ہمارے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد منصور گزشتہ دنوں شعبہ اردو جامعہ کشمیر سےبطورصدر شعبہ سبکدوش ہوئے ۔ آج بظاہر ہم ان کی مر بیانہ تربیت اور مشفقانہ رفاقت سے استفادہ نہیں کر تے مگر انہوں نے ارود زبان و اداب کے حوالے سے ہم میں جو ذوق وشوق اُبھارا ، وہ ہماری زندگیوں کے لئے متاع ِگراں مایہ ہے ۔ آج ہم ان کی علمی ، تدریسی اور ادبی کاوشوں کو تہ دل سے سلام عقیدت پیش کر تے ہیں ۔
اردو زبان وادب کے ماہر ومحقق پروفیسر منصور احمد منصورؔ کے اسم گرامی سے میں جامعہ کشمیر میں داخلہ ہونے سے پہلے ہی شناسا تھا۔ میرے ایک عزیز برادر اعجاز احمد اکثر ان کا ذکر خیر کیا کرتے تھے اور کہتے کہ منصورؔ صاحب شگفتہ اُردو بولتے ہیں ،وہ انکساری،نرم دلی اور اىسى کئی دیگر انسان دوست صفات سے متصف ہیں۔ تب ہی سے ان سے ملنے کا اشتیاق دل میں رہا۔ خدا کاکرنا کہ کچھ عرصہ بعد جامعہ کشمیر کے شعبہ اُردو میں پوسٹ گریجویشن کورس میں میرا ایڈمشن ہوا۔ خوش قسمتی سے اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی منصور صاحب کا صدر شعبہ کی حیثیت سے تقرر ہوا تھا۔ اول اول منصور صاحب سے اگرچہ براہ راست ملاقات کرنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی لیکن کلاس میں ان کے لیکچرز سن کر مجھے ان کی ادیبانہ شان اور مدرسانہ شخصیت کو قریب سے جاننےکا موقع ملا۔ ان کے لہجے میں ہمیشہ متانت رہتی ہےاور تروتازہ مسکراہٹ سے بھری سنجیدگی بھی جھلکتی ہے۔ موصوف خاموش طبع ہیں لیکن یہ خاموشی بھی ان کی گفتگو سے زیادہ پُر اثر اور سوچ و فکر سے لبریز ہوتی ہے۔ ان کاسر جھکا ئے چلنے کا انداز بھی قابل دید ہے ،اسے دیکھ کر مجھےیہ احساس لازماًہوتا رہتا کہ استاد محترم کسی گہری سوچ میں ڈوبےہیں۔ایک دن شعبہ اُردو کی لائبریری میں کتابوں کی اُلٹ پلٹ کر رہا تھا کہ اسی اثنا میں منصور ؔ صاحب تشریف لائے، میں نے ان سے کسی کتاب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بغیر تامل وہ سب کچھ بتا دیا جس کی مجھے احتیاج تھی۔ لائبریری میں موجود کچھ بازاری کتابوں کے بارے میں کہا كرتے :’’ان(بازاری) کتابوں نے تو طلبہ کا ذہن خراب کر کے رکھ دیاہے۔ ‘‘ آپ انتہائی صاف گو، بے خوف اور نڈر ہیں ،سچی بات کہنے سے کبھی نہیں کتراتے۔ کلاس روم میں داخل ہوتے تو چہرے پر ایک دل نواز مسکراہٹ چھائی رہتی لیکن وہ مسکراہٹ ان کی سنجیدہ طبیعت کا پتہ دیتی ہے۔ میں نے ایسی مسکراہٹیں بہت کم دیکھی ہیں کہ جو کسی شخص کی طبیعت و شخصیت کی غماز ہوں۔ فصاحت و بلاغت سے مزین ان کی درسی گفتگو ؤں میں ثقیل الفاظحسن کلام کا رنگ پھیکا کرنے کے بجائے اس میں اور رنگ آمیزی بھر کر کانوں میں رس گھولتے ہیں۔علامہ اقبال پر منصور صاحب کی جو بصیرت افروز گفتگو ایک بار سنی ،وہ آج بھی ذہن کے دریچوں کو وا کرتی ہے۔ لیکچر کےا س جملے میں کہ’’علامہ نے دانشِ حاضر کو حجاب اکبر کہا ہے‘‘ انہوں نے گویا علامہ اقبال کے پورے فلسفہ وفکر کا نچوڑ پیش کیا جو بھولے بھلایانہیں جاسکتا۔ اگرچہ استاد محترم کو کلاس لینے کے مواقع بہت کم ملتے جس کا انہىں بھی احساس دامن گیر رہتا اور بارہا كہتے :’’مجھے اس بات كا بہت ہى افسوس رہتا ہے كہ مىں آپ كو وقت نہىں دے پاتاہوں ۔‘‘، لیکن جب بھی کلاس لیتے تو انتہائی مہذبانہ لب و لہجہ میںعلم و ہنر کے موتی بکھیر دیتے ۔آپ نہ زاہد خشک ہیں نہ بے ہنگم طبیعیت کے مالک بلکہ ایک معتدل مزاج اور ظاہر و باطن میں مطابقت رکھنےو الے انسان ہیں ۔ گفتار ، کردار، وضع قطع ، نشت وبرخاست ، ادب نوازی، علم دوستی کے حوالوں سے ایک پُر کشش شخصیت رکھنےو الے پر وفیسر منصورکی صحت وسلامتی کے لئے دعاگوہوں اور امید رکھتاہوں کہ آپ انشا اللہ اپنی وظیفہ باب زندگی میں علم وادب کی آبیاری کر نے میں بدستور مصررفِ عمل رہیں گے ، خاص کراُرود زبان کی خدمت انجام دینے کا مشن برقرار رکھیں گے ۔