یہ کہتے ہیں کشمیر مثل ِ باغ جناں ہے، مناظر قدرت کا دشت وبیاباں ہے ، طائرانِ خوش نوا کا آشیاں ہے ، ڈل اور ولر کا پاسباں ہے۔ دل جلے کہتے ہیںنہیں نہیں نہیں ، یہ جھوٹ ہے، سراسر سفید جھوٹ۔ کشمیر زمین ِبے آئین ہے ، قفس ِ آ ہن ہے ، یہاں کے پنچھی بے بال و پر ہیں ، آدم زاد ناشاد وبے آ رام ہیں، بے تقصیر ہوں یا باتقصیر یہاں سب کے سب پابہ زنجیر ہیں ۔ اوپر قدرت نامہربان ہوئی تو پسیاں گرا کے سری نگرجموں شاہراہ ویران وسنسنان کرے، نیچے مہاراج ستیہ پال غصہ ہوئے تو جموں سری نگر شاہراہ بند کروا کے کشمیر بے جان کردیں، اخبارات کو ا شتہارات بند کرواکے قلم کے کمزور سپاہیوں کا نفقہ ونان تک چھین لیں ، کیونکہ حاکم اعلیٰ سے کوئی پُرسش نہیں، کوئی سوال جواب نہیں، کوئی عرض ومعروض نہیں ؎
جنت تمہیں مبارک اے دیس کے جوانو
جہنم ہماری قسمت جہلم کے پاسبانو
ہم کو نہ دو اجازت شاہراہ پہ گر چلیں گے
چاہیں جہاں بھی جاؤ آزادتم مہانو
خیرسورگیہ گبر سنگھ نے کب کا کہہ کے رکھا ہے کہ جو ڈر گیا سمجھو مر گیا۔لو جی فوجی موج منائو! تمہاری حفاظت کا انتظام ہو گیا۔ اب دو دن قومی شاہراہ پر سول ٹریفک پر پابندی لگ گئی ہے۔ اپنے ملک کشمیر میں ایک تاریخی واقعہ گزرا ہے کہ کشمیر سے پولیس والوں کی ایک ٹکڑی کو جموں روانہ ہونا تھا ۔ٹکڑی کے ایک ذمہ دار نے وزیر اعظم سے مودبانہ انداز میں پوچھا :جناب! جان کی امان پائو ں تو عرض کروں ۔ہم تو تیار ہیں پر ہماری حفاظت کا کیا انتظام رہے گا؟ یعنی اب کی بار مودی سرکار نے وردی پوشوں کی حفاظت کا بیڑا اُٹھایا حالانکہ خود وردی پوش ہی سبھوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ مطلب صاف ہے کہ چوکیدار ڈر گیا اور بقول گبر سنگھ جو ڈر گیا سمجھو مر گیا۔
وہ تو کبھی پوچھتے تھے البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے، البتہ ہم کہتے ہیں مودی مہاراج کو غصہ کیوں آتا ہے؟پوچھنے کا مطلب صاف ہے کہ بھائیو اور بہنو بھارت ورش کے چوکیدار کو غصہ کیوں آتا ہے اور غصے میں وہ آر پار ایک ہی سانس میں دس چیتائونیاں دے ڈالتے ہیں کہ چوکیدار بیدار بھی ہے اور ہوشیار بھی۔ گڑ بڑ کرو گے تو گھر میں گھس کر ماروں گا۔اسی بیچ چوکیدار نے اپنی اُڑن طشتریاں بھی سرحد پار کرادیں لیکن ہوا یہ کہ مملکت خدادا والوں نے طیارہ بردار ہی نیچے اُتار دیا کہ بھائی چائے والے نے بھیجا ہے لیکن اپنے یہاں کی لاہوری چائے کچھ زیادہ ہی کڑک ہوتی ہے، ایک کپ پی کر جائو۔ پی کر جائو گے تو سمجھ پائو گے کہ آر کی چائے تیز ہے یا پار کی۔یعنی ایف ۔۱۶ چائے سے ذائقہ بدلتا ہے کہ مگ سے مزہ آتا ہے۔مانا کہ یہ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں، بھلا عمران اور مودی کے جھنجٹ میں ہم کیوں پھنسیں کہ غریب کشمیری کو باہر نکلنے کا راستہ بھی نہ ملے گا ۔یقین نہ آئے تو جان لو اہل کشمیر تو ستر سال سے اس جنجال میں ایسے پھنسے ہیں کہ دمال یا وبال سے کچھ بھی حاصل نہیں ۔