خالد بشیر تلگامی
گیٹ پر لگی سنگ مرمر کی تختی دوپہر کی دھوپ میں مدھم سی چمک رہی تھی۔ اس پر کھدا تھا۔
’’القرطاس وِلّا‘‘
یہ نام رحمان صاحب نے برسوں پہلے بڑے شوق سے رکھا تھا۔ اس وقت وہ محکمہ تعلیم سے ریٹائرمنٹ کے قریب تھے اور اپنی عمر بھر کی کمائی اس دو منزلہ مکان پر خرچ کر رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں ہوگا بلکہ نسلوں کو جوڑنے والا ایک آشیانہ بنے گا۔
مگر وقت نے اس یقین پر آہستہ آہستہ گرد بچھا دی۔
اب اس بڑے مکان میں صرف دو آوازیں رہ گئی تھیں۔ رحمان صاحب کی کھانسی اور زہرہ بیگم کی لاٹھی کی ٹک ٹک۔
کبھی یہی صحن بچوں کی دوڑ، قہقہوں اور چنبیلی کی خوشبو سے بھرا رہتا تھا۔ بڑا بیٹا ساجد کینیڈا جا بسا، منجھلا بیٹا عاصم دلی کے ایک بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر ہو گیا اور چھوٹے زاہد نے شہر کے پوش علاقے میں اپنا الگ گھر بنا لیا۔ ابتدا میں فون آتے رہے، پھر مصروفیات بڑھتی گئیں۔ باتیں مختصر ہوتی گئیں اور آخرکار صرف تہواروں تک محدود رہ گئیں۔
ایک شام زہرہ بیگم کے سینے میں شدید تکلیف اٹھی۔ رحمان صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے بار بار فون ملائے مگر کوئی بروقت نہ پہنچ سکا۔ پڑوسی انہیں ہسپتال لے گئے، لیکن وہ واپس گھر نہ آ سکیں۔
زہرہ کے بعد اس مکان کی خاموشی بدل گئی۔
اب رات کو کسی دروازے کے ہلنے سے رحمان صاحب چونک اٹھتے۔ کبھی لگتا زہرہ پانی مانگ رہی ہے، کبھی محسوس ہوتا جیسے پوتے صحن میں کھیل رہے ہیں۔ مگر آنکھ کھلتی تو صرف سناٹا ہوتا۔
صبح چائے کا ایک کپ بنانا بھی ان پر بھاری گزرنے لگا۔
انہی دنوں ان کے پرانے دوست صابر صاحب ملنے آئے۔ وہ کبھی ان کے ساتھ اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہے تھے۔ اب شہر کے ایک تنگ اور نم آلود کمرے میں اکیلے زندگی گزار رہے تھے۔ بیوی کا انتقال ہو چکا تھا اور بیٹا خلیج میں اپنے خاندان کے ساتھ مصروف تھا۔
رحمان صاحب نے دیر تک انہیں دیکھا، پھر دھیرے سے بولے۔
’’صابر… اتنے بڑے گھر میں ایک آدمی کی تنہائی بہت شور مچاتی ہے۔ تم یہاں آ جاؤ۔‘‘
صابر صاحب نے ہچکچاہٹ دکھائی، مگر آخر مان گئے۔
ان کے آنے سے گھر میں زندگی کی ایک مدھم لَو پھر جل اٹھی۔ اب صبح دو کپ چائے بنتے تھے۔ اخبار پر بحث ہوتی۔ کبھی سیاست، کبھی شاعری۔
پھر ایک دن معلوم ہوا کہ ماسٹر شفیع صاحب کو ان کے بیٹوں نے مہمانوں کی سہولت کے لئے اسٹور روم میں منتقل کر دیا ہے۔ حفیظ صاحب سارا دن پارک کے بینچ پر بیٹھے گزارتے تھے کیونکہ بیٹوں نے دکان پر ان کا بیٹھنا ’’غیر ضروری‘‘ قرار دے دیا تھا۔
رحمان صاحب نے صرف اتنا کہا:
’’اگر اس چھت کے نیچے کبھی چار خاندان رہ سکتے تھے، تو چند تنہا بوڑھے کیوں نہیں؟‘‘
چند دنوں بعد شفیع صاحب اور حفیظ صاحب بھی “القرطاس وِلّا” کا حصہ بن گئے۔
پھر اس گھر کا دستور بدل گیا۔
صبح شفیع صاحب کی تلاوت سے ہوتی۔ کچن میں مل کر کھانا بنتا۔ حفیظ صاحب کو پکانے کا شوق تھا، صابر صاحب چاول صاف کرتے اور رحمان صاحب چائے بناتے۔ شام کو برآمدے میں محفل جمتی۔ پرانی غزلیں دہرائی جاتیں، قصے سنائے جاتے، کبھی قہقہے گونجتے، کبھی خاموشیاں ایک دوسرے کا سہارا بن جاتیں۔
ان چاروں کا دکھ ایک تھا، اس لئے ان کی رفاقت بھی سچی تھی۔
اگر کسی ایک کی طبیعت خراب ہوتی تو باقی تین رات بھر جاگتے۔ دوائیاں دیتے، پیشانی دباتے، حال پوچھتے۔
