عبدالرشید سرشار
آسمان پر کالی گھٹائیں کیا چھائیں، پورے محلے میں ایک جشن کا سا سماں بندھ گیا۔ جنوری کے آخری ایام تھے اور دو ڈھائی مہینوں کے خشک انتظار نے پیاس بڑھا دی تھی۔ لوگ گھروں سے نکل کر یوں آسمان کو تک رہے تھے جیسے کسی بچھڑے ہوئے عزیز کی آمد کی آہٹ مل گئی ہو۔ سردی کی لہر میں ایک عجیب سی تڑپ تھی، مگر بچوں کے چہروں پر عید کی سی مسرت رقص کر رہی تھی۔ ان کے لئے یہ محض موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ کھلونوں، نئے کپڑوں اور برف کی گدیوں کا خواب تھا۔
گھر کے اندر ابو جی کسی جنگی تیاری میں مصروف تھے۔ وہ خاموشی سے کھڑکیوں پر پالیتھین کی تہیں چڑھا رہے تھے، نلکوں کو ٹاٹ سے لپیٹ کر بند کیا جا رہا تھا اور مٹی کے تیل کی کینیاں بھری جا رہی تھیں۔ اصطبل (بھالن) کے لیے ترپال کا انتظام ہو چکا تھا اور چولھے کے گرد کوئلے اور پانی کا وافر ذخیرہ دیکھ کر اطمینان ہوتا تھا۔ کانگڑیاں تو خیر کئی ہفتوں سے سینوں سے لگی تھیں۔
اسی بھاگ دوڑ میں ابو جی اسٹور کے اندھیرے کونے سے ایک عجیب و غریب شے نکال لائے۔ چھ فٹ لمبا بانس کا ایک دستہ، جس کے سرے پر لکڑی کا ایک چوڑا اور بھاری تختہ جڑا تھا۔ ہم بچے اسے دیکھ کر ہنس پڑے، کسی نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ وزنی بلا ہل نہ سکا۔ ہم نے مذاقاً کہا، “ابو جی! کیا پانڈو لوگ اسی سے کرکٹ کھیلا کرتے تھے؟”
ابو جی نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ قصائی کی دکان سے لائی گئی چربی کو پگھلا کر اس دیو قامت آلے کی مالش کرنے لگے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ جب ہم نے دوبارہ پوچھا کہ یہ کیا ہے، تو انہوں نے ایک گہری آہ بھری اور اپنی دھندلائی ہوئی نظریں بوجھل آسمان کی طرف موڑ دیں۔ وہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی تھی، مگر ہم سمجھ نہ سکے۔
پھر بارش شروع ہوئی۔ پہلے بوندیں، پھر موسلا دھار بوچھاڑ۔ کچن سے مٹر بھوننے کی خوشبو اٹھنے لگی، چائے کی بھاپ نے کمروں کو معطر کر دیا اور انگیٹھیوں کی تپش نے پردوں کو بوجھل کر دیا۔
دو دن بعد، بارش کا راگ دھیما پڑا اور روئی کے سفید گالے فضا میں رقص کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کائنات نے سفید چادر اوڑھ لی۔ چوبیس گھنٹوں کی مسلسل برف باری نے ہر شے کو نگل لیا۔ پانچ فٹ برف کی تہوں تلے راستے گم ہو گئے، بجلی نے آخری ہچکی لی اور سڑکیں سنسان قبرستان کا منظر پیش کرنے لگیں۔
تیسرے دن جب سورج نے بادلوں کی اوٹ سے جھانکا، تو چھتوں سے برف کے تودے دھاڑتے ہوئے نیچے گرنے لگے۔ گھروں کے سامنے برف کے ہمالہ کھڑے ہو گئے تھے۔ اب ابو جی میدان میں اترے۔ انہوں نے اپنی کمر کس لی اور اسی “دیو قامت بلے” کو اٹھا کر برف سے نبرد آزما ہو گئے۔
وہ بانس نما آلہ جادوئی تھا۔ ابو جی نے تندہی سے گاؤ خانہ، باتھ روم اور مسجد تک کا راستہ صاف کر دیا۔ گھنٹوں کی محنت کے بعد ان کے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس لکڑی کے بلے پر برف کا ایک ذرہ بھی نہ چپکا۔ وہ چربی کی مالش اسے پھسلن بھرا اور ناقابلِ شکست بنا چکی تھی۔
جب ابو جی تھک کر چائے کی چسکیاں لینے بیٹھے، تو ہم نے موقع غنیمت جان کر اس “ہیرو” کو چھونے کی کوشش کی۔ شور مچا تو ابو جی کی ڈانٹ پڑی۔ ہم نے ہمت جٹا کر پوچھا، “آخر اس کا نام کیا ہے؟”
ابو جی نے اسے ایک پرانی محبت کی طرح دیکھا اور دھیرے سے کہا:
“بیٹا! اسے فیو کہتے ہیں۔ یہ اب ہمارے عہد میں دوبارہ نہیں بنے گا۔ یہ بیسویں صدی کی آخری نشانی ہے، جو ہمیں وقت کے طوفانوں میں راستہ بنانا سکھاتی ہے۔‘‘
ہم خاموش ہو گئے۔ باہر دھوپ چمک رہی تھی، مگر “فیو” کے سائے میں چھپی وہ پرانی داستان ہمارے دلوں میں ایک عجیب سا احترام بھر گئی تھی۔
حالسیڈار ویری ناگ، اننت ناگ ،کشمیر