خیر اس بات کا ہمیں خوب ملال ہے کہ ہم تو غصے میں چوکیدار کے چہرے کے اُتارچڑھاو بھی دیکھتے رہے اور انتظار بھی کیا کہ گھر میں کب گھسیں گے اور ماریں گے۔ارے بھائی ہم تو بس دیکھتے رہے اور مودی بھکت بھونڈسی ہریانہ میں واقعی گھر میں گھس گئے اور اس قدر مارا پیٹا کہ اندر والے لہو لہان ہو گئے ۔آئو دیکھا نہ تائو ڈنڈے سریاں لے کر حملہ کر ڈالا کہ بس تین چار پر بیسوں ٹوٹ پڑے اور گھر میں گھس کر ایسا مارا کہ سرجیکل اسٹرائک بھی شرما جائے ؎
کشمیر ہے کہیںتو کہیں کانپور ہے
زخموں سے جسم ِبے گنہی چُور چُور ہے
اور پھر مودی سینا نے نیا کمال دکھایا کہ تھانے میں انہی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر بنا ڈالی جو شدید زخمی ہوئے تھے۔وجہ یہ کہ انہوں نے اقدام قتل کیا تھا ۔واہ کیا بات ہے ،ادھر تو شدید زخمی ہونے والے ہی قتل کرتے ہیں ۔پرچی تو داخل ہونی ہی تھی کہ انہیں مار ڈالنے کے لئے بھکت جنوں نے اتنی کوشش کی ۔دوستوں خیر خواہوں کو اکٹھا کیا۔ ڈنڈے جمع کئے ۔ سریاں ساتھ لائیں ۔پھر دیر تک مار پیٹ ایسی کی کہ گمان ہوتا تھا مکئی کوٹ رہے ہیں اور یہ لوگ اس قدر سخت جان کہ مر ہی نہ گئے ۔مر جاتے تو اور بات تھی کہ حسب دستور کنول بردار خوشی مناتے۔مارنے والوں کو کسی جگہ سرکاری محکموں میں نوکری دلواتے یا کہیں نہ کہیں الیکشن لڑواتے ۔گھر میں گھس کر مارنے والوں کا مستقبل تباہ کردیا ۔انہوں نے اس قدر محنت کی لیکن یہ لوگ تو مرے ہی نہیں ۔بھلا ایف آئی آر نہ بنے تو اور کیا ۔ پھر ہمیں اور بھی کچھ راز کھلا کہ واقعی مودی مہاراج گھر میں گھس کر مارنے کا شوق بھی رکھتے ہیں اور تجربہ بھی۔جبھی تو بڈگام میں گرنے والا ہیلی کاپٹر چھ لوگوں سمیت جو مار گرایا تو اپنے ہی میزائل داغ کر ایسا چمتکار کر ڈالا کہ باتونی عیار بھی آنکھیں بند کر کے شرما جائے ۔ بالا کوٹ کے نام پر بڑا چرچا کیا ،مگر بڈگام کا نام بھی نہ لیا کیونکہ یہ تو سرجیکل اسٹرائیک تھی لیکن گھر میں گھس کر نہیں، گھر کے چراغ سے ہی گھر کو آگ لگانے والی بات تھی ۔
ادھر مودی جی کے دست راست امت شاہ کو بھی غصہ آیا ۔گھر میں ہی گھس کر مارگ درشی منڈلی کے استاد محترم کو باہر کا مارگ دکھایا ۔گاندھی نگر کے ان کے سیاسی پشتینی گھر سے ایسے بے دخل کردیا کہ کسی عدالت میں شنوائی نہ ہوئی۔ وہ تو اس عمر میں آنسو بھی نہ بہا سکے کہ آنکھیں خشک ہو چکی ہیں ، پھر بھی بہاتے تو اپنے ہی لوگ نجانے کیا کیا نام دیتے ۔ اسی لئے تو بقول کسے اس روز شام کو ہی یمراج کا فون آیا کیوں نیتا جی اب بھی کوئی بہانہ بچا کیا کہ چلیں۔لوگ کہتے ہیں وہ جو سن بیانوے میں رَتھ کی سواری کی، بابری مسجد کی مسماری کی، اگلے الیکشن کی اُمیدواری کی، ممبئی کے گرد ونواح میں خون سے ماتھوں پر تلک دھاری کی ، دو ہزار بے گناہوں کی آخری تیاری کی اس کا کچھ تو قرضہ چکانا ہے ۔