محلے والے اب اس گھر کو پہلے کی طرح ویران نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔
مئی کی ایک شام چاروں بزرگ برآمدے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ حفیظ صاحب نے ابھی ایک لطیفہ سنایا تھا اور صابر صاحب کی ہنسی فضا میں پھیل رہی تھی کہ گیٹ کے باہر ایک ٹیکسی آ کر رکی۔
ساجد اندر داخل ہوا۔
مہنگا سوٹ، ہاتھ میں ٹرالی بیگ، چہرے پر سفر کی تھکن اور آنکھوں میں اجنبیت۔
وہ برآمدے تک آیا اور رک گیا۔
اس کی نظر میز پر پڑی جہاں دواؤں کے پتے، شوگر چیک کرنے والی مشین اور چائے کے کپ رکھے تھے۔ پھر اس نے ان اجنبی بوڑھوں کو دیکھا۔
چند لمحے وہ خاموش کھڑا رہا۔
اس کی نگاہ اچانک برآمدے کے کونے میں رکھی ماں کی خالی کرسی پر جا ٹھہری۔
اس نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔
’’یہ… سب کیا ہے ابّا؟‘‘ اس نے دھیمی مگر سخت آواز میں پوچھا۔
فضا خاموش ہو گئی۔
رحمان صاحب آہستہ سے اٹھے۔
’’آؤ ساجد۔ بتایا کیوں نہیں کہ آ رہے ہو؟‘‘
ساجد نے گردن گھما کر چاروں طرف دیکھا۔
’’میں سمجھا تھا گھر بند پڑا ہوگا… مگر یہاں تو…‘‘
وہ رکا، پھر بےاختیار بول پڑا۔
’’یہ تو اولڈ ایج ہوم لگ رہا ہے۔‘‘
صابر صاحب نے نظریں جھکا لیں۔ حفیظ صاحب خاموشی سے کپ سمیٹنے لگے۔
رحمان صاحب نے کچھ لمحے ساجد کو دیکھا۔ پھر نہایت سکون سے بولے۔
’’بیٹا… یہ اولڈ ایج ہوم آج نہیں بنا۔‘‘
ساجد خاموش رہا۔
رحمان صاحب کی آواز میں شکوہ نہیں تھا، صرف تھکن تھی۔
’’یہ اُس دن بن گیا تھا جب تم سب اپنی اپنی زندگیاں لے کر چلے گئے تھے… اور تمہاری بیمار ماں اس بیس کمروں کے مکان میں میرے ساتھ اکیلی رہ گئی تھی۔‘‘
برآمدے میں ہوا کا ہلکا جھونکا آیا۔
’’فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت یہاں تنہائی رہتی تھی… اب انسان رہتے ہیں۔‘‘
ساجد نے لب بھینچ لئے۔
رحمان صاحب نے صابر صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’یہ لوگ لاوارث نہیں ہیں، ساجد۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اُن کے اپنے وقت سے پہلے غیر ضروری سمجھنے لگے۔ ہم نے ایک دوسرے کو سہارا دے دیا… بس۔‘‘
’’لیکن لوگ کیا کہیں گے؟” ساجد کے لہجے میں کمزوری آ گئی تھی، “ہماری بھی کوئی سوسائٹی میں پوزیشن ہے…‘‘
رحمان صاحب پہلی بار ہلکے سے مسکرائے۔
’’جب تمہاری ماں مر رہی تھی نا… تب سوسائٹی میں سے کوئی نہیں آیا تھا۔‘‘
ساجد کے پاس جواب نہ تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے دھیرے سے کہا:
’’آپ میرے ساتھ کینیڈا چلیں…‘‘
رحمان صاحب نے نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں بیٹا۔ اب میری دنیا یہاں ہے۔‘‘
پھر انہوں نے آہستہ سے چاروں طرف دیکھا۔
برآمدے میں بیٹھے سفید بالوں والے لوگ، چائے کی بھاپ، اذان سے پہلے کی خاموش شام، اور برسوں بعد گھر میں لوٹتی ہوئی زندگی۔
’’یہ مکان بہت پہلے گھر ہونا چھوڑ چکا تھا… ہم نے اسے پھر سے آشیانہ بنایا ہے۔‘‘
ساجد کی نظریں جھک گئیں۔
وہ کچھ دیر خاموش کھڑا رہا، جیسے پہلی بار اس گھر کو دیکھ رہا ہو۔
پھر اس نے آہستگی سے اپنا بیگ ایک طرف رکھا… اور برآمدے میں پڑی خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
حفیظ صاحب نے خاموشی سے اس کی طرف چائے کا کپ بڑھا دیا۔
���
تلگام، پٹن، بارہمولہ، کشمیر
موبائل نمبر؛9797711122