
سرینگر//وادی میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے سلسلے میں دلی کے ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت وادی میں اقلیتوں کے قتل کا ازخودنوٹس لیں اور انتظامیہ سے جواب طلب کریں۔ سی این آئی کے مطابق دہلی کے ایک وکیل نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ کشمیر میں ہندو اقلیتوں کے آئے دن ہو رہے قتل کے معاملہ کا ’از خود نوٹس‘ لیا جائے۔ چیف جسٹس این وی رمنا کو لکھے گئے خط میں دہلی کے وکیل ونیت جندل نے کہا’’کشمیر میں آئے دن ملی ٹینٹوں کے ہاتھوں بے گناہ ہندو اور سکھ اقلیتوں کو نشانہ بناکراُن کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے دونوں فرقوں کے لوگ عدم تحفظ اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور وہ سیکورٹی کے ناقص نظام سے بہت ناراض ہیں۔‘‘ جندل نے خط میں کشمیر کے ایک اسکول کے پرنسپل، ایک ٹیچر اور ایک فارماسسٹ کے قتل کا ذکر کیا ہے۔