سرکار پر 120ہسپتالوں کے 325کروڑ واجب الادا
پرویز احمد
سرینگر //آیوشمان بھارت صحت سکیم کے تحت رجسٹر پرائیویٹ ہسپتالوں نے جموں و کشمیر میں 15اپریل سے کی جانے والی ہڑتال واپس لی ہے۔نیشنل ہیلتھ ایجنسی اور جموں و کشمیر سرکار کی یقین دہانی کے بعد پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن نے آج یعنی بدھ سے شروع ہونے والی ہڑتال کو ملتوی کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 15اپریل سے آیوشمان بھارت صحت سکیم کے تحت ہونے والی جراحیوں کا روکنے کا فیصلہ سرکار کی جانب سے واجب الادا 300کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم نہ ملنے پر لیا گیاتھا ۔ آیوشمان بھارت کے تحت مفت طبی خدمات فراہم کرنے والے120 نجی ہسپتالوں کو پچھلے 2ماہ کے تحت کوئی بھی رقم ادا نہیں کی گئی ہے اور انکے325کروڑ سے زائد کی رقوم واجب الادا ہیں۔ کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ یکم اپریل 2025سے 31مارچ 2026تک پالیسی 8کے تحت سرکار کو مجموعی طور پر 251کروڑ سے زائد کی رقم ادا کرنی تھی تاہم اب تک سرکار نے صرف 65کروڑ روپے ادا کئے ہیں جبکہ 2025کے 190کروڑسے زائد کی رقم ادا کرنی باقی ہے۔ اس کے علاوہ IFCO TOkoانشورنس کمپنی کے 100کروڑ اور بجاج انشورنس نے 35کروڑ روپے بھی ادا نہیں کئے ہیں۔
اس طرح مجموعی طور پر 325کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔جموں و کشمیر پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مسعود احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پچھلے 2ماہ سے نجی ہسپتالوں کو کوئی بھی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے نہ صرف وہ قرض دار ہوگئے ہیں بلکہ ہسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 2سال سے آیوشمان بھارت سکیم چلانے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف ہسپتال مالکان متاثر ہورہے ہیں بلکہ مریضوں کوبھی طبی سہولیات پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ، وزیر صحت اور سٹیٹ ہیلتھ ایجنسی سے اپیل کی ہے کہ وہر قومات کو فوراً وگذار کریں تاکہ وہ گولڈن کارڈ کے تحت ملنے والی طبی خدمات کو مسلسل جاری رکھ سکیں۔