فقط اپنے مودی مہاراج کو غصہ نہیں آتا ،اپنے ہل والے نیشنلیوں کو بھی بہت غصہ آتا ہے ،جبھی تو قائد ثانی ایک طرف اور ٹویٹر ٹائیگر دوسری طرف غصے سے جل بھن رہے ہیں۔قائد ثانی غصے میں سن سینتالیس میں چلے جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ الحاق مشروط ہے جو مہاراجہ نے ۳ شرائط پر عمل میں لایا ، بھاجپا آر ایس اچھل کود کرنے لگے ہیںاور یہ کہ مودی سرکار ناکام رہی تو پاکستان کا دوار کھول دیا ۔ غصے میں سن تریپن تک کا شور، سن چوہتر کا زور ، سن پچھتہر سے تراسی کا دور، بھول جاتے ہیں۔الہ کرے گا وانگن کرے گا کا نعرۂ دیوانہ بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں ۔’’یی ببس خوش کر‘‘ والا نغمہ ٔ منافقانہ بھی سائڈ میں رکھ دیتے ہیں۔این ڈی اے سے یارانہ بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں۔اپنے ٹویٹر ٹائیگر بھی کم نہیں کہ غصے میں دلی دربار کو ، ناگپوری آہنکار کو، جموں والے کنول بردار کو ، دھمکی دیتے ہیں کہ ۷۰ ۳؍ کو چھیڑا تو ہم تو نہیں چھوڑیں گے کہ اس کے ساتھ چھیڑ خو انی ہم نے ماضی میں بھی کرڈالی، اب بھی کریں گے کیونکہ اس کے ساتھ کھیل کھیل میںمذاق مذاق کرنے کے تمام حقوق ہل برداروں نے بعوض اقتدار پٹے پہ حاصل کرلئے ہیںاور اس نسبت ملک کشمیر ہمیں وراثت میں دیا گیا ہے۔اور تو اور ٹویٹر ٹائیگر کا نیا تماشہ دیکھ کر مودی مہاراج اور غصہ ہوگئے کہ ملک کشمیر والے ایک اور صدر اور ایک اور وزیر اعظم مانگتے ہیں۔کسے نہیں معلوم یہ مانگ اہل کشمیر کے نام پر الیکشن کے وقت ہل بردار کرتے ہیں رہتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ خودمختاری اندرون کی وہ قرار داد تو اس قدر ردی میں چلی گئی کہ اسے سوچھ بھارت ابھیان بھی ڈھونڈ نہ پایا ۔ساتھ میں اگر کبھی یہ مانگ پوری بھی ہوئی تو قائد ثانی صاحب صدر اور ٹویٹر ٹائیگر وزیر اعظم ہوں گے ، یعنی ملک کشمیر کا بٹوارا باپ بیٹے کے درمیان ہی ہوگا۔شجرہ خسرہ انہی کے نام جاری ہوگا، ایک شیخِ کشمیر بنے گا دوسرا شیخ چلی ٔ کشمیر۔ پھر وہ مودی مہاراج سے کہیںگے چلو دیکھتے ہیں کس کی ماں سونا تولے کس کی ماں چاندی۔پہلے ہی تو قائد ثانی نے مودی اینڈ کمپنی کو طعنہ دیا ہے کہ مرکز نے وعدے نہیں نبھائے ۔اپنے قائد ثانی تو ہرگز جھوٹ نہیں بولتے بلکہ کرسی پر ہاتھ رکھ کر جو کچھ بولتے ہیں سچ ہی بولتے ہیں، سچ کے سوا سوال ہی نہیں کچھ بولیں۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے ہی نہیں کہ کبھی دلی دربار نے ملک کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ کیا تھا ،پر پورا نہیں کیا ۔پاور پروجیکٹ واپسی کا وعدہ کیا تو توڑ دیا ۔اس کے مقابلے میں خود قائد ثانی نے وعدے کئے تو برابر نبھائے۔کہا کہ الیکشن کے وقت ۳۷۰؍ کی ٹھمری گائوں گا تو برابر۔باقی وقت میں مورے رام کا بھجن سجائوں گا تو برابر۔ چناوی سبھائوں میں اندرونی خود مختاری کا راگ الاپوں گا تو برابر۔اتنا ہی نہیں اپنے فرزند کو بھی وصیت کرڈالی کہ جو چیزیں دادا جان نے کرسی کے عوض بیچ ڈالی تھیں، ان پر دوبارہ حق جتائو تو کم از کم کرسی واپسی کا چانس بنا رہے گا ؎
