طارق شبنم
گرمی کا پارہ معمول سے کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بول رہا تھا … آسمان جیسے آگ اگل رہا تھا اور سورج کی آتش افروزکرنیں فضا میں گرم گرم سلاخوں کی مانند لٹک رہی تھیں۔تیز دھوپ کی تمازت سے سڑکوں پر بچھا کول تار پگھل پگھل کر رضائی کی طرح نرم وملائم ہوگیا تھا۔جھلسا دینے والی گرمی کے باعث درختوں کے پتے مرجھا کر جھڑ چکے تھے۔پیاسی زمین بانجھ عورت کی کوکھ کی طرح ویران بنجر ہوچکی تھی۔خشک زمین جگہ جگہ ایسے پھٹی ہوئی تھی جیسے اقلیدس یار یاضی کے کسی ماہر نے زمین کو گوشواروں میں تقسیم کر رکھا ہو۔تجارتی کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا گیس اور سڑکوں پر دوڑ رہی گاڑیوں سے خارج ہونے والا کثیف دھواں ماحول کو اور زیادہ گرم اور غلیظ بنانے میں رہی سہی کسرپوری کر رہا تھا
ننگے اور اونچے فلک بوس پہاڑوں کے دامن میں واقع بہار پور سخت خشک سالی کے سبب تپتے ریگستان کی مانند اُجڑ کر ویران ہو چکا تھا۔یہاں کی آبادی شدید گرمی کے سبب بِن جل کی مچھلیوں کی طرح تڑپ رہی تھی۔گرمی کی شدید تپش سے نڈھال و بدحال لوگ ٹھنڈی چھائوں کی تلاش میں آکر خشک نالے کے کنارے واقعہ بوڑھے چنارکے سائے تلے مردہ لاشوں کی طرح بے سدھ پڑے اپنی تقدیر کو کوس رہے تھے ۔کچھ بزرگ پریشانی و بے قراری کے عالم میں حسرت بھری نگاہوں سے ننگے پہاڑوںکو تکتے ہوئے شدیدگرمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پانی کے شدید قحط کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے تھے جبکہ بُزرگ عورتیں،نازک اندام دوشیزا ئیں اور آسودہ حال گھرانوں کے نوکر چاکر پسینہ بہاتے ہوئے تھوڑا سا پانی حاصل کرنے کے لئے مٹکے اُٹھائے ٹولیوں کی صورت میں خشک نالے کو پار کررہے تھے۔پانی کے اس شدید قحط کے چلتے نالے کے اس پار ایک چھوٹا سا چشمہ ہی بچا تھا جس سے ابھی بھی تھوڑا تھوڑا پانی رواں تھا۔چشمے پر دن رات سخت بھیڑ رہنے کے بمؤ جب اگر چہ یہاں سے تھوڑا سا پانی حاصل کر لینا جوے شیر لانے کے مترادف تھا لیکن بہار پور کے باشندوں کے پاس جسم اور سانس کا رشتہ بر قرار رکھنے کے لئے اس کے سوا دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔
’’ حاجی صاحب… وہ دیکھو بادل چھارہے ہیں‘‘۔
چنار کے نیچے بیٹے بلبیر سنگھ ماتھے پہ آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے ایسے اُچھلا جیسے اس کے ہاتھ کوئی گوہر نایاب لگا ہو۔حاجی صاحب نے اُفق کی طرف نظریں اُٹھائیں تو سورج کے قریب بادل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا آفتابی رنگ میں رنگا نظر آرہا تھا ،جو پل بھر میں غائب ہوگیا۔
