شیخ بلال
اس رات اسپتال کے در و دیوار جیسے سانس روک کر کھڑے تھے۔ آئی سی یو کے باہر سفید روشنیوں کے درمیان وہ لڑکی کانپتی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھی تھی، اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت گھڑی تھی جسے اس نے تحفے کے طور پر دینے کا وعدہ کیا تھا۔
وہ اسے اکثر کہتا تھا، ” تم نا مجھے ایک گھڑی تحفے میں دینا، میں اسے پہن کر ہر لمحہ تمہیں یاد رکھوں گا، میں ہر سیکنڈ تمہیں محسوس کیا کروں گا ۔”
وہ ہنستی اور کہتی، “تمہیں اتنی عادت کیوں ہے بات بات پر گھڑی مانگنے کی؟”
وہ جواب دیتا، “وقت بدل جاتا ہے، مگر تم سے منسلک ایک لمحہ بدل نہیں سکتا۔”
پھر وہ دن آیا، جس دن لمحے ساکت ہوگئے۔
آج اس کے ہاتھوں میں وہ گھڑی تو تھی لیکن جس کے لیے وہ گھڑی تھی وہ آئی سی یو میں موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا، اس کے پاس اب شاید وقت نہیں تھا۔ شب کے اس حصے میں، جب لائٹیں مدھم تھیں اور اسپتال کی راہداریوں میں بس مشینوں کی بیپ سنائی دیتی تھی، وہ موت کی چارپائی پر پڑا ہوا تھا۔
اندر سے کبھی مشینوں کی بیپ تیز ہوتی، کبھی مدھم پڑ جاتی۔ ہر آواز کے ساتھ اس لڑکی کا دل جیسے سینے میں دھڑکنے کی بجائے ٹوٹنے لگتا۔
وہ آئی سی یو کے دروازے کے باہر تھی، وہ رو رہی تھی، کرب سے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہتی جا رہی تھی، “بس ایک بار ملنے دو مجھے، وہ ٹھیک ہو جائے گا، میں اسے اس کا پسندیدہ تحفہ دے دوں گی……..
مگر افسوس اب گھڑی تو تھی، لیکن وقت نہیں تھا ۔ وہ بار بار چیخ کر کہ رہی تھی، “مجھے جانے دو، وہ میرا انتظار کر رہا ہے!”
” وہ دروازے سے ہی چیخنے لگی… تمہیں پتا ہے، میں نے آپ کے لئے آپ کی پسندیدہ گھڑی لائی ہے ، پلیز جاگ جاؤ… دیکھو، تم نے وعدہ کیا تھا، تمہارے ہر وعدے نے مجھے زندہ رکھا، تم نے وعدہ کیا تھا گھڑی لے کر لمبے وقت تک ساتھ رہوگے… اٹھو میں آئی ہوں آپ کا تحفہ بھی لایا ہے۔”
اس کے ہونٹ لرز رہے تھے، مگر جواب میں صرف دل کی دھڑکن دکھانے والی مشین کی بیپ ایک لمبے مسلسل نوٹ میں گم ہوگئی۔ دروازہ کھلا، ڈاکٹر نے سہمے قدموں سے باہر آ کر سر ہلا دیا ۔
گھڑی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گئی اور دو حصوں میں ٹوٹ گئی، شاید وقت بھی اسی لمحے رُک گیا، یا شاید بس اس کے لئے اُس نے اپنی چلتی دھڑکن تھام لی تھی……
وہ زمین پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اس کے آنسو گھڑی کے ڈائل پر جا گرے، جہاں اب صرف ایک شیشہ تھا، اور شیشے میں اس کی ٹوٹی ہوئی امید۔
“تم کہتے تھے، میری باتوں میں سکون ہے…” وہ دھیرے سے بولی، “تو پھر اب یہ خاموشی اتنی تکلیف دہ کیوں ہے؟ میں اب بھی بولتی ہوں… تو جاگ کیوں نہیں رہا” اس کے اردگرد خاموشی گہری ہوتی گئی، مگر کہیں دور، شاید کسی اور جہاں میں، وقت کی سوئی ایک لمحے کو رکی، اور پھر آہستہ آہستہ چل پڑی — بس اس کی دنیا کے بغیر۔
���
گریز بانڈی پورہ، کشمیر
موبائل نمبر؛ 6006796300