ایک لیڈر نے یہ کہا مجھ سے
آج ہم پی کے بے حساب آئے
ایک دفعہ بیٹھنے دو کرسی پر
اس کے بعد آئے تو عذاب آئے
اور اس بیچ کرکٹ کھلاڑی بھی غصے کے سبب گھمبیر نہ رہ سکا۔ٹویٹر ٹائیگر کو ٹویٹر کے ذریعے ہی چیتائونی دے ڈالی کہ جو مائی کا لال جاہ و جلال میں الگ وزیر اعظم مانگتا ہے، وہ مملکت خداداد کے لئے رخت سفر باندھ لے۔دو چار جوڑے کپڑے نہیں بلکہ پوری پوٹلی لے کر چلے کہ ایک وِدھان ، ایک پردھان ، ایک نشان والے شور میں نیشنلی کمزور کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔
غصہ آور سیاست کے درمیان مودی شاہ کے تائو اور ہل والوں کی دیکھا دیکھی قلم دان والوں کی دودھ ٹافی آنٹی بھی پیچھے نہ رہی۔بس اُسے بھی غصہ آگیا اور اس قدر بپھر گئی کہ ببانگ دہل اعلان کر ڈالا کہ دفعہ ۳۷۰؍ ہٹایا گیا تو مرکز اور ریاست کے بیچ رشتہ ختم۔مطلب کبھی جو قطبین کا ملاپ کر ڈالا تھا وہ کاغذ بھی ردی کی نذر کردئے ،یعنی ۳۷۰ ہٹ جانے کی صورت میں فتویٰ جاری ہوگا کہ معاملہ عالمی پنچایت میں دوبارہ پہنچے گا ،پھر تو دلی دربار کی خیر نہیں۔ بھلا اپنا دامن کیسے بچا پائیں گے جب اہل قلم دان کی وکیلانا بحث بھی ہوگی ؎
عذاب آگیا اس پر انتخاب سے پہلے
دکھا دی تعبیر اس پہ خواب سے پہلے
اس بیچ دو سو ادیب اور ایک سو فلم ساز وں کو بھی غصہ آتا ہے تو وہ اپیل کرتے ہیں کہ خدا را نفرت کی سیاست کو ووٹ نہ دو۔اس کے سبب مودی شاہ پرائیویٹ لمیٹڈ کو جوابی غصہ سر چڑھ کے بولتا ہے کہ انہیں معلوم ہے یہ خاموش لیکن پر اثر سرجیکل اسٹرائیک ان ہی کے خلاف ہے کیونکہ شجر ہائے نفرتی سیاست کے پھل تو وہی کھا رہے ہیں ۔
البتہ غصے کے اس موسم میںاپنا پنجہ مار پارٹی کا پپو پاس ہوگیا ۔ واہ جی واہ !اس کے دل میں اہل کشمیر کے لئے پیار ہی پیار اُمڈ آیا،اتنا اُمڈا آیاکہ الیکشن مینی فیسٹو کے مہاساگر میں مشکل سے سما یا ۔اب تو اہل کشمیر خوشی سے ناچیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔افسپا پر نظر ثانی ہوگی، یعنی کوئی بے گناہ شبیر بٹ لیکچرر یا رضوان پنڈت پرنسپل وردی پوشوں کے ہاتھوں نہیں مارا جائے گا ۔ تین رُکنی سفارت کار ملک کشمیر کے دورے پر آئیں گے اور وہی پرانی موٹی کتاب ترتیب دیں گے جو سابق مذاکرات کاروں نے بنائی تھی ۔پھر اہل کشمیر کے منہ میں ایک اور نبات کی ڈلی چوسنے کو رکھی جائے گی ۔ ساتھ میں ملک کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہیں ہوگا ۔ویسے اس کی ضرورت بھی کیا ہے کیونکہ وہ کام تو پپو کی گرینڈ پااور دادی اماں نے بہت پہلے کر رکھا ہے ؎
تن آسانی نہیں جاتی ریا کاری نہیں جاتی
میاں برسوں میں یہ صدیوں کی بیماری نہیں جاتی
…………………….
رابط ([email protected]/9419009169)