’’بلبیر بیٹے… کاش آسمان پر برسنے والے بادل چھا جاتے ،لیکن عرصہ دراز سے خواب میں بھی وہ ابرِ رحمت نظر نہیں آرہے ہیں‘‘۔
حاجی صاحب نے اپنا سر کھجاتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا اور بوڑھے چنار سے ٹیک لگائے خالی خالی نظر وں سے خشک نالے کو ایسی خاموشی سے تکنے لگا جسے مچھلی کا شکاری کنڈی لگا کر خاموشی اختیار کرتا ہے۔
’’ حاجی صاحب… کہاں کھو گئے آپ … خشک نالے کی طرف ایسے گھور گھور کے کیادیکھ رہے ہیں ؟‘‘۔
ماسٹر رتن لال نے حاجی صاحب کے اداس چہرے کو پسینے کے جالے میں لپٹا دیکھ کر فکر مندی کے لہجے میں پوچھا… حاجی صاحب ایک لمبی آہ کھینچ کے یوں گویا ہوا۔
’’ ماسٹر جی… سوچ رہا ہوں کہ میں نے اپنی ساری زندگی اسی بستی میں گزاری ہے۔آج ہم جسے خشک نالے کے نام سے پکارتے ہیں اس میں سال بھر صاف و شفاف پانی کی روانی رہتی تھی اور ہم مزے سے اس میں مچھلیاں پکڑے رہتے تھے۔ہمارے کھیتوں ،باغو ں اور سبزی کی کیاریوں کو سیراب کرکے سال بھر ہر ابھرا رکھنے کے ساتھ ساتھ اس نالے سے پانی کی بڑی مقدار نشیبی جھیل میں گر جاتی تھی لیکن پچھلے چند سالوں سے سب کچھ بدل گیا اور آج ہم پانی تو کیا شبنم کی ایک بوند کے لئے بھی ترس رہے ہیں ۔آخر یہ کن خطائوں کی سزا مل رہی ہے؟‘‘
حاجی صاحب نے افسردہ لہجے میں کہا،شدت جذبات سے اس کی آنکھیں نم ہو ئیں اور گلارندھ گیا۔
’’سب اوپر والے کی مرضی ہے حاجی صاحب …‘‘۔
’’ ماسٹر جی …اوپر والے کی مرضی تو ٹھیک ہے لیکن واہے گرو کی قسم اس میں اپنے ہاتھوں کی کمائی بھی شامل ہے…لیکن اب پچھتا ئے کیا ہو ت جب چڑیا چُک گئی کھیت ۔‘‘
بلبیر سنگھ نے ماسٹر جی کی بات کاٹتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا اور ندامت کے انداز میں ننگے پہاڑوں کو تکنے لگا جبکہ حاجی صاحب اور ماسٹر جی بھی ماضی کی یادوں کی بھول بھلیوں میں کھوگئے۔بہار پور نہایت ہی خوبصورت ،جاذب نظر ،معتدل اور ہر لحاظ سے آباد شاداب علاقہ تھا،جہاں صاف و شفاف پانی کی فراوانی تھی… ہمیشہ بل کھاتی،اچھلتی کو دتی ندیاں اور شرائی شرائی کرتے آبشار گرجتے رہتے تھے… میٹھے پانی کے ابلتے چشمے جھیل اور جھرنے دلوں کو سکون عطا کرتے تھے … اونچی اونچی چو ٹیاں ،کوہسارو سبزہ زار تھے۔ ارد گرد آسمان سے بوس وکنار کرتے ہوئے بلند و بالا پہاڑ انواع و اقسام کے قد آور درختوں سے بھرے پڑے تھے… وقت وقت پر بارشیں اللہ کی رحمت بن گر برستی تھیں…کھیت اور میوہ باغات شاداب و آباد رہتے تھے اور یہاں کے لوگ بے فکر ہوکر نہایت ہی سادگی اور آرام سے زندگی گزارتے تھے… پھر ترقی کا دور آگیا جس کے ساتھ ہی یہاں کی فطری خو بصورتی کا زوال شروع ہوگیا … ترقی کے نام پر ہرے بھرے باغوں کو کاٹ کر بڑے بڑے مشینی