الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر ہر روز ایک نئی خبر ہوتی ہے، مگر کبھی کبھی کوئی خبر ہمیں تڑپا دیتی ہے، دل میں حسرت جگا دیتی ہے اور یاسیت طاری کردیتی ہے۔ حیران نہ ہوں اس خبر کا تعلق کسی سیاست سے نہیں، کسی قتل و غارت سے نہیں، کسی وحشت اور بربریت سے نہیں، کسی دہشت سے نہیں۔ نہ یہ امریکاسے متعلق ہے، نہ چین اور بھارت سے اور نہ ہی افغانستان سے یہ تو بس ایک معصوم سی خبر ہے۔ اس میں کوئی سنسنی کوئی تھرل نہیں، یہ بریکنگ نیوز بھی نہیں اور نہ ہی یہ خبر زبان زدعام ہوئی۔
پھر بھی یہ خبر ہمارے دل سے ہوتی ہوئی دماغ میں جاگزیں ہوئی اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہوئے ہمیں تڑپاتی ہوئی ہمیں حسرت و یاس میں مبتلا کر گئی، یہ خبر ہے ملکِ پاکستان کی کہ اوکاڑہ کے بہادر نگر میں حکومتی سطح پر گدھوں کی فارمنگ شروع کر دی گئی ہے۔ اس سے اعلیٰ قسم کے گدھے تیار کئے جائیں گے اور دوسرے ممالک کو برآمد بھی کئے جائیں گے۔حالانکہ اس قبل بھارت میں بھی گدھوں کی قدرو قیمت بڑھانے اور گدھیوںکی دودھ کی اہمیت، افادیت اورقیمت بتانے پر بھی کافی کچھ منظر عام پر لایا جاچکا ہے۔اس صورت ِ حال میں اب کیا کریں صاحب !نہ دل تڑپنے سے باز آتا ہے، نہ ذہن سوچنے سے تائب ہوتا ہے۔
اب بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ہمارے ذہن میں آنے والی کہ کاش! کاش!! حکومتی سطحوں پر ملک کے بچوں کی بھی کوئی ایسی قسم تیار ہو سکے جو ذہنی، جسمانی، تعلیمی، سماجی اور روحانی طور پر اعلیٰ اور بہترین ہو، اور ہم بھی دنیا کے سامنے فخر سے کہہ سکیں کہ یہ دیکھئے ہمارے ملک کے بیٹے اور بیٹیاں۔ ہمارا روشن مستقبل ،مگر یہاں تو ایک ایسی کھیپ تیار ہو رہی ہے جو تربیت، تہذیب اور اخلاق سے ناآشنا ہے جو تعلیم تو شاید حاصل کر رہی ہے ،مگر علم اور بصیرت سے نابلد ہے۔
کاش ملکی حکومتیں اعلیٰ سطح پر کوئی ایسی کوشش کرتیں، جہاں انسانوں کی اعلیٰ قسم تیار ہو سکے۔ مگر افسوس حکومتیں تو محض گندی سیاست، کرپشن، منافرت ،فسادات،مفادات،اور بہت ساری خرافات میں اُلجھی ہوئی ہیں۔ایک ملک کی کی حکومت، شریف، زرداری، ووٹنگ مشین، یکساں نظام تعلیم اور طلبا اور اساتذہ کے لباس میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے تو دوسرے ملک کی حکومت اپنے یکطرفہ نظریہ ،متکبرانہ موقف اور منفی رویے کے گردِ آب میں غوطہ زن ہے۔اب ذرا غور کریں کہ اُس ملک کے لئےکونسی ضمانت ہے کہ لباس کی تبدیلی اور یکساں نظام تعلیم سے یہ ہجوم ایک تہذیب اور تربیت یافتہ قوم بن جائے گا۔ کیوں کہ سرکاری اسکول جنہیں عرف عام میں ’’پیلے اسکول‘‘ کہا جاتا ہے، وہاں تعلیم کو یقیناً یرقان ہو گیا ہے۔ اساتذہ کی عدم دلچسپی ،متشدد رویوں ،معصوم طلباء کا خوف اور پڑھائی سے بددل ہو جانا کیا کسی بربادی سے کم ہے…؟ اسی طرح اُس ملک کا بھی کیا ہوگا جہاںجمہوریت کے نام پر آمرانہ نظام چل رہا ہےاور اقتدار کی بقا کے لئےشدت پسندی کے ذریعے اقلیتوں کا صفایا کیا جارہا ہےاور اسی لئے ہمیںروزانہ دل دہلا دینے والی روح فرسا دردناک خبریں سنتے اور دیکھتے کو ملتی رہتی ہیں۔ہر دو ملک میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر عوامی احتجاج،انسانی قدروں کی پامالیاں،ناانصافیاں،متشددانہ واقعات،بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات ،خود کشیاںجیسے دردناک واقعات، منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال اور نیٹ کا غیر اخلاقی استعمال یہ سب کیا ہے۔ کیا کسی کو ان میں چھپی تباہی اور بربادی کا ادراک ہے…؟
جس طرح پھولوں اور پودوں کی حفاظت اور نشوونما کے لئے نرسریاں ہوتی ہیں جہاں ان کی دیکھ بھال اور بڑھت کا خیال کیا جاتا ہے۔ جانوروں کےلئے کیٹل فارم، فش فارم، پولٹری فارم اور اب ڈنکی فارم تیار ہیں، جہاں جانوروں کی حفاظت اور اعلیٰ قسم کی تیاری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تو نوجوانوں کے لیےایسا مکتب بھی کوئی شہر میں کھولےجہاںان کو انسان بنایا جائے۔ ایسا انسان جسے سیاہ سفید، اچھا برا خیر شر، جائز ناجائز، حرام و حلال میں فرق کی تمیز ہو۔ جسے انسانیت کا سبق ازبر ہو۔
جو انسان کی تکریم جانتا ہو جو عورت کی عزت اور توقیر پہچانتا ہو، جسے انسانی جان کی حرمت سے آشانی ہو… جو علم کی اہمیت گہرائی اور گیرائی سے باخبر ہو۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو یہ ہمارے جلتے، سلگتے، بکھرتے اخلاق باختہ معاشرے تبدیل نہ ہو جائیں گے۔ اور دراصل ہمیں ایسی ہی تبدیلی کی ضرورت ہے تو کیا ہم حکومتی سطح پر اقدامات کا انتظار کریں گے یا اپنے بچوں اپنے مستقبل کو بچانےکےلئے آگے آئیں گے۔ استاد، طالب علم اور والدین کی تکون کے سارے زاویئے برابر اور متوازن ہو جائیں، تب ہی بہتری کی طرف سفر شروع ہوسکتا ہے۔