بلال فرقانی
سرینگر// وادی کشمیر میں شہری پھیلاؤ کے دبائو نے کئی اہم آبی ذخائر کو شدید متاثر کیا ہے، جو حیاتیات، آبی تحفظ اور مقامی معاش پر براہ راست منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ہوکر سر،آنچار اور شالہ بگ سمیت کئی آبی ذخائر میں نامیاتی کاربن، نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور بھاری دھاتوں کی مقدار موجود پائی گئی ہے۔انسانی دباؤ کے نتیجے میں ان آبی ذخائر میں مٹی کی طبعی و کیمیائی خصوصیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس سے مٹی کی زرخیزی میں کمی، نامیاتی مادّے کی مقدار میں بگاڑ اور نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔ کچرے کے بے قابو اخراج اور شہری توسیع کے باعث مٹی میں آلودہ جزیات کی مقدار بڑھ گئی ہے، جس نے ’چھوٹے جراثیمی ‘سرگرمیوںکو متاثر کیا ہے۔ مٹی ککا کٹائو بہت بڑھ گیا ہے ،جس کے نتیجے میں دلدلی نظام کی قدرتی خود بحالی کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور آبی حیات کیلئے موزوں ماحول کو نقصان پہنچا ہے۔محققین کے مطابق سال2019 سے 2021 کے دوران شہری توسیع، کچرے کے بے ضابطہ اخراج اور ماحولیاتی دباؤ سمیت انسانی سرگرمیوں نے وادی کے اہم آبی ذخائر کی مٹی کی صحت کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔زرعی یونیورسٹی کشمیر کے شعبہ انورمنٹل سائنس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عمر اشرف میر کے مطابق ہوکرسر اور آنچار جیسے آبی ذخائر شدید انسانی مداخلت کے شکار ہیں، جہاں تجاوزات، آلودگی، فضلہ کے اخراج اور غیر منصوبہ بند ترقی نے مٹی کی کیمیائی ساخت کو بگاڑ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہوکرسر’ جسے ویٹ لینڈ کی رانی کہا جاتا ہے‘ کا کا رقبہ 1969 میں 18.75 مربع کلومیٹر تھا جو کم ہو کر اب صرف13.75کلومیٹر رہ گیا ہے، جو واضح طور پر تجاوزات کا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر عمر اشرف میر کے مطابق تحقیق میں مٹی کے مختلف سائنسی اشاریوں کا جائزہ لیا گیا جن میں پی ایچ برقی ترسیل (الیکٹریکل کنڈیکٹوٹی )، بلک ڈینسٹی، نامیاتی کاربن، نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور بھاری دھاتوں کی مقدار شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق متاثرہ آبی زمینوں خصوصاً ہوکرسر میں مٹی کا ’پی ایچ‘ معمول سے زیادہ پایا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ مٹی کا قدرتی توازن بگڑ چکا ہے۔ اسی طرح آلودگی کے باعث نمکیات کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے جس سے ’الیکٹریکل کنڈیکٹوٹی‘بلند ہو گئی، جو ماحولیاتی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ ڈاکٹر میر اور ان کے دیگر ساتھیوں حلیمہ بانو، ادریس عطار اور اشرف بٹ کی تحقیق ’’کشمیر وادی کے چار آبی ذخائر میں انسانی سرگرمیوں کے مٹی کی طبعی و کیمیائی خصوصیات پر اثرات کی وضاحت‘‘ کے مطابق 2019 سے 2021 کے دوران ہوکر سر،شالہ بگ،مانسبل اور آنچار کے متاثرہ علاقوں میں مٹی کی بلک ڈینسٹی زیادہ پائی گئی، جس کا مطلب ہے کہ زمین سخت ہو چکی ہے اور اس میں ہوا، پانی اور حیاتیاتی سرگرمیوں کی گنجائش کم ہو گئی ہے۔رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شہری دباؤ کے شکار آبی ذخائر میں’سوئل آرگینک کاربن‘ کی مقدار نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے، جو مٹی کی زرخیزی، جراثیمی سرگرمی اور کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔تحقیق کے مطابق ہوکرسر اور آنچار میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے اہم غذائی اجزاء کی سطح کم پائی گئی، جو پودوں کی نشوونما اور ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کے برعکس شالہ بگ میں یہ اجزا بہتر سطح پر موجود پائے گئے، جس کی وجہ سے وہاں کی قدرتی حالت اور سبزہ کا تحفظ ہے۔رپورٹ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبی ذخائرمیں سیسہ ،کیڈمیم ،زنک، تانبا اور نکل جیسی بھاری دھاتوں کی مقدار زیادہ پائی گئی۔ ڈاکٹر اشرف کے مطابق یہ دھاتیںگاڑیوں، صنعتی فضلہ، گھریلو سیوریج اور زرعی کیمیائی مادوں کے باعث مٹی میں شامل ہو رہی ہیں، جو نہ صرف ماحولیاتی بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ شالہ بگ میں مٹی کے اندر بیکٹیریا اور مفید فنگس کی تعداد زیادہ پائی گئی، جو غذائی اجزاء کی فراہمی اور مٹی کی صحت کیلئے نہایت ضروری ہیں۔ جبکہ ہوکرسر اور آنچار میں یہ حیاتیاتی نظام کمزور ہو چکا ہے، جو ماحولیاتی تنزلی کی واضح علامت ہے۔ ڈاکٹر عمر نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر اپنی وہ قیمتی آبی ذخائر کھو سکتا ہے جو صدیوں سے پانی، پرندوں، زراعت اور مقامی معیشت کی بنیاد رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ آبی زمینوں کا تحفظ دراصل کشمیر کے مستقبل کا تحفظ ہے۔