کارخانے وجود میں لائے گئے… لہلہاتے کھیتوں پر کنکر یٹ شاپنگ مال اور اونچی اونچی عمارتیں تعمیر ہوگئیں… پہاڑوں کا سینہ چیر کر سڑکیں تعمیر کی گئیں… دیکھا دیکھی اور زیادہ سے زیادہ مال وزر کمانے کی لالچ میںبہار پور کے واسیوں نے بڑی بے دردی سے ہرے بھرے جنگلوں کا صفایا کرکے انہیں ننگے پہاڑوں میں تبدیل کردیا… مادیت کی اندھی دوڑ میں ندی نالوں اور آبشاروں پر قبضہ جماکے بے ہنگم تعمیرات کھڑی کی گئیں اور ان کے بہتے آب شفا میں پاخانوں کی ملاوٹ کردی گئی۔
اسطرح بہار پور میں بے شک حد سے زیادہ ترقی ہوگئی…مال و زر کی فراونی کے ساتھ ساتھ یہاں کے باشندے بڑے بڑے تجارتی کارخانو ں … اونچے رہایشی بنگلوں… مہنگی موٹر کاروں اور دیگر تمام آرام دہ سہولیات کے مالک توبن گئے لیکن فطرت کے ساتھ کھلی دشمنی کے سبب یہاں کا ماحول آلودہ ہوکر زہر ناک بن گیا… خشک سالی کے سائے قہر بن کر بہار پور پر ٹوٹ پڑے… آسمان سے بارشیں برسنا خواب ہوگئیں… کھیت کھلیان اور باغات اُجڑ کر ویران ہوگئے… میٹھے پانی کے چشمے جھیل اور جھرنے آلودہ ہوکر ختم ہوگئے… اچھلتی کو دتی ندیاں اپنی موت آپ مرگئیں… پانی سوکھ گیا اور یہاں کی مخلوق پانی کی شدید قلعت سے تل تل مرنے لگی،اسطرح یہ خوبصورت بستی ویران صحرا کا روپ دھارن کر کے جہنم زار بن گئی۔پانی کے قدرتی ذخایئر نابود ہونے کے بعد یہاں کی آبادی نے اس کے حصول کے لئے گہرے کنوے کھودے لیکن یہ بھی ان کے دردکا درماں نہیں بن سکے زیر زمین پانی کم ہونے کے سبب یہ بھی جواب دے گئے۔
سورج اب مغرب کی کوکھ میں سونے کو بے تاب تھا۔فضا میںتیرتے پنچھی جلدی جلدی اپنے آشیانوں کی اور لوٹ رہے تھے۔گہری سوچوں میں ڈوبے حاجی صاحب کو پیاس کی شدت سے گلے میں کانٹے چبھتے ہوئے محسوس ہوئے تو دفعتاً اس کے دل میں پانی بھرنے کے لئے گئی عورتوں کا خیال آیا جن میں سے اب تک ایک بھی واپس نہیں لوٹی تھی۔ماسٹر رتن لال ،بلبیر سنگھ اور چنار کے نیچے دوسرے لوگ جو پہلے ہی پیاس کی شدت سے نڈھال تھے پانی کے ایک گھونٹ کی تڑپ میں چشمے کے راستے پر بیقراری سے آنکھیں بچھائے بیٹھے تھے کیونکہ بستی کے کسی بھی گھر میں پانی کی ایک بوند بھی موجود نہیں تھی۔حاجی صاحب کے چہرے پر ہر لمحے کے ساتھ تشویش اور تنائو کی لکیریں گہری ہوتی جارہی تھیں کیونکہ چشمے پر لوگوں کی سخت بھیڑ کے سبب حالات اکثر کشیدہ ہوجاتے تھے۔کہیں کچھ انہونی نہ ہوجائے۔حاجی صاحب نے اپنی تشویش سے دوسرے لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے صلاح دی کہ جلدی سے کچھ لوگ چشمے پر جاکر دیکھ لیں کہ آخر ما جرا کیا ہے؟
