بانہال//تقریباً تین سو کلو میٹر لمبی جموں سرینگر شاہراہ پر ناشری ٹنل اور بانہال کا سیکٹر سڑک حادثات کیلئے بدنام زمانہ ہے اور فورلین شاہراہ کی ترتیب سے ضلع رام بن کے قریب پچاس کلومیٹر کے سیکٹر سے گذرنے والی شاہراہ کے اس حصے پر خونین سڑک حادثات معمول ہیں اور دریائے چناب اور گہری اور ناقابل رسائی کھائیوں میں گر جانے کے حادثے رام بن ضلع حکام اور ریسکیو عملے کیلئے ہمیشہ ہی سخت چیلنجز لیکر آتے ہیں۔ نیند حرام کرنے والے ان خونین حوادثات کا شکار ہونے والے مسافروں کے بچا کیلئے ضلع انتظامیہ رام بن پولیس ، ایس ڈی آرایف ، فوج ، پیرا ملٹری فورسز اور مختلف انجمنوں سے جڑے رضاکاروں کے درجن بھر گروپ جگہ جگہ اور علاقہ علاقہ بچا کاروائیوں کیلئے ہمیشہ ہی دن رات آپ کو تیار ملیںگے ۔
یہاں انتظامیہ کی بات نہیں ہوگی کیونکہ انہیں سرکاری طور وسائیل کے ساتھ انسانی شہریوں کے تحفظ بچا اور فلاح کی زمہ داریاں ہیں اور بطور سماج ہم سب کو بھی کئی زمہ داریاں ہیں لیکن ضلع رام بن کے سینکڑوں رضاکار اپنی جان جوکھم میں ڈال کر بغیر کسی معاوضے کے انتظامیہ کی مدد کیلئے مختلف رضاکار انجمنوں کے ساتھ کام کرنے والے ایک سو کے قریب رضاکار اپنی جان جوکھم میں ڈال کر عام لوگوں خاص کر جموں سرینگر سڑک کے مسافروں کیلئے خدائی مددگار کے طور اپنا کام انتظامیہ کے شانہ بشانہ انجام دیتے آرہے ہیں۔ پچھلے پچیس تیس سال سے شاہراہ پر بچا کاروائیوں میں ضلع رام بن کے رام بن ،ڈگڈول ، مکرکوٹ، رامسو اور بانہال کے مقامی لوگ اور رضاکار ہمیشہ ہی پیش پیش رہتے آئے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ رضاکار منظم ہوئے اور کئی رضاکار انجمنوں کے ساتھ جڑ کر عوام کی راحت کے کام میں جٹے ہوئے ہیں۔ ضلع رامبن کے تمام ہی رضاکار ہمیشہ ہی سرکاری مشینری اور ضلع اور تحصیل انتظامیہ کے کندھے سے کندھا ملا کر اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ناشری اور جواہر ٹنل کے درمیان رونما ہونے والے سڑک اور دریائے چناب کے حادثات میں بے مشال کام انجام دیتے آرہے ہیں اور اس کے اعتراف میں انہیں بار بار سرکاری تقاریب میں نہ صرف اعزازات سے نوازہ جاتا ہے بلکہ انہیں عوامی پذیرائی بھی حاصل ہے ۔
ان رضاکاروں کو سرکار سے کوئی مالی مدد یا معاونت نہیں ملتی بلکہ یہ اپنا مال اور اپنی جان کے محاورے کے مترادف رضائے اللہ کیلئے مسافروں اور مشکلات سے دوچار لوگوں کی مدد کیلئے ہمیشہ ہی تیار رہتے ہیں اور خبر ملتے ہی مختلف انجمنوں کے نزدیکی علاقے کے رضاکار بچا کاروائیوں کے اپنے مشن کیلئے سڑکوں پر نکل جاتے ہیں۔ قومی شاہراہ کے ساتھ رامبن بانہال سیکٹر میں بڑی بڑی کھائیوں اور دریائے چناب سے زخمیوں اور مردہ افراد نکالنے کیلئے اپنی جان کو دا پر لگانے والے ان رضاکاروں کو ملال ہے کہ رضاکاروں کو ہمیشہ ہی بچا کاروائیوں کے دوران اتنا خطرہ لاحق ہونے کے باوجود بھی ان کا انشورنس تک نہیں کیا گیا ہے اور ہمارے کام کی داد دینے کیلئے انعامات و اعزازات کا دائرہ ضلع رامبن انتظامیہ تک ہی محدود ہے اور اعلی حکام نے کبھی بھی رضاکاروں کی طرف توجہ نہیں دی ہے بلکہ کچھ نامور ادارے اور اب تک کی ریاستی سرکاریں بھی اپنے رضاکاروں کو کوئی مدد فراہم کرنے میں اب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ ضلع رامبن میں کام کرنے والے کئی رضاکار تنظیموں کے زمہ داروں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج کمار سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ رامبن ضلع میں کے رضاکاروں کیلئے ضروری ساز و سامان اور کم از کم تین ایمبولینس گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ انتظامیہ کی کال پر ہر وقت تیار رہنے والے بہادر رضاکاروں کے کام کو۔مذید موثر بنایا جاسکے۔انہوں نے بچا کاروائیوں میں اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کام کرنے والے رضاکاروں کو انشورنس پالیسی کے دائرے میں لانے کی بھی گورنر سے اپیل کی ہے ۔