ناصر شاہؔ۔ سوپور
اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات کو تخلیق کیا ہے،اُن کے چلنے پھرنے کے لئے تمام انتظامات مہیا رکھے اور اُن کا رزق بھی اپنے ذمے لیا ہے۔ان بے شمار مخلوقات میں سے انسان بھی اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک مخلوق ہے۔انسان کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے تھا کہ اسکو اشرف المخلوقات کا شرف عطا کیا ۔صرف انسان ہی کو اللہ تعالیٰ نے سب سے اونچا مرتبہ عطا کیا،شاندار اور عمدگی سے تخلیق کیا۔اللہ ربُّ العزت چاہتا تو انسان کو انسان کے بجائے کوئی اور مخلوق بناتا لیکن یہ اللہ کا ہی کرم ہے کہ اسکو فرش سے عرش تک کا بلند اور بالا مقام عطا کیا۔انسان کی فطرت ہے کہ وہ جس چیز یا کام کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے دن دگنی رات چگنی کرتا ہے۔ محنت اور لگن سے اس کو حاصل کرکے ہی رہتا ہے،اُس کام میں جو دشواریاں اور مصیبتیں اسے درپیش آتی ہیں انکا وہ خندہ پیشانی اور ڈٹ کے مقابلہ کرتا ہے۔اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان بنا مقصد کے کوئی کام انجام نہیں دیتا جب تک نہ اُس چیز یا کام سے اُسے کوئی فائدہ ہو۔
ذرا غور کریں جب ایک انسان بے مقصد کوئی کام انجام نہیں دیتا تو اللہ تعالیٰ انسان کو کیسے بے مقصد پیدا کرتا جب تک نہ اسکا بھی کوئی نہ کوئی مطلب اور غرض تھا۔لیکن بدقسمتی سے انسان نے کبھی غور نہیں کیا کہ میں کیوں اور کس لئے پیدا کیا گیا ہوں اور میرے پیدا کرنے والے کا مقصد کیا ہے۔من مانی میں انسان کو جو اچھا لگتا ہے کرتا ہے خواہ وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہو یا ناپسند اور کبھی اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات کا بغور مطالعہ کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔یہ زمین یہ آسمان یہ چاند یہ تارے، سمندر چشمے، اورجھیل غرض وہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے بنائی ہیں اُنکا اُسنے کبھی ایک دو گھنٹہ سوچا ہے کیا؟صرف کمانے میں مسّت اپنی زندگی کو آگے لے جارہا ہے۔کھانا پینا،چلنا، پھرنا اگر اسی کو آپ زندگی سمجھتے ہیں تو آپ ایک بہت بڑی غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں کیونکہ یہ اوصاف انسانوں اور جانوروں میں مشترک ہیں کہ جانور اور حیوان بھی کھاتے اور پیتے ہیں ۔تو کیا انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔انسان کو اشرفُ المخلوقات کا مرتبہ اس لئے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وشعور جیسی بیش قیمتی نعمت سے نوازا ہے۔جسکی وجہ سے وہ کھرے اور کھوٹے،اچھے اور بُرے،سچ اور جھوٹ میں تمیز کرسکتا ہے اور اپنے خالق حقیقی کے احکامات کی پیروی کر سکتا ہے۔اگر یہ سارے کام انسان نے انجام نہ دے تو وہ جانورانہ زندگی بسر کرتا ہے۔ذراسوچیں! جس خالق کائنات نے ہمیں پیدا کیا ہے کیا ہم وہ سارے کام انجام دیتے ہیں، جنکا اُسنےذکر کیا ہے۔ کیا ہم ان تمام کاموں سے اپنے آپکو روکتے ہیں جن کو کرنے سے اُسنے روکاہے۔انسان صرف کمائی اور مادیت پرستی کو زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔انسان دنیا کو مستقل جگہ سمجھتا ہے جبکہ یہ عارضی ٹھکانے کے سوا کچھ نہیں ہے اور خود بھی بنانے والے نے بتادیا ہے کہ یہ دنیا فانی اور دھوکا ہے اور جس انسان نے خدا کی حدود سے باہر قدم رکھا ،اُس نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔ توپھر کیوں انسان بےحس سا ہوگیا ہے اور بھلائی کا فائدہ معلوم نہ کرکے اس کے کرنے پر قادر نہیں ہوتا؟
اپنی زندگی احسن طریقے اور عیش وعشرت سے گزارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر ہم اپنی زندگی میں اتنے مسّت ہوئے کہ ہمیں اللہ اور اسکے رسول صلى الله عليه و سلم کی پیروی اور احکامات کا خیال نہ رہا تو ضرور ہم خسارے میں ہیں۔انسان کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ کسی بھی حالت و صورت میں اللہ اور اسکے رسول صلى الله عليه و سلم کی پیروی کی جائے، اسکے بغیر انسان کے جینے کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر اسکے بغیر جیا بھی جائے تو انسان زندہ لاش کے سوا دنیا میں اور کوئی نام اور مقام نہیں رکھتا۔یہ بات غور طلب ہے کہ ہمارا بنانے والا کون ہے،اگر ہے تو اسکا مقصد کیا ہے ہمارے پیدا کرنے میں۔ایسےہی بے معنیٰ اور بے مقصد زندگی گزارنے کا کیا فائدہ ۔بقول شاعر ؎
مقصد زندگانی کے خاطر زندگی کو بدلنا پڑے گا،جو بچاتے ہیں خاروں سے دامن، ان کو کانٹوں پہ چلنا پڑے گا۔
مسلمان اگر دن رات سجدے میں رہے گا تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کا احسان پوارا نہیں کرسکتا کیونکہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے ایمان جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے اور اسکے بعد نبی اکرم صلى الله عليه و سلم جیسے عظیم و شفیق پیغمبر کا اُمتی بنایا۔
ہمیں چاہئے کہ اپنی زندگی میں بدلاو لائیں اور اپنی زندگی کا محاسبہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا کمانے میں لگے اور آخرت کی فکر کیے بغیر سانسوں کا بھرم ٹوٹ جاے تو ہم اپنے ربّ کو کیا منہ دکھائیں گے۔یاد رکھئے کہ جب ’شیطان ‘ انسان سے چار باتوں میں سے ایک حاصل کرلیتا ہے ہے تو کہتا ہےکہ مجھے اور کی ضرورت نہیں(۱) اس کا تکبُر کرنا (۲) اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنا (۳) اپنے گناہوں کو بھول جانا (۴) پیٹ بھر کھانا، یہ سب فساد کی جڑیں ہیں ،کیونکہ باقی تینوں باتیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں۔اس سے پہلے دیر ہوجائے، جلد ہی ہمیں اپنے آپ کا محاسبہ کرنا ہے۔پیغام الٰہی اور پیغام نبی آخروزماں صلى الله عليه و سلم کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھیں تاکہ ہم دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب ہوجائیں گے۔
)رابطہ7889583930)
<[email protected]>