ماسٹر جی بلبیر سنگھ اور کچھ دوسرے لڑکے چشمے کی طرف نکلے ہی تھے کہ حاجی صاحب کا گھر یلو نوکر ،جس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا ،دوڑتے دوڑتے خشک نالے کو پار کرتے ہوئے ان کے پاس آن پہنچا ۔
’’ حاجی صاحب… ہیرا گام…ہیرا گام …‘‘۔
’ ’ مکھنا… کچھ بتائو تو سہی بات کیا ہے… تمہارا یہ خون کس نے بہایا…؟‘‘
بلبیر سنگھ نے اس کے ماتھے پر پٹی رکھتے ہوئے تیز لہجے میں کہا۔اسی لمحے پانی بھرنے گئی سینکڑوں عورتیں بھی خالی مٹکے لئے بین کرتی ہوئی واپس آگئیں۔
’’زونی … ذراتم تو بتائو کہ اصل بات کیا ہے؟‘‘
حاجی صاحب نے ایک معتبر عورت سے پوچھا ۔
’ ’ حاجی صاحب … ہیرا گام والوں نے آج ہمیں پانی بھرنے سے سختی سے روکا۔وہ کہتے ہی کہ ہم اپنا خون بہائیں گے لیکن بونہ گام والوں کو ایک قطرہ بھی پانی نہیں دینگے۔ہم نے جب مزاحمت کرنا چاہی تو انہوں نے ہم پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کردیا ‘‘۔
’’زونہ ماسی… واہے گرو کی قسم آج ہم ہیرا گام والوں کو سبق سکھا کر ہی رہیں گے ‘‘۔
بلبیر سنگھ نے تیش میں آکر کہا۔
صبر سے کام لوبیٹے… حا جی صاحب نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا۔‘‘
بہار پور بستی دراصل دو حصوں پر مشتمل تھی،ہیرا گام اور بونہ گام ۔دونوں حصوں کے لوگوں کے آپس میں کافی اچھے مراسم تھے ۔محبت میل ملاپ اور بھائی چارہ تھا،رشتہ داریاں دوستیاںتھی لوگ ایک دوسرے کے دکھ سُکھ میں کام آتے تھے لیکن کچھ عرصے سے محض اس پانی کی وجہ سے لوگوں میں دوریاں اور کشیدگیاں بڑھنا شروع ہوگئی تھیں۔ مستورات کے ساتھ ہیرا گام والوں کی اس بدسلوکی کی خبر بستی میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی۔بوڑھے چنار کے پاس مردوزن کی ایک بڑی تعدا د جمع ہوکر اس حرکت کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرنے لگی ۔پیاسے لوگوں کے سر گھومنے لگے اور غصے کی گھنٹیاں بج اُٹھیں۔تیش میں آکر درجنوں لوگ لاٹھیاں اور دوسرے اوزار اٹھا کر چشمے کی طرف چل پڑے جہاں ہیرا پورہ کے لوگ صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہلے ہی تیار کھڑے تھے… دونوں طرف کے لوگوں نے ہوش کھوکر ایک دوسرے حملہ بول دیا… دیکھتے ہی دیکھتے پانی پت کی جنگ چھڑگئی۔رشتہ داریاں ختم ہوگئیں… قرابتیں مٹی میں مل گئیں … دوستیاں دشمنی میں بدل گئیں … لاٹھیوں ،پتھروں ،درانتیوں اور دیگر اوزاروں کے آزادانہ استعمال سے درجنوں مردوزن زخم زخم ہوکے خون میں نہلا کرتڑپنے لگے۔عرصے سے پیاسے خشک نالے کے دہکتے پتھروں کی پیاس انسانی خون سے بجھ گئی۔ننگے پہاڑوں کی اوٹ میں چھپتے سورج کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا جیسے کسی نے ان پہاڑوں کو آگ لگادی ہے۔
���
اجس بانڈی پورہ(193502)کشمیر
موبائل نمبر؛ 9906526432